قانون ہاتھ میں لیتے ہوئے گستاخِ رسول کو اسی وقت، اسی جگہ پھڑکا دو…………..؟؟

.

عظیم تابعی فقیہ و قاضی حضرت امام لیث بن سعد کہ جن کے بارے میں امام شافعی فرمایا کرتے تھے کہ:

وكان الإمام الشافعي يقول: «اللَّيْثُ أَفْقَهُ مِنْ مَالِكٍ إِلاَّ أَنَّ أَصْحَابَه لَمْ يَقُوْمُوا بِهِ

ترجمہ:

امام شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرمایا کرتے تھے کہ حضرت لیث بن سعد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تو امام مالک سے بھی زیادہ فقیہ و عالم تھے مگر افسوس کہ ان کے شاگر ان کے اقوال و قضایا اور فتاوی جات کو مستقل مذہب کی صورت میں جمع نا کرسکے

(حاشیہ تاویل مختلف الحدیث 1/428)

.

ایسے عظیم تابعی کہ جو امام مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ

سے بھی بڑھ کر تھے انکا فتوی و فیصلہ سنیے……!!

عبارت نمبر ایک:

مَنْ شَتَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِّ الذِّمَّة قَالَ اللَّيْثُ يُقْتَلُ مَكَانَهُ(بالحذف الیسیر)

.

عبارت نمبر دو:

وقال الليث في المسلم يسب النبيﷺ إنه لا يُناظر ولايُستتاب ويُقتل مكانه

.

یعنی:

عظیم فقیہ و قاضی تابعی امام لیث بن سعد رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ فرماتے ہیں جو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرے تو کسی فیصلے ، کسی مناظرے و مباحثے کی ضرورت نہیں، گستاخِ رسول کو اسی وقت ، اسی جگہ قتل کر دیا جائے، گستاخ چاہے مسلم ہو یا غیرمسلم

(دیکھیے , احکام القران للجصاص ، التمھید 6/168)

.

ہم جمھور اہلسنت کا یہی موقف ہے کہ گستاخِ رسول کو عدالت سزائے موت دے

مگر

عدلیہ کی نظر اندازی ، چالبازی ، ایجنٹی ، سستی ہوگی تو لوگ خود بخود لازماً حضرت لیث رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے فتوے پر عمل کریں گے اور دارین میں سرخ رو ہو جائیں گے، ثوابِ جزیل پائیں گے… ان شاء اللہ عزوجل

.

گستاخکاخون_رائیگاں

الحدیث:

ایک عورت صحابی کے سامنے گستاخی کیا کرتی تھی، اسے صحابی نے بہت سمجھایا مگر وہ نا مانی، ایک رات حسبِ عادت گستاخی کر رہی تھی تو صحابی نے اسے قتل کر دیا اور معاملہ رسول کریم تک پہنچا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فیصلہ فرمایا کہ:

«ألا اشهدوا أن دمها هدر

ترجمہ: خبردار سب سن لو……!!بے شک اس (گستاخِ رسول)کا خون رائیگاں ہے

(ابو داؤد حدیث4361)

.

سزا کون دے گا………..؟؟

مرتد گستاخ کی سزا موت ہے مگر یہ موت عدالت جج قاضی دیں گے مگر کسی گستاخ ضدی فسادی کی گستاخی بہت واضح ہو مشھور ہو ضدی ہو یا بار بار ہو یا گستاخ فساد پھیلا رہا ہو تو اسلام مین ایسے کو کؤئی بھی موت دے سکتا ہے.. اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شہر کا بڑا عالم مفتی جو باعمل ہو باشعور اور مستند ہو وہ قاضی کا درجہ رکھتا ہے..

(ثبوت:

احادیث صحاح ستہ و کتب فقہ… فتاوی شامی6./104

بہارِ شریعت حصہ 17 صفحہ761 بحوالہ ردالمحتار

الحدیقہ الندیہ1/351..

الصارم المسلول ص285

فتاوی رشیدیہ رشید احمد گنگوہی دیوبندی ص205)

.

سوال:

اسلام اور پاکستان رواداری کا سبق دیتا ہے….برداشت امن و تحفظ کا درس دیتا ہے…سلمان تاثیر، مشال خان اور پروفیسر حمید کا قتل ,اب طاہر قادیانی کا قتل عدم برداشت نہیں تو کیا ہے….؟ روداری کے خلاف نہیں تو کیا ہے…؟ اظہارِ رائے کی آزادی کے خلاف نہیں تو اور کیا ہے………………؟؟

.

جواب:

دیکھیں ایک حکومت زبردست موٹروے بناتی ہے اور اس پر گاڑی چلانے کے مختلف اصول و پابندیاں طے کرتی ہے

مثلا:

①ٹول ٹیکس دینا ہوگا

②موٹروے کو واضح نقصاں نہیں پہنچانا ہوگا

③گاڑی 120 یا 130 فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز نہیں چلانا ہوگا

④گاڑی اپنی سائیڈ پر چلانی ہوگی

⑤کسی اور موٹروے بنانے والوں کو دخل اندازی کی اجازت نہیں ہوگی….کسی اور موٹروے کے اصول یہاں زبردستی لاگو نہیں ہونگے….بلکہ اس موٹروے کے بانی.و.وارثان کے اصول و قوانین چلیں گے

.

ان پابندیوں کو سب برحق و بہتر سمجھتے ہیں، انہیں رواداری و آزادی کے خلاف نہیں سمجھتے…. ان اصول و پابندیوں کے توڑنے والے کو مجرم کہا جاتا ہے، اسے مختلف قسم کی سزائیں دی جاتی ہیں

اب اگر کوئی ٹول ٹیکس نہ دے یا رفتار بڑھا دے یا اپنی ساٹیڈ سے ہٹ کر گاڑی چلائے اور کہے کہ:

میری گاڑی میری مرضی……..؟؟

کہے کہ:

میری ازادی میری مرضی….؟؟

کہے کہ:

مجھے اصول و پابندیاں منظور نہیں مگر گاڑی پھر بھی چلاوں گا اور حکومت کی پابندی و سزاوں کو رواداری آزادی کے خلاف کہے تو……….؟؟

اپنا ٹریکٹر موٹروے پر ہل سمیت کھروچتا ہوا نقصان پنچاتا ہوا چلائے اور کہے کہ میرا ٹریکٹر میری مرضی…..؟ میری ازادی رواداری میری مرضی…………؟؟

کہے کہ:

موٹروے پر پابندیاں لگانے والے بانی و وارثان کی ایسی تیسی تو…..؟؟

.

ایسا کرنے والے کو حکومت اور معاشرہ کیا کہے گا……؟

اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا….؟

کیا اسے ایسی حرکات کی اجازت ہوگی….؟؟

کیا اسے ایسی ناحق و نقصان دہ آزادی دی جائے گی…….؟؟

کیا اسے موٹروے بنانے والے کی گستاخی کی اجازت دے جائے گی………؟؟

یقینا نہیں……ہرگز نہیں

.

اسی طرح ملک پاکستان اسلام کے لیے بنا ہے اس میں رہنا ہے تو اسلامی پابندیوں اصولوں پر چلنا ہوگا…….میری مرضی میری آزادی نہیں کہنا ہوگا…. شراب جوا سود فحاشی زنا گستاخی کو فروغ نہیں دینا ہوگا…. بانییان اسلام محافظان اسلام کی گستاخی نہیں کرنی ہوگی…. میرا جسم میری مرضی نہیں کہنا ہوگا….میرا جسم میری مرضی کہہ کر فحاشی پھیلانے اسلامی معاشرہ بگاڑنے کی اجازت نہیں ہوگی

.

میری زبان، میرا دماغ، میری آزادی میری مرضی کہہ کر گستاخی و بدعقیدگی ، جوا زنا فحاشی، سیکیولر ازم، مغربیت و الحاد وغیرہ غیراسلامی تہذیب و افکار پھیلانے، اسلامی معاشرے کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہوگی… یہی رواداری ہے یہی پابند شدہ ازادی برحق ہے

.

یہ اسلامی اصول پابندیاں “رواداری و آزادی” کے خلاف نہیں

بلکہ یہی برحق و بہتر رواداری و مفید آزادی ہے……جس میں معاشری کی بھلائی ہے، انفرادی بھلائی بھی ہے اور خالق و بانیان سے وفاداری و اطاعت بھی ہے

.

اگر ہیں منظور اسلامی پابندیاں تو چلو اس ملک میں

اور

اگر پابندیاں نہیں منظور تو اس موٹروے اس اسلامی ملک سے آپ کو دور جانا ہوگا……..ورنہ اصول و پابندیوں کی خلاف ورزی پر سزاء ہوگی، سختی ہوگی، آپ کو مجرم و غدار کہا جائے گا، اپ کی مذمت کی جائے گی….کسی اور ملک کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اس موٹروے پر ایسا کراوئے، جراءم کرائے… معاشرہ بگڑوائے اور اسے انسانی حقوق و ازادی کا نام دے…..ایسا کرنے کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی….یہ غداری و ظلم ہے، دوسروں کی حق تلفی ہے…یہی برحق و لازم ہے

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475