پشاور قتل کیس : شریعت یا جمہوریت
۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: محمد ابوبکر صدیق
لیکچرر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حقائق کیا ہیں سامنے آجائیں گے ۔ اور ہم اپنا موقف بھی دیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر دست ہم ذرا اس سوال کو دیکھتے ہیں کہ جو ایسے واقعات کے پس منظر میں سیکولر طبقہ اور لبرلز عناصر پوچھتے دکھائی دیتے ہیں۔ کہ
“” جی کیا ایسا قتل شرع میں جائز ہے یا اس کا کیا حکم ہے؟””

ہم کہتے ہیں جناب ویسے تو آپ کو شرعی نظام ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ شریعت کا نام آجائے تو آپ لوگوں کے طوطے اڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ایسے موقع پر آپ کو شریعت یاد آجاتی ہے۔ بھاگ بھاگ کر شریعت سے جواب چاھتے ہیں۔ جناب پھر پہلے یہ طے کر لیں کہ شریعت کا نفاذ کیسا رہے گا ؟؟؟

ہم کہتے ہیں ایسے واقعات کا ظہور تمہارے ابلیسی نظام جمہوریت کی وجہ سے ہی ہے۔ جہاں عدلیہ صرف سرمایہ دار اور جاگیر دار اشرافیہ اور مغربی آقاوں کی لونڈی بن کر رہ جاتی ہے۔ ریمنڈ ڈیوس ، آسیہ مسیح اور اب کلبھوشن یادیو جیسے مجرموں کو جمہوری حسن کے دو نمائندے عدلیہ و حکومت مل کر بھگا دیں اور انصاف کا قتل عام کردیں۔ تو ایسے واقعات کا رونما ہونا فطری امر ہے۔ لوگوں کو یقین ہوگیا ہے کہ عدالتیں انصاف دینے سے رہیں لہذا اب جو کرنا ہے ہم نے خود ہی کرنا ہے۔

رہی شریعت کی بات تو سنیں اگر شرعی نظام نافذ ہوتا تو یہ نوبت ہی نہ آتی کیونکہ شرعی نظام ایسے اصولوں پر معاشرے کو چلاتا ہے کہ جہاں ایسے فسادات سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے اور اگر اکادکا ہو بھی جائیں تو انصاف ایسا ہوتا ہے کہ پھر صدیوں تک وہ جرم کرنے سے پہلے محرم ہزار بار سوچتا ہے۔

جمہوری ابلیسی نظام ہے لہذا اس نظام میں ایسے واقعات پر پہلے بھی ایسے ہوا اور آگے بھی ایسا ہی ہوگا ۔ کیونکہ یہ ابلیسی نظام کفر کے گماشتوں کی گندی حرکتوں پر ان کو تحفظ دے گا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی متوالا اٹھ کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت پر کئے گئے حملے کا بدلہ خود لے لے گا۔ عشق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی چنگاری تو کہیں بھی کسی وقت بھی اللہ کسی مومن کے دل میں جگا دے گا خواہ تم دشمن رسول کو کہیں بھی تحفظ دیتے رہو۔

نظام بدلو۔ ورنہ جمہوری شیطان یوں ہی چلے گا۔ اس کا حسین چہرہ صرف کتابوں اور خوابوں میں ہے حقیقت میں یہ اسی طرح بد صورت نظام ہی ہے۔

سیکولر وہ سوال پوچھتے ہیں تو ہمارا سوال بھی ہے کہ اگر جواب شریعت سے چاھیے تو پھر بتائے

کیا شریعت میں عدالتیں اور حکومتیں ایسے ہی کام کرتی ہیں ؟؟؟

اس لئے شریعت کو بخش دی جئے ۔ اس فساد کی جڑیں مذہب نہیں جمہوریت کی کھوکھلی بنیادوں میں تلاش کریں۔