أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّ سَبِّحُوۡهُ بُكۡرَةً وَّاَصِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اور صبح اور شام کو اس کی تسبیح کیا کرو

ذکر اور تسبیح کرنے والوں کی اقسام اور ان کے مراتب اور درجات 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور صبح اور شام اس کی تسبیح کیا کرو۔ (الاحزاب : ٤٢ )

اس آیت میں بکرۃ واصیلا کے الفاظ ہیں ‘ بکرۃ کا معنی ہے دن کا اول حصہ اور اصیل شام کے وقت کو کہتے ہیں یعنی عصر اور مغرب کا درمیانی وقت۔ اور اللہ کی تسبیح کرنے سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنا اور ہر اس چیز سے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ بیان کرنا جو اس کی شان کے لائق نہیں ہے ‘ اور اس سے مطلوب یہ ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور تنزیہ بیان کی جائے۔

اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی تسبیح کرنے والوں کی حسب ذیل اقسام اور ان کے درجات ہیں :

(١) َُُبعض لوگ صرف زبان سے ذکر کرتے ہیں وہ اپنی عقل سے اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور وفکر نہیں کرتے۔ ان کے دلوں میں اللہ کی محبت اور انس نہیں ہوتا ‘ نہ ان کا ذہن ذکر کی طرف متوجہ ہوتا ہے ‘ اور نہ ان کی روح ذکر کے معانی اور اسرار کی طرف متوجہ ہوتی ہے ‘ وہ محض بےخیالی اور ان کی زبان پر اللہ کا ذکر ہوتا ہے اور ان کے ہاتھ تسبیح رول رہے ہوتے ہیں ‘ ایسا ذکر مطلقاً مردود ہے ‘ یہ عام فساق اور فجار کا ذکر ہے۔

(٢) بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں غور و فکر کر کے اس کا ذکر کرتے ہیں لیکن ان کا ذہن اس کی طرف مستحضر نہیں ہوتا اور نہ ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا انس اور اس کی محبت ہوتی ہے اور نہ ان کی روح میں انہماک اور استغرق ہوتا ہے یہ نیک لوگوں کا ذکر ہے اور پہلی قسم کی بہ نسبت مقبول ہے۔

(٣) بعض مسلمان زبان سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور ان کی عقل اللہ کی نشانیوں میں غور وفکر کرتی ہے اور ان کے دلوں میں اللہ کی محبت ہوتی ہے لیکن ان کی روح اللہ کی یاد میں منہمک اور اس کی تجلیات میں مستغرق نہیں ہوتی یہ مقربین ‘ عارفین اور اولیاء اللہ کا ذکر ہے۔

(٤) اور بعض ایسے ذاکرین ہیں جو زبان ‘ عقل ‘ قلب اور روح کے ساتھ اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور اس کو یاد کرتے ہیں ‘ یہ انبیاء علہم السلام کا ذکر ہے۔

اللہ کا ذکر کرنے سے دلوں سے گناہوں کا میل اور رنگ چھٹ جاتا ہے اور شیشہ دل صاف اور صیقل ہوجاتا ہے حدیث میں ہے :

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس طرح لوہے پر زنگ لگتا ہے اس طرح دلوں پر بھی زنگ لگ جاتا ہے ‘ آپ سے کہا گیا : یارسول اللہ ! وہ زنگ کس طرح صاف ہوگا ؟ آپ نے فرمایا کتاب اللہ کی بہ کثرت تلاوت کرنے سے اور اللہ عزوجل کا بہت زیادہ ذکر کرنے سے۔ (کنزالعمال رقم الحدیث : ٣٩٢٤ )

سو اللہ کی راہ میں قدم رکھنے والے اور اس کا قرب حاصل کرنے والے کو چاہیے کہ وہ زبان سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ‘ اور عقل سے اس کی نشانیوں میں غور و فکر کرے ‘ دل میں اس کی یاد رکھے ‘ ذکر کے وقت ذہن کو اس کی بار گاہ میں حاضر رکھے تاکہ اس کا آئینہ دل صاف اور شفاف ہوجائے اور اس میں اس کی تجلیات منعکس ہونے لگیں۔

بعض اذکار اور اوراد 

نماز ‘ قرآن مجید کی تلاوت اور قرآن اور حدیث کا درس دینا یہ سب اللہ عزوجل کے ذکر کی اقسام ہیں لیکن سب سے افضل ذکر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھنا ہے ‘ حدیث میں ہے :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ افضل الذکر لا الہ الا اللہ ہے اور افضل الدعاء الحمد اللہ ہے۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٨٣‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٨٠٠‘ عمل الیوم الیلۃ للنسائی رقم الحدیث : ٨٣١‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٨٤٦‘ المستدرک ج ١ ص ٤٩٨‘ کتاب الاسماء والصفات للبیھقی ص ١٧٩‘ شرح السنہ ج ٤ ص ١٩٠‘ مشکوۃ رقم الحدیث : ٢٣٠٦)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ سبحان اللہ وبحمدہ پڑھا اس کے گناہ مٹا دئیے جائیں گے خواہ وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٤٠٥‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٦٩١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٤٦٨‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٣٧٩٨‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٠٩١)

اسی طرح بعض مواقع کے بعض مخصوص اذکار ہیں :

حضرت ابو حمید اور حضرت ابو اسید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو پڑھے : الھم الفتح لی ابواب رحمتک اور جب مسجد سے باہر آئے تو پڑھے : اللھم انی اسئلک من فضلک۔ (عمل الیوم والیلۃ للنسائی رقم الحدیث : ١٧٧)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم جنت کے باغات سے گزرو تو چر لیاکرو ‘ آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ جنت کے باغات کون سے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مساجد ‘ آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ! ان کو چرنا کس طرح ہے ؟ آپ نے فرمایا : سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر پڑھنا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٥٠٩)

حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہر فرض نماز کے بعد یہ پڑھتے تھے : لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو و علی کل شیء قدیر اللھم لا مانع لما اعطیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذا الجد منک الجد۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٤٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٩٣)

القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 42