غُسل کے مسائل }

مسئلہ : کُلّی یوں نہ کی جائے کہ منہ میں پانی لے کر پِچ کرکے تھوک دیا نہیں بلکہ خوب اچھے طریقے سے منہ میں پانی لے کر پانی کو پورے منہ میں گھمایا جائے پھر غرغرہ بھی کیا جائے ۔

مسئلہ : روزے کی حالت میں غرغرہ کرنے سے پرہیز کیا جائے کیونکہ غرغرہ کرنے سے حلق میں پانی چلا جاتاہے جس سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : ناک میں پانی یوں نہ ڈالا جائے کہ ناک کا سینڈا چلو میں ڈبو کر چھوڑ دیا نہیں بلکہ پانی چُلّو میں لے کر سانس کو اندر لے کر پانی کو کھینچا جائے تاکہ ناک کے نرم حصّے تک پانی پہنچ جائے یہ ضروری ہے ۔

مسئلہ : روزے کی حالت میں احتیاط کی جائے کیونکہ ناک میں پانی لیتے وقت آپ نے سانس اُوپر کھینچی اورپانی اگر دماغ میں پہنچ گیا تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

مسئلہ : پان کھانے والے حضرات اگر فرض غسل کریں تودانتوں میں سے چھالیہ اس قسم کی تما م چیزوں کو نکال دیں اگر چھالیہ دانتوں میں کہیں پھنسی ہے اوروہاں پانی نہ پہنچا توغُسل ادا نہیں ہوگا۔

مسئلہ : ناک میں بھی اگر اندر کوئی غلاظت لگی ہوئی ہوتواُسے بھی نکال دیں کیونکہ اگر غلاظت لگی رہی اور ناک کے اس حصّے پرپانی نہ پہنچا جہاں پانی بہانا ضروری تھا توغُسل نہیں ہوگا۔

مسئلہ : ایک آدمی کا دانت خراب ہے اس میں سوراخ کرکے مصالحہ بچھایا گیا یا اس کو سونے ، چاندی یا تار کے ذریعہ روکا گیا ہے توایسی صورت میں وضو اورغُسل دونوں ہوجائیں گے کیونکہ یہ شرعی ضرورت ہے ۔

مسئلہ :ایک شخص کادانت ٹوٹ گیا کوشش کی جائے کہ ایسا مصنوعی دانت لگایا جائے کہ وضو اورغُسل کرتے وقت اسے نکالا جاسکے کیونکہ دانت ٹوٹا ہوا ہے یا کوئی داڑھ جس سے کھانا نہیںکھا سکتے اس کو ایسا لگائیے کہ اس کے نکالنے سے وضو اورغسل کے وقت کُلّی ہوجائے یہ صحیح طریقہ ہے ۔ لیکن اگر دانتوں کو تار وغیرہ سے باندھا جائے اوریہ ضروری ہوتوپھر اگر اس تار کے نیچے پانی نہ پہنچے تویہ معاف ہے ۔

مسئلہ : کسی شخص کا دانت ٹوٹ گیا اوراُس نے سونے یا چاندی کا مصنوعی دانت مکمل لگایا اوربرابر والے دانتوں میں باندھ لیا اس میںکوئی حرج نہیں ۔

مسئلہ : بعض لوگ خوبصورتی کے لئے اپنے دانت پر سونے اور چاندی کا خول چڑھاتے ہیں اب ظاہر ہے کہ آدمی کے دانت کو خول نے گھیر لیا تواندر پانی نہیں جائے گا ایسی صورت میں غُسل ادا نہیں ہوگا۔

مسئلہ : کپڑے اُتار کر بالکل برہنہ غُسل کرنا جائز ہے جہاں غُسل خانے کا دروازہ نہ ہو وہاں برہنہ غُسل نہ کیا جائے۔

مسئلہ : غُسل کرتے وقت پورا جسم برہنہ ہوتاہے ایسی حالت میں اگر وضو کیا جائے تو وضو ہوجائے گا۔ کیونکہ امام اعظم علیہ الرحمہ کے نزدیک اپنا سِتر عورت اورکسی دوسرے کے سِتر عورت پر بھی نظر پَڑ جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔