أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَشِحَّةً عَلَيۡكُمۡ ‌‌ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الۡخَوۡفُ رَاَيۡتَهُمۡ يَنۡظُرُوۡنَ اِلَيۡكَ تَدُوۡرُ اَعۡيُنُهُمۡ كَالَّذِىۡ يُغۡشٰى عَلَيۡهِ مِنَ الۡمَوۡتِ‌ ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الۡخَـوۡفُ سَلَقُوۡكُمۡ بِاَ لۡسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الۡخَيۡـرِ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ لَمۡ يُؤۡمِنُوۡا فَاَحۡبَطَ اللّٰهُ اَعۡمَالَهُمۡ‌ ؕ وَكَانَ ذٰ لِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيۡرًا‏ ۞

ترجمہ:

وہ (تمہاری مدد میں) بخیل ہیں ‘ پس جب دشمن حملہ آور ہو تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف ایسے دیکھتے ہیں کہ ان کی آنکھیں گومتی ہیں جیسے ان پر موت کی غشی طاری ہو ‘ پھر جب (جنگ کا) خطرہ ٹل جائے گا تو وہ مال غنیمت کی حرص میں تم سے تیزی اور طراری سے باتیں کریں گے ‘ یہ لوگ ایمان نہیں لائے تھے سو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردیئے اور یہ اللہ پر بہت آسان ہے

الاحزاب : ١٩ میں اسحۃ کا لفظ ہے ‘ یہ شحیح کی جمع ہے ‘ شحیح کا معنی بخیل ہے ‘ مجاہد اور قتادہ نے کہا یہ لوگ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت بخیل ہیں ‘ ایک قول یہ ہے کہ یہ تمہارے لیے ہر قسم کی منفعت میں بخیل ہیں۔ اور جب دشمن سے مقابلہ ہو تو اسوقت یہ سخت بزدل ہیں ‘ عنقریب جب جنگ ختم ہوجائے گی تو یہ بہت تیز اور طررار زبانوں کیخ ساتھ مسلمانوں سے باتیں کریں گے اور مال غنیمت میں سے اپنا حصہ طلب کریں گے ‘ اس وقت یہ اپنی بہادری اور دلیری کی جھوٹی داستانیں سنائیں گے اور اپنی چرب زبانی سے لوگوں کو متاثر کرنے کی کوشش کریں گے ‘ حالانکہ میدان جنگ میں یہ سب سے زیادہ بزدل اور اپنے اصحاب کو تنہا چھوڑ کر بھاگ جانے والے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 19