أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُطِعِ الۡكٰفِرِيۡنَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَدَعۡ اَذٰٮهُمۡ وَتَوَكَّلۡ عَلَى اللّٰهِ ؕ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے گا اور ان ایذا رسانیوں کو نظر انداز کردیں اور اللہ پر توکل کریں اور اللہ کافی کار ساز ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیے گا اور ان کی ایڈار سانیوں کو نظر انداز کردیں اور اللہ پر توکل کریں اور اللہ کافی کار ساز ہے اے ایمان والو ! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر عمل زوجیت سے پہلے تم ان کو طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کسی قسم کی عدت نہیں ہے ‘ جس کا تم شمار کرو ‘ سو تم ان کو کچھ ان کے فائدہ کی چیزیں دے کر حسن سلوک سے ان کی رخصت کردو (الاحزاب : ٤٩۔ ٤٨ )

کافروں اور منافقوں سے درگزر کرنے کے حکم کا منسوخ ہونا 

الا حزاب : ٤٨ میں آپ کو کافروں اور منافقوں کی بات ماننے سے منع فرمایا ہے ‘ بعض کافر آپ سے یہ کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہا کریں پھر ہم آپ کی پیروی کرلیں گے ‘ اور منافقین آپ کو مصلحت کوشی سے کام لینے کا حکم دیتے تھے ‘ تو آپ ان کی ایڈار سانیوں پر صبر کریں اور ان کی زیادتیوں پر ان کو سزا نہ دیں ‘ اور ان سے در گزر کریں ‘ اس آیت کا حکم ان آیات سے منسوخ ہوگیا ہے جن میں آپ کفار اور منافقین سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے جیسے یہ آیت ہے :

یایھا النبی جاھدالکفار والمنفقین واغلظ علیھم۔ (التوبہ : ٧٣) اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔

یعنی اگر یہ کفار اور منافقین اپنی سازشوں اور کارروائیوں سے آپ کو ضرر پہنچائیں تو آپ اس سے دل برداشتہ نہ ہوں ‘ ان کا تو مقصود ہی یہ ہے کہ آپ ان کی دل آزار باتوں سے تنگ ہو کر اپنے مشن کو ترک کردیں ‘ آپ صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس فکر میں نہ پڑیں کہ کون ایمان لاتا ہے اور کون ایمان نہیں لاتا ‘ لوگوں کے دلوں میں ایمان ڈالنا اور ان کی نازیبا حرکتوں پر ان کا مواخذہ کرنا یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور وہ کافی کار ساز ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 48