(۳) تقدیر بحر عمیق ہے

۱۳۳۔ عن عبداللہ بن جعفر الطیار رضی اللہ تعالی ٰ عنہ عن أمیر المؤمنین مولی المسلمین علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم اِنہ خطب الناس یوما فقام الیہ رجل ممن کان شہد معہ الجمل ، فقال:یاأمیر المؤمنین !أخبر نا عن القدر ،فقال: بحر عمیق فلا تلجہ ،قال : یا أمیر المؤمنین ! أخبرنا عن القدر، قال : سر اللہ فلا تتکلفہ ، قال : یا أمیر المؤمنین ! أخبرنا عن القدر،قال : أما اذا أبیت فاِنہ أمر بین أمرین،لا جبر ولا تفویض، قال : یا أمیر المؤمنین ! اِن فلانا یقول بالا ستطاعۃ ، وہو حاضر ،فقال : علیّ بہ ،فأقاموہ ،فلما رأہ سل سیفہ قدر أربع أصا بع ، فقال: الاستطاعۃ تملکہا مع اللہ أو من دون اللہ ،و اِیاک أن تقول أحد ہما فترتد فأضرب عنقک ،قال : فما أقول یا أمیر المؤمنین! قال : قل: أملکہا باللہ الذی اِن شآء ملکنیہا۔

ٍ حضرت عبداللہ بن جعفر طیار رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ امیر المؤمنین مولی المسلمین حضرت علی کرم للہ تعالیٰ وجہہ الکریم ایک دن خطبہ فرما رہے تھے ۔ایک شخص نے کہ واقعہ جمل مین امیر المؤمنین کے ساتھ تھے کھڑے ہو کر عرض کی : یا امیر المؤمنین !ہمیں مسئلہ تقدیر سے خبر دیجئے ، فرمایا : گہرا دریا ہے اس میں قدم نہ رکھ،عرض کی : یا امیر المؤمنین !ہمیں خبر دیجئے ، فرمایا : اللہ کا راز ہے ،زبردستی اسکا بوجھ نہ اٹھا ، عرض کی : یا امیر المؤمنین! ہمیں خبر دیجئے، فرمایا : اگر نہیں مانتا تو امر ہے دو ا مروںکے درمیا ن ، نہ آدمی مجبور محض ہے ،نہ اختیا ر اسکے سپرد ہے ۔عرض کی : یا امیر المؤمنین !فلاں شخص کہتا ہے: کہ آدمی اپنی قدرت سے کام کرتا ہے اور وہ حضور میں حاضر ہے ۔مولی علی نے فرمایا : میرے سامنے لائو ،لوگوں نے اسے کھڑا کیا ،جب امیر المؤمنین نے اسے دیکھا، تیغ مبارک چار انگل کے قدر نیام سے نکال لی اور فرمایا : کام کی قدرت کا تو خدا کے ساتھ مالک ہے ، یا خد ا سے جدا مالک ہے ؟اور سنتا ہے ،خبر دا ر! ان دونوں میں سے کوئی بات نہ کہنا کہ کافر ہوجائیگا ،اور میں تیری گردن مار دوں گا ۔اس نے کہا : اے امیر المؤمنین ! پھر میں کیا کہوں ؟ فرمایا : یوں کہہ کہ خدا کے دینے سے اختیا ر رکھتا ہوں کہ اگر وہ چاہے تو مجھے اختیار دے ،بے اسکی مشیت کے مجھے کچھ اختیا ر نہیں ۔

]۱[ امام احمد رضا محدث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں

پس یہ ہی عقیدئہ اہل سنت ہے کہ انسان پتھر کی طرح مجبور محض ہے نہ خودمختار، بلکہ ان دونوں کے بیچ میں ایک حالت ہے ۔جس کی کنہ راز خدا اور ایک نہایت عمیق دریا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی بیشمار رضائیں امیر المؤمنین مولی علی پر نازل ہوں کہ دونوں الجھنوں کو دو فقروں میں صاف فرما دیا۔ایک صاحب نے اسی بارے میں سوال کیا کہ کیا معاصی بھی بے ارادئہ الہیہ واقع نہیں ہوتے؟ فرمایا : تو کیا زبردستی کوئی اسکی معصیت کریگا ۔افیعصی قہراً۔ یعنی وہ نہ چاہتا تھا کہ اس سے گناہ ہو مگر اس نے کر ہی لیا ۔ تو اسکا ارادہ زبردست پڑا۔ معاذاللہ ،خدا بھی دنیا کے مجازی بادشاہوں کی طرح ہوا کہ ڈاکوئوں ،چوروں کا بھتیرا بندوبست کرے پھر بھی ڈاکو اور چور اپنا کام کر ہی گزرتے ہیں ۔حاشا! وہ ملک الملوک بادشاہ حقیقی ہر گز ایسا نہیں کہ بے اسکے حکم اسکی ملک میں ایک ذرہ جنبش کر سکے ۔ وہ صاحب کہتے ہیں:فکا نما القمنی حجرا ،مولی علی نے یہ جواب دیکر گویا میرے منہ میں پتھر رکھ دیا کہ آگے کچھ کہتے بن ہی نہ پڑ ا۔

عمر بن عبید معتزلی کہ بندے کے افعال خدا کے ارادے سے نہ جانتا تھا، خود کہتا ہے : کہ مجھے ایسا الزام کسی نے نہ دیا جیسا ایک مجوسی نے دیا جو میرے ساتھ جہاز میں تھا ۔ میں نے کہا :تو مسلما ن کیوں نہیں ہوتا ؟ کہا: خدا نہیں چاہتا ، میں نے کہا : خدا تو چاہتا ہے، مگر تجھے شیطان نہیں چھوڑتے ۔کہا: تو میں شریک غالب کے ساتھ ہوں ، اسی ناپاک شناعت کے رد کی طرف مولی علی نے اشارہ فرمایا، کہ وہ نہ چاہے تو کیا کوئی زبردستی اسکی معصیت کرے گا ؟ باقی رہا اس مجوسی کا عذر ،وہ بعینہ ایسا کہ کوئی بھوکا ہے ،بھوک سے دم نکلا جاتا ہے،کھانا سامنے رکھا ہے اور نہیں کھاتا ،کہ خدا کا ارادہ نہیں ، اس کا ارادہ ہوتا تو میں ضرور کھا لیتا ۔اس احمق سے یہ ہی کہا جائے گا کہ خدا کا ارادہ نہ ہونا تونے کاہے سے جانا ؟ اسی سے کہ تو نہیںکھاتا ،تو کھانے کا قصد تو کر ،دیکھ تو ارادئہ الہیہ سے کھانا ہو جائیگا۔ ایسی اوندھی مت اسی کو آتی ہے جس پر موت سوار ہےغرض مولی علی نے یہ تو اسکا فیصلہ فرمایا کہ جو کچھ ہوتا ہے بے ارادہ الہیہ نہیں ہو سکتا۔فتاوی رضویہ ۱۱/۱۹۷

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۳۳۔ حلیۃ الالیاء لابی نعیم