أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَنۡ يَّقۡنُتۡ مِنۡكُنَّ لِلّٰهِ وَرَسُوۡلِهٖ وَتَعۡمَلۡ صَالِحًـا نُّؤۡتِهَـآ اَجۡرَهَا مَرَّتَيۡنِۙ وَاَعۡتَدۡنَا لَهَا رِزۡقًا كَرِيۡمًا ۞

ترجمہ:

اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت شعار رہے اور نیک عمل کرتی رہے ‘ ہم اسے اس کا دگنا اجر عطا فرمائیں گے اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت شعار رہے ‘ اور نیک اعمال کرتی رہے ‘ ہم اسے اس کا دگنا اجر عطا فرمائیں گے ‘ اور ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے اے نبی کی بیویو ! تم (عام) عورتوں میں سے کسی ایک کی (بھی) مثل نہیں ہو ‘ بہ شرطی کہ تم اللہ سے ڈرتی رہو سو کسی سے لچک دار لہجہ میں بات نہ کرنا کہ جس کے دل میں بیماری ہو وہ کوئی (غلط) امید لگا بیٹھے اور دستور کے مطابق بات کرنا (الاحزاب ٣٢۔ ٣١)

ازواج مطہرات کو دگنا اجر عطا فرمانا 

الا حزاب : ٣١ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کو جو اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول کی خاطر خشوع اور خضوع کرے گی ‘ اور نیک عمل کرے گی اس کو دگنا اجر ملے گا ‘ خشوع اور خضوع سے مراد یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گی مثلاً نماز پڑھے گی ‘ روزہ رکھے گی ‘ زکوۃ ادا کرے گی اور حج کرے گی ‘ اور نیک عمل سے مراد یہ ہے کہ وہ امور خانہ داری کو اچھی طرح سے ادا کرے گی اور گھر کی بہتری کے لیے گھر کے کام کاج کرے گی تو اللہ تعالیٰ اس کو دگنا اجر عطا فرمائے گا۔

دگنے اجر سے مراد یہ ہے کہ عام مسلمان خواتین کو اللہ تعالیٰ ان کے نیک کاموں پر جتنا اجر عطا فرماتا ہے ازواج مطہرات کو اس سے دگنا اجر عطا فرمائے گا یعنی مسلمان عورتوں کو دس گنا اجر عطا فرمات ہے تو ازواج مطہرات کو بیش گنا اجر عطا فرمائے گا۔

عیش و عشرت اور دنیاوی لذتوں میں غلونہ کرنے کی تلقین 

اور فرمایا ” ہم نے اس کے لیے عزت کی روزی تیار کر رکھی ہے “ اور ہر وہ چیز جو اپنی جنس میں شرف والی ہو وہ کریم ہے ‘ اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ حقیقت میں رزق کریم جنت کی نعمتیں ہیں اور جو شخص جنت کی نعمتوں کا ارادہ کرتا ہے وہ دنیا کی نعمتوں کو ترک کردیتا ہے ‘ اس سلسلہ میں حسب ذیل احادیث ہیں :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو یمن کی طرف بھیجا تو ان سے فرمایا : عیش و عشرت سے بچنا کیونکہ اللہ کے بندے عیش پرستی نہیں کرتے۔(مسند احمد ٥ ص ٢٤٤۔ ٢٤٣‘ حافظ الھیشمی نے کہا اس حدیث کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٢٥٠ )

حضرت ابو امامہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عنقریب میری امت کے کچھ لوگ طرح طرح کے کھانے کھائیں گے ‘ طرح طرح کے مشروبات پئیں گے ‘ مختلف رنگوں کے کپڑے پہنیں گے ‘ ہر قسم کی غیر محتاط باتیں کرتے وہ میری امت کے بدترین لوگ ہوں گے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٧٥١٣۔ ٧٥١٢‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٢٣٧٢‘ حافظ الھیشمی نے کہا اس حدیث کی دونوں سندیں ضعیف ہیں ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٢٥٠ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو عیش پرستی کرتے ہیں اور اسی عیش سے ان کے جسم پلتے ہیں۔ (مسند البز ارقم الحدیث : ٣٦١٦‘ اس کی سند کے ایک راوی میں اختلاف ہے اور باقی راوی ثقہ ہیں ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٢٥٠ )

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دنیا میں سیر ہو کر کھانے والے کل آخرت میں بھوکے ہوں گے۔ (المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١١٦٩٣‘ اس کے ایک راوی میں کلام ہے باقی راوی ثقہ ہیں ‘ مجمع الزوائد ج ١٠ ص ٢٥١۔ ٢٥٠ )

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کسی کو عیش پرستوں پر سختی کرنے والا نہیں دیکھا ‘ اور نہ آپ کے بعد حضرت ابوبکر سے زیادہ ‘ اور میرا گمان ہے کہ اپنے زمانہ میں روئے زمین پر عیش پرستی سے سب سے زیادہ ڈرنے والے حضرت عمر تھے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٧٠‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٤٥٨۔ ٤٦٠٨‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ١٠٣٦٨‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٥٠٠٤)

ان تمام احادیث اور آثار سے مراد وہ لوگ ہیں جو عیش و عشرت میں بہت زیادہ غلو کرنے والے ہوں ‘ اور دنیاوی لذتوں میں منہمک ہو کر یاد خدا اور فکر آخرت کو فراموش کرے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کے اور بندوں کے حقوق ادا نہ کرتے ہوں۔

ورنہ مطلقاً اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ اندوز ہونا منع نہیں ہے بلکہ مطلوب اور مستحسن ہے

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 31