اللہ عزوجل جہنم حرام فرما دے گا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ حضور سید عالمﷺ اس حال میں کہ حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سواری پر حضورﷺ کے پیچھے تھے آپ ﷺ نے فرمایا اے معاذ بن جبل (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) !انہوں نے کہا لبیک یا رسول اللہ ﷺ !پھر آپ ﷺ نے فرمایااے معاذ! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ ﷺ !تیسری مرتبہ بھی ایسا فرمایاپھر ارشادفرمایا اے معاذ !جو کوئی اپنے دل سے اس بات کی گواہی دے کہ سوائے خدا کے کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ اللہ جل شانہ اس پرجہنم کی آگ حرام کر دے گا۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یارسول اللہ ا !کیا میں لوگوں کو اس کی خبر کردوں تاکہ وہ خوش ہوجائیں۔ آپ ا نے فرمایا اس وقت اگر تم خبر دوگے تولوگ اسی پر بھروسہ کر لیںگے (اور عمل نہیں کریںگے )حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث مبارک اپنے وصال کے وقت بخوف گناہ بیان کردی۔(بخاری شریف)

میرے پیارے آقاﷺکے پیارے دیوانو! حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کوتین مرتبہ پکار نے کی وجہ یہ تھی کہ جو کچھ بیان کیا جا رہاہے اس کی اہمیت واضح ہوجائے اور اللہ عزوجل کی اُلوہیت گواہی صرف زبان سے نہیں بلکہ دل سے بھی دے اور حضورا کو دل سے اللہ عزوجل کا محبوب ورسول مانے اور اس کی گواہی بھی دے تو ایسے خوش نصیب پر اللہ جہنم کی آگ کو حرام فرما دیگا اور اسی وقت خبر سے روک دینے کی وجہ یہ تھی کہ لوگ دیگر عبادتوں پر عمل کرنا چھوڑ دیںگے۔ پتہ یہ چلاکہ حضور رحمت عالم ا یہ چاہتے تھے کہ ان کی امت کثرت عبادت سے کل بروز قیامت سرخروئی حاصل کرے اور اسی سبب سے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہٗ نے آخری عمر میں لوگوں تک یہ حدیث شریف پہنچا دی۔ اللہ عزوجل ہم سب کو کثرت عبادت کی توفیق نصیب فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلٰوۃ والتسلیم:۔