أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اۨلَّذِيۡنَ يُبَـلِّـغُوۡنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَيَخۡشَوۡنَهٗ وَلَا يَخۡشَوۡنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ حَسِيۡبًا‏ ۞

ترجمہ:

جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا اور کسی سے نہیں ڈرتے ‘ اور اللہ حساب لینے کے لیے کافی ہے

انبیاء (علیہم السلام) کے ڈرنے کی حقیقت 

اس کے بعد فرمایا : جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔

انبیاء علہم السلام اللہ تعالیٰ کیعتاب سے ڈرتے ہیں یعنی ان سے کوئی ایسا کام نہ ہوجائے جو اللہ کی مرضی اور اس کی منشاء کے خلاف ہو اور وہ اس پر عتاب فرمائے یعنی نا پسندیدگی کا اظہار فرمائے ‘ اور اولیاء کرام اللہ تعالیٰ کے حجاب سے ڈرتے ہیں ‘ یعنی ان سے کوئی ایسا کام نہ ہوجائے جس کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات کے مطالعہ اور اس کی تجلیات سے محروم ہوں اور ان کے اور اللہ تعالیٰ کے جلوئوں کے درمیان حجاب آجائے اور عام مسلمان اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتے ہیں ‘ خواہ قبر کا عذاب ہو یا حشر کا عذاب ہو یا دوزخ کا عذاب ہو۔

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ‘ حالانکہ وہ بھی اللہ کے غیر سے ڈرتے رہے ہیں ‘ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی اژدھان بن گئی اور وہ اس سے خوف زدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا خدھاولا تخف (طہ : ٢٠) آپ اس اژدھے کو پکڑ لیجئے اور اس سے مت ڈرئیے ‘ اور اسی طرح حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا واخاف ان یا کلہالذئب (یوسف : ١٣) اور مجھے خوف ہے کہ اس کو بھیڑیا کھالے گا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اس کا معنی یہ ہے کہ ان یہ اعتماد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ اور اس کے حکم کے بغیر انہیں کوئی چیز ضرر اور نقصان نہیں پہنچا سکتی ‘ کیونکہ ان کو علم ہوتا ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے ہوتی ہے اور جن بعض واقعات میں انکو غیر اللہ سے ڈر ہوا ان کو وہ ڈر بشری تقاضوں سے عارض ہوا ‘ جیسے ان کا سونا ‘ کھانا ‘ پینا اور ازواج کے ساتھ مشغول ہونا بشری تقاضوں سے تھا اور نہان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب اور اس کی معرفت کا تقاضا تو یہ تھا کہ وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے مشاہدہ میں منہمک اور مستغرق رہتے اور اس کی یاد اور اس کے ذکر کے سوا اور کسی چیز کی طرف متوجہ نہ ہوتے۔

یہی وجہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دنیا میں صرف تین چیزوں کی محبت میرے دل میں ڈالی گئی ہے ‘ خوشبو ‘ عورت اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے (سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٩٤٩) اس کا معنی یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ازخود عورت سے محبت نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کو پورا کرنے کے لیے آپ کے دل میں عورت کی محبت ڈال دی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نکاح میری سنت ہے ‘ اس لیے فقہاء احناف نے کہا کہ نفلی عبادات میں مشغول ہونے سے نکاح کرنا افضل ہے ‘ نیز بغیر عوائق اور موانع کے عبادت کرنے سے افضل یہ ہے کہ انسان کو عبادت سے روکنے کے عوراض اور موانع ہوں اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے جب انسان کے اوپر اہل و عیال کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور اس کے دل میں ان کی محبت ہوتی ہے تو پھر اس کے اوپر فرائض اور واجبات کو ادا کرنا اور محرمات اور مکروہات سے رکنا بہت کٹھن اور مشکل ہوتا ہے ‘ اس لیے شادی شدہ انسان کا اللہ اور رسول کی اطاعت کرنا زیادہ لائق تعریف ہے بہ نسبت مجرد انسان کے ‘ اس لیے فقہاء احناف نے یہ کہا ہے کہ نفلی عبادات میں مشغول ہونے کی بہ نسبت انسان کا نکاح کرنا افضل ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 39