مٹی پلید

میرے ایک دوست جو کہ میرے کلاس فیلو بھی ہیں اور لاہور ایک مسجد میں امامت و خطابت کے فرائض بھی سرانجام دے رہے ہیں الحمد الله

کچھ روز قبل میرے دوست نے اپنے گھر والوں کیلئے تھوڑا سا پھل خریدا ۔ساتھ میں کچھ دوسرے دوست بھی تھے تو انکے اصرار کے سبب ایک فاسٹ فوڈ والی شاپ پر بیٹھ کر کچھ کھانے کیلئے آرڈر دیا۔

اسی جگہ پر ایک صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے کہ جنکی نطر پھل والے شاپر پر پڑ گئی۔

بےساختہ طنزیہ انداز میں میرے دوست کو کہتے ہیں آج تو مولوی کی ختم سے بڑی دھاڑی لگی ہے۔

میرے دوست نے جواب دیا الحمدلله لوگ خود عزت سے دیتے ہیں لیکن آپ جیسے لوگ نا کسی کا تیجا چھوڑتے ہیں نا ساتا اور نا ہی چالیسواں لائن میں لگ کر بھی اگر لنگر لینا بڑے تو اسکو فرض عین سمجھتے ہیں ۔

آگے سے تنقید کرنے والے صاحب کہتے ہیں مولوی صاحب میں کبھی مسجد میں نہیں آیا اور آپ ختم پر آنے کا الزام لگا رہے ہیں ۔

میرا دوست جواب دیتا ہے یہی تو آپ لوگوں کی بدبختی ہے کہ اللہ نے تم لوگوں سے یہ سعادت چھین لی ہے کہ اس کے سامنے حاضری لگوانے کا شرف حاصل کرو۔

خود بھی مسجد نہیں جاتے اور صاحب مسجد پر بھی تنقید کرتے ہو کچھ شرم کرو۔

اتنی بات تھی کہ صاحب تنقید پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے اور اردگرد والی ساری عوام اسکی لاچاری پر ہنسنا شروع کردیتی ہے۔

نتیجہ ۔ اکثر مولوی پر اعتراض کرنے والوں کی حالت اتنی پتلی ہوتی ھے کہ عیدین کی بجائے مسجد کا رخ نہیں کرتے اور دینی علوم سے واقفیت کی تو بات ہی نا کیجئے البتہ مولوی پر اعتراض کرنا اپنے اوپر فرض عین سمجھتے ہیں۔

احمد رضا رضوی