أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ۚ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًـا وَّتَسۡلِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور جب مسلمانوں نے الاحزاب ( کفار کے لشکروں) کو دیکھا تو کہا یہ وہ ہے جس کا اللہ اور اسکے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا اور (لشکر کی آمد) نے ان کے ایمان اور انکی اطاعت میں اضافہ ہی کیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب مسلمانوں نے الاحزاب (کفار کے لشکروں) کو دیکھا تو کہا یہ وہ ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا تھا ‘ اور اس (لشکر کی آمد) نے ان کے ایمان اور ان کی اطاعت میں اضافہ ہی کیا مومنوں میں کچھ ایسے (ہمت والے) مرد ہیں ‘ جنہوں نے اس اس عہد کو سچا کر دکھا یا جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا ‘ سو ان میں سے بعض نے (شہید ہو کر) اپنی نذر پوری کردی اور ان میں سے بعض منتظر ہیں ‘ اور نہوں نے (اپنے وعدہ میں) کوئی تبدیلی نہیں کی تاکہ اللہ سچوں کو ان کے سچ کی جزا دے اور منافقوں کو عذاب دے اگر وہ چاہے یا ان کی توبہ قبول فرمائے بیشک اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت مہربانی فرمانے والا ہے (الاحزاب : ٢٤۔ ٢٢ )

غزوۃ الاحزاب کے متعلق اللہ اور اس کے رسول کے وعدہ کے محامل 

جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے دیکھا کہ تمام اقسام کے کافروں کے لشکر متفق اور مجتمع ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حملہ کرنے کے لیے مدینہ میں پہنچ گئے ہیں تو انہوں نے کہا آج یوم خندق کو ہم جس بڑی آزمائش میں مبتلا کیے گئے ہیں اس کی طرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے ہی اشارہ فرمادیا تھا اور وہ اشارہ اس آیت میں ہے :

ام حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یاتکم مثل الذین خلوا من قبلکم ط مستھم الباسآء والضرآء وزلزلوا (البقرہ : ٢١٤)

کیا تم نے یہ گمان کرلیا ہے کہ تم جنت میں داخل ہو جائو گے حالانکہ ابھی تک تم پر ایسی آزمائشیں نہیں آئیں جو تم سے پہلے لوگوں پر آئیں تھیں ‘ ان پر آفتیں اور مصیبتیں پہنچیں اور جھنجھوڑ دیئے گئے۔

علامہ ابو الحیان اندلسی المتوفی ٧٥٤ ھ نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور جنت کے حصول کا یقین تھا ‘ حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اصحاب سے فرمایا تھا ‘ کفار کی جماعتیں نو یا دس تاریخ کو تم پر حملہ کرنے کے لیے جمع ہوں گی ‘ اور جب انہوں نے دیکھا کہ اس مقررہ وقت پر کفار کی جماعتیں حملہ کے لیے پہنچ گئیں تو انہوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ برحق تھا ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود خندق کھود رہے تھے تو پہلی ضرب پر آپ کو شام کے علاقے دکھائے گئے اور دوسری ضرب پر فارس کے علاقے اور تیسری ضرب پر یمن کے علاقے دکھائے گئے اور اس آیت میں اللہ اور رسول کے وعدہ سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو ان علاقوں کی فتوحات ضرور حاصل ہوں گی اور یہ اللہ اور اس کے رسول کا سچا وعدہ ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا کہ مسلمانوں کی مدد کی جائے گی اور مسلمان ان علاقوں کو ضرور فتح کریں گے۔ (البحر المحیط ج ٨ ص ٤٦٧‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 22