أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ دُخِلَتۡ عَلَيۡهِمۡ مِّنۡ اَقۡطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الۡفِتۡنَةَ لَاٰتَوۡهَا وَمَا تَلَبَّثُوۡا بِهَاۤ اِلَّا يَسِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اور اگر مدینہ کے چاروں اطراف سے ان پر لشکر حملہ آور ہوتے پھر ان سے شرک طلب کیا جاتا تو وہ ضرور شرک کرلیتے اور وہ اس میں ذرا دیر نہ کرتے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر مدینہ کے چاروں طرف سے ان پر لشکر حملہ آور ہوتے ‘ پھر ان سے شرک طلب کیا جاتا تو وہ ضرور شرک کرلیتے ‘ اور وہ اس میں ذرادیر نہ کرتے اور وہ اس سے پہلے اللہ سے یہ عہد کرچکے تھے کہ وہ میدان جنگ میں پیٹھ نہیں پھیریں گے اور اللہ کے عہد کے متعلق ضرور باز پرس ہوگی آپ کہیے کہ تم کو بھاگنا نفع نہیں دے گا خواہ تم موت سے بھاگو یا قتل سے اور اس وقت تم کو بہت کم فائدہ پہچایاجائے گا آپ کہیے اگر اللہ تم کو مصیبت میں ڈالنا چاہے تو تمہیں اس سے کون بچا سکتا ہے ‘ اور اگر وہ تم پر فضل کرنا چاہے (تو اس کو کون روک سکتا ہے ! ) اور وہ اللہ کو چھوڑ کر اپنے لیے کوئی حامی اور مددگار نہیں پائیں گے (الاحزاب : ١٧۔ ١٤)

جہاد سے بھاگنے والوں کی سرزنش 

الاحزاب : ١٤ میں الفتنہ کا لفظ ہے ‘ ضحاک نے کہا اس سے مراد قتال ہے ‘ اور حسن مجاہد اور قتادہ نے کہا اس سے مراد کفر اور شرک ہے ‘ ضحاک نے جو تفسیر کی ہے اس کے اعتبار سے معنی یہ ہوگا کہ ان کا یہ کہنا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں محض بہنا ہے اگر بالفرض مدینہ کے چاروں طرف سے ان پر لشکر حملہ آور ہوتے ‘ پھر کسی اور جانب سے کوئی اور ان سے لڑنے کے لیے کہتا تو یہ ذرا دیر نہ کرتے اور فوراً ان سے لڑنے کے لیے تیار ہوجاتے ‘ اور مجاہد وغیرہ نے جو الفتنہ کی تفسیر کفر اور شرک سے کی ہے اس کے اعتبار سے معنی اس طرح ہے کہ اگر مدینہ کے چاروں طرف سے ان پر حملہ کیا جاتا پھر ان سے یہ عہد کیا جاتا کہ تمہارے بچنے کی صرف یہ صورت ہے کہ تم کفر اور شرک کی طرف رجوع کرلوتو یہ فوراً کفر اور شرک کی طرف رجوع کرلیتے۔

اس سے پہلے ہم نے ذکر کیا تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کرنے والے بنو حارثہ تھے اور بعض نے یہ کہا ہے کہ وہ بنو سلمہ تھے غزوہ احد میں انہوں نے بزدلی دکھائی تھی پھر انہوں نے توبہ کی اور غزوہ خندق سے پہلے انہوں نے یہ عہد کیا تھا کہ وہ آئندہ میدان جنگ سے نہیں بھاگیں گے ‘ اور حضرت ابن عباس (رض) سے ایک روایت یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے لیلۃ العقبۃ کو مکہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ عہد کیا کہ وہ جس طرح اپنی حفاظت کرتے ہیں اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بھی حفاظت کریں گے ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو جسی وجہ سے غزوہ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے اور ان کو اس کا بہت ملال تھا کہ وہ اس عزت اور کرامت سے محروم رہے جو مجہدین بدر کو حاصل ہوئی تھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 14