اسلام کےمجرم تحریر: محمداسمٰعیل بدایونی

بستی میں جس نے بھی سُنا اس نے انگلیاں دانتوں میں دبالیں ۔

کیا دور آ گیا ہے ؟چمن بھائی نے بڑبڑاتے ہوئے کہا ۔

ہوا کیا ہے ۔ببن بھیا نے پوچھا ۔

ہوا کیاہے ارے یہ پوچھو کیا نہیں ہوا ؟ چمن بھائی نے پریشانی کے ساتھ کہا ۔

اچھا چلو یہ بتا دو کیا نہیں ہوا ؟۔ببن بھیا نے بھولپن سے کہا ۔

چمن بھائی نے گھور کر ببن بھیا کو دیکھا اور کہا : مقدمہ ہو گیا ہے مقدمہ ۔

ارے کس پر مقدمہ ہو گیا ہے؟ کس نے کر دیاہے ؟ کیوں کر دیا ہے ؟ کیوں مستقل پہلیاں بھجوائے جا رہے ہو۔ ببن بھیا نے زچ ہو تے ہوئے کہا ۔

ارے ایک انگریز نے مسلمانوں کے خلاف مقدمہ درج کر دیا ہے ۔۔۔چمن بھائی نے بتایا ۔

ارے یہ تو تب کی بات ہو گی جب انگریز بر صغیر میں حکومت کیا کرتاتھا ۔ببن بھیا نے اپنی سائیکل پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔

چمن بھائی نے ببن بھیا کی ذہنی حالت کو شکی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے کہا : جی نہیں ابھی ابھی کی خبر ہے ۔

کیا کہہ رہے ہیں چمن بھائی! کیا سورج آج مشرق کے بجائے مغرب سے نکلا ہے ؟

ہمارے ملک میں رہتے ہیں اور ہم پر ہی مقدمہ ؟ یعنی ہماری بلی اور ہم ہی کو میاؤں ۔ببن بھیا نے جذباتی ہو تے ہوئے کہا ۔

لیکن سُنا ہے ساری دنیا کا میڈیا اس مقدمے کو خصوصی اہمیت دے رہاہے سارے اخبارات اور چینل والے کل صبح سویرے ہی عدالت پہنچ جائیں گے ۔چمن بھائی نے بتایا ۔

ارے یہ میڈیا بھی اور سب ، مسلمانوں اور اسلام کے دشمن جو ہیں ۔ببن بھیا کی جذباتیت قائم تھی پھر ببن بھیا کو خیال آ یا کہ وہ یہ تو پوچھیں کہ آخر اس نے مقدمہ کیا کیا ہے اور پھر انہوں نے چمن بھائی سے پوچھا

لیکن چمن بھائی ! مقدمہ ہے کیا آ خر ؟ببن بھیا نے پوچھا ۔

مقدمہ بڑا عجیب ہے اس کا کہنا ہے’’ بستی کے مسلمان اسلام کے مجرم ہیں ‘‘چمن بھائی نے بتایا تو ببن بھیا کے ماتھے پر مزید بل پڑگئے ۔

ارے اس انگریز کے کے بھیجے میں بھیجہ بھی ہے کہ نہیں بھلا مسلمان اسلام کے مجرم کیسے ہو سکتے ہیں ؟ مسلمان اسلام کو مانتے ہیں ۔۔۔اسلام سے محبت کرتے ہیں ۔۔۔اسلام کو چاہتے ہیں ۔۔۔اسلام کی ترویج و اشاعت میں دن رات لگے رہتے ہیں بھلا مسلمان بھی اسلام کے مجرم ہو سکتے ہیں ۔۔۔ ببن بھیا نے جذباتی انداز میں کہا ۔

اب یہ تو کل ہی پتہ چلے گا ۔چمن بھائی نے کہا ۔

دوسرے دن بستی کے تمام لوگ کچہری کے باہر جمع تھے سارا میڈیا بھی آیا ہوا تھا ۔

عدالت میں بیٹھے قاضی نے انگریز سے پوچھا ۔

مقدمہ کیاہے اور آپ کا وکیل کہاں ہے ؟

انگریز : میں اپنا مقدمہ خود لڑوں گا اور میرا مقدمہ یہ ہے کہ میں بستی کے تمام مسلمانوں کو اسلام کا مجرم سمجھتا ہوں انہیں سزا دی جائے ۔

جج : بھئی بستی کے مسلمان اسلام کے مجرم مگر کیسے ؟

ببن بھیا :ارے اس انگریز کا دماغ خراب ہو گیا کہ جو یہ کہے گا وہ مان لیا جائے اور مسلمانوں کو سزا دے دی جائے ۔

چمن بھائی : ارے ببن بھیا ! تم چھری تلے دم تو لینے دو مقدمہ تو دیکھو کیا چل رہاہے ۔

آرڈر آرڈر ۔۔۔عدالت میں ہوتے شور کو دیکھ کر جج نے اپنا لکڑی کا ہتھوڑا میز پر مارا ۔

جج : تو آپ نے بتایا نہیں کہ کس جرم میں مسلمانوں کو سزا دی جائے ۔

انگریز : بستی کے مسلمان اسلام کی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔یہ جرم ہے بستی کے مسلمانوں کا ۔

ببن بھیا : ارے چمن بھائی یہ تو بالکل ہی سٹھیایاہوا لگ رہا ہے مجھے، بھلا مسلمان بھی اسلام کی تبلیغ میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے ۔

یہ تو بالکل عجیب ہی بات کررہاہے ۔چمن بھائی نے اپنی رائے دی ۔۔۔

عدالت میں اور بھی لوگ موجود تھے چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ ایک مرتبہ پھر جج نے اپنا لکڑی کا ہتھوڑا میز پر مارا اور زورسے کہا : آرڈر آرڈر آرڈر

سب خاموش ہو گئے ۔

جج : مسلمان بھلا کس طرح اسلام کی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ ہو سکتے ہیں ؟

انگریز :جج صاحب ! میں نے اسلام کا بغور مطالعہ کیا میں نے اسلام کی تعلیمات کا مطالعہ کیا میں نے اسلام کو سچا دین پایا اور کچھ عرصے کے بعد اسلام قبول کر لیا ۔

جج : سبحان اللہ

ارے چمن بھائی ! یہ گورا تو مسلمان ہے ۔ببن بھیا نے حیرت سے کہا ۔

ہاں میں بھی یہی سوچ رہا ہوں ۔۔۔چمن بھائی نے گورے کو حیرت سے دیکھتے ہوئے کہا ۔

پھر اس نے یہ عجیب و غریب مقدمہ کیوں دائر کر دیا ہے ؟ عدالت میں موجود لوگ اس بات پر خوش بھی تھے کہ گورا مسلمان ہے اور اس بات پر حیران و پریشان بھی کہ اس نے بستی کے مسلمانوں پر یہ عجیب و غریب مقدمہ کیوں کر دیاہے؟

جج: بستی کے مسلمان کس طرح اسلام کے مجرم ہیں ؟

انگریز : جنابِ والا ! جب میں نے اسلام قبول کرلیا تومیں نے چاہا کہ میری بیوی اور بچے بھی اسلام قبول کر لیں اس کے لیے میں نے انہیں اسلام کی دعوت پیش کی ۔

جج : یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن اس میں بستی کے مسلمان کیسے مجرم ہو گئے ؟

انگریز : اسی جانب آ رہاہوں تو جب میں نے بیوی بچوں کو اسلام کی دعوت دی تو میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ میں پہلے اس مذہب کے ماننے والوں کی معاشرتی زندگی دیکھنا چاہتی ہوں کیونکہ مذہب معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ۔

میں نے بیوی کی بات سنی اور کہا ٹھیک ہے تم میرے ساتھ مسلمانوں کی بستی میں چلو وہاں ہم کچھ دن گزارتے ہیں ۔

میں انہیں اس بستی میں لے آ یا اتفاق سے عید الاضحیٰ کے دن تھے لوگ اپنا اپنا جانور لا رہے تھے گلیاں بند کر دی گئیں مجھے میری اہلیہ اور بچوں کو بڑی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔

میری اہلیہ نے مجھ سے کہا: کیا یہ مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ؟

میں نے کہا : بالکل مسلمان اس روز سنت ابراہیمی ادا کرتے ہیں ۔۔۔غریبوں میں گوشت تقسیم کرتے ہیں ۔۔۔آپس میں صلہ رحمی کرتے ہوئے رشتے داروں کے ہاں جاتے ہیں انہیں اپنے ہاں بلاتے ہیں ۔

میری اہلیہ نے کہا یہ تو بہت زبردست تہوار ہے ،لیکن کیا راستے بند کر دینا جانوروں کو گلیوں میں اس طرح باندھنا کیا یہ بھی اسی تہوار کا حصہ ہے ؟

میں نے کہا : نہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات کے مطابق راستے بند کرنا لوگوں کی حق تلفی ہے یہ بستی کے مسلمانوں کی غلطی ہے وہ اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ۔

تو انہوں نے کیوں باندھے ہیں ؟کیا یہ مذہبی تہوار اس طرح مناتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو تنگ کرکے اللہ کا حکم مانیں؟میری بیوی نے تلخی سے کہا ۔

جنابِ والا ! میں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ اسلام تو حسن سلوک کا حکم دیتا ہے ۔

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِکُوۡا بِہٖ شَیْـًٔا وَّ بِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنۡۢبِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوۡرَۨا ﴿ۙ۳۶﴾ نساء

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی اورپاس بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلام لونڈیوں (کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔) بیشک اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر، فخرکرنے والا ہو۔

میری اہلیہ نے کہا آپ درست کہہ رہے ہیں اسلام کی تعلیمات اچھی ہیں ، شاندار ہیں ، درست ہیں ، عمدہ ہیں لیکن ان مسلمانوں کے طرزِ معاشرت میں یہ تعلیمات نظر کیوں نہیں آ رہی ہیں ؟

جناب والا ! میں خاموش ہو گیا ۔

جج: لیکن اس میں بستی کے مسلمان اسلام کے مجرم کیسے ثابت ہوں گے ؟

انگریز: میں وہی عرض کررہاہوں بات مکمل کرنے کی اجازت چاہتا ہوں ۔

جج: اجازت ہے ۔

غرض عید کے تین دن بستی میں قربانی ہو تی رہی اور عید کے تینوں دن گزر گئے لیکن اس کے بعد میرےگھر میں جانوروں کے خون ، گوبر اور آلائشوں کی بد بو آ نے لگی ہمارا کھانا پینا دشوار ہو گیا میری اہلیہ نے مجھ سے پوچھا : یہ مذہبی تہوار میں صفائی و ستھرائی کا خیال نہیں رکھتے ؟اسلام انہیں یہ نہیں سکھاتا؟

میں نے اپنی اہلیہ سے کہا : اسلام تو کہتا ہے صفائی نصف ایمان ہے لیکن یہ مسلمانوں کی غلطی ہے کہ وہ اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے ۔

میری اہلیہ نے کہا : جب یہ اسلام کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے اور اللہ و رسول کے احکامات بھی نہیں مانتے تو یہ کیسے مسلمان ہیں ؟

جنابِ والا ! میں خا موش ہو گیا ۔

جج :میں آپ کی بات سمجھ رہاہوں لیکن آج عدالت کا وقت ختم ہو چکا ہم کل یہیں سے مقدمہ شروع کریں گے ۔

ببن بھیا ! کچھ سمجھ میں آ ئی ؟ چمن بھائی ! نےپوچھا

ہاں سمجھ آ ئی کہ ہمارا مذہبی تہوار تو بہت شاندار ہے لیکن اس تہوار کو مناتے ہوئے ہم لوگوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھتے ۔۔۔ہم بہت سارے معاملات میں اللہ و رسول ﷺ کے احکام پر عمل نہیں کرتے ۔ببن بھیا نے بڑی سمجھداری سے تسلیم کیا ۔۔

ببن بھیا ! کل دیکھتے ہیں جج صاحب کیا فیصلہ سُناتے ہیں ۔

2

دوسرا روز

دوسرے دن عدالت کچھا کھچ بھری ہو ئی تھی جیسے جیسے یہ خبر بستی میں عام ہو ئی لوگ عدالتی کاروائی دیکھنے اور سننے کے عدالت کے باہر جمع ہو نے لگے دیکھیں کہ عدالت اس عجیب و غریب مقدمے کا کیا فیصلہ سُناتی ہے ؟

جج نے انگریز سے کہا جی ! تو آپ کا کہنا کہ بستی کے مسلمان اسلام کے مجرم ہیں ؟

انگریز ! جی جج صاحب ۔

ہم مسلمانوں کی بستی میں رہتے رہے میرے بچے اور اہلیہ نے مسلمانوں کے طرزِ معاشرت کو ان میں رہ کر دیکھتے رہے میری اہلیہ ایک دن پڑوس میں گئیں تو انہوں نے دیکھا کہ پڑوسن رو رہی ہے ۔

میری اہلیہ نے اس عورت سے پوچھا کیوں رو رہی ہو؟

تو اس عورت نے بتایا کہ عنقریب اس کی بیٹی کی شادی ہے اور جہیز دینے کے لیے اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے لڑکے والوں نے لڑکی کی غربت دیکھ کر اور کچھ نہ ملنے کی وجہ سے شادی کرنے سے ہی انکار کر دیاہے ۔

میری اہلیہ واپس گھر آ ئیں اور پوچھا کیا جہیز کا تعلق بھی دین ِ اسلام سے ہے ؟

میں عجبب تذبذب میں پڑ گیا کیا کہوں اور کیا نہ کہوں ؟ میں نے کہا کہ کوئی اپنی اولاد کو دینا چاہے تو دے سکتا ہے اسلام میں یہ مباح ہے ۔

میری اہلیہ نے مجھ سے کہا :یہ مسلمان اپنے آپ پر ہی کیوں ظلم کررہاہے ؟یہ اسلامی تعلیمات میں پناہ کیوں نہیں لیتا ؟ جو چیز اسلام نے اس پر فرض و واجب نہیں کی یہ اسے اپنے اوپر فرض قرار دے چکاہے ۔

جج : پھر کیا ہوا؟

انگریز : میں نے اپنی اہلیہ کو قرآن کی یہ آیت سُنائی ۔

وَاعْبُدُوا اللہَ وَلَا تُشْرِکُوۡا بِہٖ شَیْـًٔا وَّ بِالْوٰلِدَیۡنِ اِحْسٰنًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیۡنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنۡۢبِ وَابْنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَمَا مَلَکَتْ اَیۡمٰنُکُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخْتَالًا فَخُوۡرَۨا ﴿ۙ۳۶﴾ نساء

اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور ماں باپ سے اچھا سلوک کرو اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور قریب کے پڑوسی اور دور کے پڑوسی اورپاس بیٹھنے والے ساتھی اور مسافر اور اپنے غلام لونڈیوں (کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔) بیشک اللہ ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو متکبر، فخرکرنے والا ہو۔

اسلام تو حسن سلوک کاحکم دے رہاہے ۔۔۔اسلام کی تعلیمات تو بہت شاندارہیں۔میری اہلیہ نے کہا : پھر ان مسلمانوں کا یہ حال کیوں ہے ؟ میں خا موش ہو گیا ۔

جج : لیکن یہ تو بتائیے آ خر بستی کے مسلمان کیسے اسلام کے مجرم ہوگئے ؟

انگریز : جج صاحب ! میری بیوی جو اسلام قبول کرنے سے قبل اسلام کے طرزِ معاشرت کو دیکھنے مسلمانوں میں آ ئی تھی اس نے اس کے علاوہ بھی مسلمانوں کے طرز معاشرت کو دیکھا ۔۔۔گندگی کے ڈھیر ۔۔۔ دھوکہ دہی ۔۔۔ملاوٹ ۔۔۔غیبت ۔۔۔چغلی ۔۔ حسد ۔۔۔انتقامی کاروائی ۔۔۔۔گالی گلوچ ۔۔۔تعلیم کی کمی ۔۔۔بے مقصد جذباتیت ۔۔۔ صحت کے مسائل ۔۔۔انصاف کے مسائل اور بہت ساری باتیں جو اس ایک مقدمے میں ممکن نہیں ۔

جج : لیکن یہ تو بتائیے آ خر بستی کے مسلمان کیسے اسلام کے مجرم ہوگئے ؟

انگریز : جج صاحب میں نے آپ کو اس مقدمے کی ابتداء ہی میں بتایا تھا کہ میں نے اپنی اہلیہ کو اسلام کی دعوت دی تو میری بیوی نے مجھ سے کہا کہ میں پہلے اس دین کے ماننے والوں کی معاشرتی زندگی دیکھنا چاہتی ہوں کیونکہ دین معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ۔

میں اسے مسلمانوں کی اس بستی میں لے آ یا یہاں آ کر اس نے جب یہ ما حول دیکھا تو اس نے کہا : ان مسلمانوں کا طرزِ معاشرت اسے پسند نہیں آ یا اور وہ اسلام قبول نہیں کرے گی ۔

جج صاحب ! میرا مقدمہ یہ ہے کہ بستی کہ مسلمان اسلام پسند ہیں اسلام پابند نہیں ہیں ۔۔۔اس بستی کے مسلمانوں کاطرزِ معاشرت اسلام کے عین مطابق نہیں ہے ۔جس کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ متا ثر ہو رہی ہے لوگ اسلام کی جانب آ نے سے کترارہے ہیں ۔ بستی کے مسلمانوں کا طرزِ عمل اسلام کی تبلیغ کی راہ میں رکاوٹ ہے ۔

جج کی آنکھوں میں آنسو تھے اور جج نے بستی کے مسلمانوں سے کہا اس مقدمے کا فیصلہ بستی والے خود کریں ۔۔۔ ببن بھیا اور چمن بھائی سمیت بستی کے تمام مسلمانوں کے سر شرم سے جھکے ہوئے تھے ۔

پیارے بچو!

اگر آپ چاہتے ہیں آپ اسلام کے مجرم نہ بنیں تو اسلام کو عملی طور پر اپنائیں آپ کا طرزِ زندگی اسلام کے مطابق ہو گا تو اسلام کا پیغام ساری دنیا میں خود بخود پھیلتا چلا جائے گا لوگ اسلام میں داخل ہوتے چلے جائیں گے آج بھی اسلام جہاں جہاں پہنچا اس میں ہمارے اسلاف کے کردار کا بڑا حصہ ہے ۔۔۔۔اسلام تبلیغ سے زیادہ کردار سےپھیلتا ہے اپنے کردار میں اسلام کو لے آ ئیے اسلام پھیلتا چلا جائے گا ۔