أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا النَّبِىُّ اِنَّاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ شَاهِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِيۡرًا ۞

ترجمہ:

اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور ثواب کی بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے نبی ! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور ثواب کی بشارت دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے اور اللہ کے حکم سے اس کی طرف دعوت دینے والا اور روشن چراغ بنا کر اور مومنوں کو بشارت دیجئے کہ ان کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل ہوگا (الاحزاب : ٤٦۔ ٤٥ )

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اسماء اور آپ کی صفات 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر یہ آیت نازل ہوئی یا یھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی اور حضرت معاذ (رض) کو بلایا آپ ان دونوں کو یمن کی طرف بھیجنے کا حکم دے چکے تھے ‘ آپ نے فرمایا تم دونوں جا کر لوگوں کو بشارت دینا ‘ اور ان کو متنفر نہ کرنا ‘ اور آسان احکام بیان کرنا اور مشکل احکام نہ بیان کرنا ‘ کیونکہ مجھ پر یہ آیت نازل ہوئی ہے : اے نبی ! ہم نے آپ کو آپ کی امت کے اوپر شاہد بنا کر بھیجا ہے ‘ اور جنت کی بشارت دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا اور لا الہ الا اللہ کی شہادت کی دعوت دینے والا اور قرآن کی روشنی دینے والا چراغ بناکر۔ (المعجم الکبیر ج ١١ ص ٢٤٨‘ رقم الحدیث : ١١٨٤١‘ داراحیاء التراث العربی بیروت) عطاء بن یسار بیان کرتے ہیں کہ میری حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص (رض) عنما سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا مجھے بتائیے کہ تورات میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کیا صفات ہیں ‘ انہوں نے کہا تورات میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعض وہ صفات ہیں جن کا قرآن مجید میں ذکر ہے : یا یھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا (الاحزاب : ٤٥) اور آپ کو امیین کی پناہ بنایا ‘ آپ میرے بندے اور رسول ہیں ‘ میں نے آپ کا نام متوکل رکھا ہے آپ بد مزاج اور سخت طبیعت نہیں ہیں اور بازاروں میں شور نہیں کرتے اور نہ برائی کا جواب برائی سے دیتے ہیں ‘ لیکن آپ معاف کردیتے ہیں اور بخش دیتے ہیں ‘ اور اللہ اس وقت تک آپکی روح کو قبض نہیں کرے گا جب تک کہ آپ کی سبب سے ٹیڑھی قوم کو سیدھا نہیں کردیتا بایں طور کہ وہ سب کہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ‘ اور جب تک آپ کے سبب سے اندھی آنکھوں اور بند کانوں اور مقفل دنوں کو کھول نہیں دیتا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٨٣٨۔ ٢١٢٥‘ دار ارقم بیروت)

علامہ قرطبی نے لکھا ہے کہ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چھ اسماء ہیں ‘ شاہد ‘ مبشر ‘ نذیر ‘ داعی الی اللہ ‘ سراج اور منیر۔

حضرت جبیر بن مطعم (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میرے پانچ اسماء ہیں ‘ میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں ماحی (شرک اور کفر کو مٹانے والا) ہوں ‘ اللہ میرے سبب سے کفر کو مٹائے گا اور میں حاشر ہوں ‘ میرے قدموں میں لوگوں کا حشر کیا جائے گا اور میں عاقب ہوں ( سب نبیوں کے بعد آنے والا)(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٣٥٣٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٣٥٤ )

اور اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام رئوف رحیم رکھا ہے۔ (التوبہ : ١٢٨ )

علام ابوبکر بن العربی نے احکام القرآن میں الاحزاب : ١٣ کی تفسیر میں آپ کے سٹرسٹھ (٦٧) اسماء ذکر کیے ہیں اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ایک سوا سی اسماء ہیں۔(الجامع لا حکام القرآن جز ١٤ ص ١٨٢‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا امت کے حق میں شاہد ہونا 

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاہد فرمایا ہے ‘ اور شاہد کا معنی ہے گواہی دینے ولا ‘ اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شاہد ہونے کے چار محمل ہیں ‘ ایک محمل یہ ہے کہ آپ اپنی امت کے حق میں قیامت کے دن گواہی دیں گے ‘ دوسرا محمل یہ ہے کہ آپ لا الہ الا اللہ کی گواہی دینے والے ہیں اور تیسرا محمل یہ ہے کہ آپ دنیا میں امور آخرت کی گواہی دیں گے اور چوتھا محمل یہ ہے کہ آپ اعمال امت پر شاہد ہیں۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو اپنی امت کے حق میں گواہی دیں گے اس کا ذکر اس آیت میں ہے :

وکذلک جعلنکم امۃ وسطا لتکونوا شھدا آء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا۔ (البقرہ : ١٤٣) اور اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جائو اور یہ رسول تمہارے حق میں گواہ ہوجائیں۔

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے دن ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ ایک شخص ہوگا ‘ اور ایک نبی آئے گا اور اس کے ساتھ دو شخص ہوں گے ‘ اور ایک نبی آئے گا اس کے ساتھ زیادہ لوگ ہوں گے ‘ اس سے کہا جائے گا کیا تم نے اپنی قوم کو تبلیغ کی تھی ؟ وہ کہے گا ہاں ! پھر اس کی قوم کو بلایا جائے گا اور اس سے پوچھا جائے گا کیا انہوں نے تم کو تبلیغ کی تھی ‘ وہ کہیں گے نہیں ! پھر اس نبی سے کہا جائے گا تمہارے حق میں کون گواہی دے گا ؟ وہ کہیں گے (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت ‘ پھر (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت کو بلایا جائے گا ‘ اور کہا جائے گا : کیا انہوں نے تبلیغ کی تھی ؟ وہ کہیں گے ہاں ! پھر کہا جائے گا تم کو اس کا کیسے علم ہوا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ خبر دی تھی کہ (سب) رسولوں نے تبلیغ کی ہے ‘ اور یہ اس آیت کی تفسیر ہے۔ (سنن کبری للنسائی ج ٦ ص ٢٩٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

اس آیت اور اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام امتوں کے احوال پر مطلع ہیں اور آپ اپنی امت کے اعمال کا بھی مشاہدہ فرماتے ہیں کیونک آپ اپنی امت کی گواہی دیں گے اور گواہی میں اصل یہ ہے کہ مشاہدہ کرکے اور دیکھ کر گواہی دی جائے ‘ اور اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے۔

حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی ٧٧٤ ھ بیان کرتے ہیں :

حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ کے کچھ فرشتے سیاحت کرنے والے ہیں وہ مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری حیات تمہارے لیے بہتر ہے تم باتیں کرتے ہو اور تمہارے لیے حدیث بیان کی جاتی ہے اور میری وفات (بھی) تمہارے لیے بہتر ہے ‘ تمہارے اعمال مجھ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ میں جو نیک عمل دیکھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں ‘ اور میں جو براعمل دیکھتا ہوں اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔ (البدایہ والنہایہ ج ٤ ص ٢٥٧‘ طبع جدید ‘ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ تعالیٰ کی توحید اور ذات وصفات پر شاہد ہونا 

شاہد ہونے کا دوسرا محمل یہ ہے کہ ہمارے نبی سید نا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور لا الہ ا لا اللہ پر شاہد ہیں اور آپ نے امت کو بھی یہ حکم دیا ہے کہ اللہ کی توحید اور اس کی ذات اور صفات کی شہادت دیں ‘ اور آپ جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات اور صفات کی شہادت دیتے ہیں یہ آپ کی خصوصیت نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء اور رسل نے اور ان کی امتوں نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات اور صفات کی شہادت دی ہے ‘ اور آپ کی اور باقی نبیوں اور رسولوں کی شہادت میں فرق یہ ہے کہ تمام نبیوں اور رسولوں نی اللہ کی توحید اور اسکی ذات وصفات کی شہادت فرشتوں سے سن کردی ہے اور آپ نے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی ذات وصفات کی شہادت دیکھ کر اور مشاہدہ کرکے دی ہے ‘ بلکہ ساری کائنات اللہ کے واحد ہونے کی شہادت سن کردیتی ہے اور آپ تنہا اور واحد ایسے شاہد ہیں جس نے اللہ کو دیکھ کر اس کے واحد ہونے کی شہادت دی ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام نبیوں میں صرف آپکو شاہد فرمایا ہے ‘ آپ نیجس چیز کی بھی شہادت دی ہے وہ دیکھ کر اور مشاہدہ کرکے شہادت دی ہے ‘ کرسی اور عرش ہو یا لوح و قم ہو ‘ فرشتے ہوں یا جنات ہوں یا جنت اور دوزخ ہو آپ نے ہر چیز کو دیکھ کر اور مشاہدہ کرکے شہادت دی ہے اور جیسے آپ شاہد ہیں کائنات میں ایسا کوئی دوسرا شاہد نہیں ہے۔

امام رازی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو توحید پر شاہد بنایا ہے توحید کا مدعی نہیں بنایا کیونکہ جس چیز کا دعوی کیا جاتا ہے وہ خلاف ظاہر ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید تو اس کائنات میں ظاہر ہے بلکہ اظہر من السمس ہے ‘(تفسیر کبیر ج ٩ ص ١٧٣) میں کہتا ہوں کہ اگر توحید ظاہر اور اظہر من الشمس ہوتی تو ساری دنیا اس کی منکر کیوں ہوتی اور اس کو منوانے کے لیے اتنے نبیوں اور رسولوں نے ظاہر کیا اور سب سے زیادہ ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی توحید کو آشکارا کیا ‘ اللہ تو ہمیشہ سے واحد تھا لیکن اس کی توحید کے اتنے ماننے والے نہ تھے آپ نے اللہ کے واحد ہونے کی شہادت دی تو کائنات کی ہر حقیقت نے اللہ کو واحد کہا۔ آپ نے اللہ کی توحید کی شہادت دی اور اللہ نے آپ کی رسالت کی شہادت دی سو فرمایا :

فاشھدوا وانا معکم من الشھدین (آل عمران : ٨١) تم (بھی ان کی رسالت کے اقرار پر) گواہ ہو جائو اور میں (بھی) تمہارے ساتھ گواہوں میں سے ہوں۔

واللہ یعلم انک لرسولہ۔ (المنافقون : ١) اور اللہ خوب جانتا ہے کہ بیشک آپ ضرور اس کے رسول ہیں۔

وشاہد ومشھود۔ (البروج : ٣) شاہد کی قسم اور مشہود کی قسم !

آپ اللہ کی توحید پر شاہد اور اللہ آپ کی رسالت پر شاہد ہے سو آپ شاہد بھی ہیں اور مشہود بھی ہیں۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دنیا میں امور آخرت پر شاہد ہونا 

اور شاہد کا تیسرا محمل یہ ہے کہ آپ دنیا میں امور آخرت پر شاہد ہیں آپ جنت کے اور دوزخ کے شاہد ہیں اور میزان اور صراط کے شاہد ہیں ‘ آپ نے جس کے جنتی ہونے کی شہادت دی اس پر جنت واجب ہوگئی اور جس کے دوزخی ہونے کی شہادت دی اس پر دوزخ واجب ہوگئی ‘ آپ نے دس صحابہ کا نام لے کر فرمایا کہ وہ جنت میں ہیں۔ اس سلسلہ میں یہ حدیث ہے :

حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ابوبکر جنت میں ہیں ‘ عمر جنت میں ہیں ‘ عثمان جنت میں ہیں ‘ سعید بن زید جنت میں ہیں ‘ ابو عبیدہبن الجراح جنت میں ہیں۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٤٧‘ مسنداحمد ج ١ ص ١٩٣‘ مسند ابو یعلی رقم الحدیث : ٨٣٥‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٧٠٠٢)

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منہ سے سنا ہے وہ فرما رہے تھے طلحہ اور زبیر دونوں جنت میں میرے پڑوس میں ہوں گے۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٤١‘ المستدرک ج ٣ ص ٣٦٥‘ کتاب الضعفاء للعقیلی ج ٤ ص ٢٩٤‘ الکامل لابن عدی ج ٧ ص ٢٤٨٩)

حضرت زبیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا طلحہ نے اپنے لیے جنت کو واجب کرلیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٣٨۔ ١٦٩٢)

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص شہید کو زمین پر چلتے پھرتے دیکھنے سے خوش ہو وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٧٣٩‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ١٤٥‘ حلیۃ الاولیاء ج ٣ ص ١٠٠)

اسی طرح جن لوگوں کے متعلق ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دوزخی ہونے کی شہادت دی ان کا دوزخی ہونا واجب ہے ‘ اس سلسلہ میں یہ احادیث ہیں :

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے دیکھا جہنم کی بعض آگ بعض کو کھارہی تھی ‘ اور میں نے عمروبن لحی کو دیکھا وہ دوزخ میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا اور یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے لیے اونٹینو کو نامزد کیا تھا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٦٢٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : بلاتکرار : ٩٠١‘ رقم الحدیث المسلسل : ٢٠٥٧ )

حضرت جابر (رض) سے ایک طویل حدیث کے آخر میں روایت ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے دوزخ میں ایک ڈھال والے شخص کو دیکھا جو اپنی ڈھال سے حجاج کے کپڑے چرایا کرتا تھا اگر کسی کو پتاچل جاتا تو وہ کہتایہ کپڑا میری ڈھال میں اٹک گیا تھا ‘ اور جب وہ شخص غافل ہوتا تو وہ کپڑا لے جاتا ‘ اور میں نے دوزخ میں ایک عورت کو دیکھا جس نے بلی کو باندھ کر رکھا تھا ‘ اس کو کچھ کھانیکو دیا اور نہ اس کو آزاد کیا کہ وہ زمین پر پڑی ہوء ی کوئی چیزکھالیتی حتی کہ وہ بلی بھوک سے مرگئی۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : بلا تکرار : ٩٠٤‘ رقم الحدیث المسلسل : ٢٠٦٧‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ١١٧٨)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اعمال امت پر شاہد ہونا 

اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے شاہد ہونے کا چوتھا محمل ہے :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے کچھ فرشتے سیاحت کرتے ہیں جو میری امت کی طرف سے سلام پہنچاتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری زندگی تمہارے لیے بہتر ہے تم حدیث بیان کرتے ہو اور تمہارے لیے حدیث بیان کی جاتی ہے ‘ اور وفات (بھی) تمہارے لیے بہتر ہے مجھ پر تمہارے اعمال پیش کیے جاتے ہیں جو نیک عمل دیکھتا ہوں ان پر اللہ کی حمد کرتا ہوں اور میں جو برے عمل دیکھتا ہوں ان پر اللہ سے استغفار کرتا ہوں۔ (مسند البز اررقم الحدیث : ٨٤٥‘ حافظ الھیشمی نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد ج ٩ ص ٢٤ )

علامہ سید محمود آلوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ لکھتے ہیں :

اگر یہ کہا جائے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے زمانہ کے امتیوں کے اعمال پر شاہد تھے پھر تو بات بالکل واضح ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ آپ بعد کے امتیوں کے اعمال پر بھی شاہد تھے تو اس میں یہ اشکال ہے کہ حضرت ابوبکر ‘ حضرت انس ‘ حضرت حذیفہ ‘ حضرت سمرہ اور حضرت ابو بردہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا ہے کہ میرے اصحاب میں سے کچھ لوگ حوض پر وارد ہوں گے ‘ حتی کہ میں ان کو دیکھ کر اور پہچانکر کہوں گا اے رب میرے اصحاب ! میرے اصحاب ! پس مجھ سے کہا جائے گا آپ از خود نہیں جانتے کہ انہوں نے آپکے عبد دین میں کیا نئے کام نکالے ہیں ! ہاں اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کو یہ تو علم تھا کہ آپ کے بعد آپکی امت کے لوگ کیا نیک کام کریں گے اور کیا برے کام کریں گے ‘ لیکن آپ کو ان معین لوگوں کا علم نہیں تھا کہ کون نیک کام کرنے والے ہیں اور کون برے کام کرنے والے ہیں تاکہ اس حدیث اور مسند بزار کی عرض اعمال والی حدیث میں تطبیق ہوجائے ‘ اس کا دوسرا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آپ کو نیکی کرنیوالے اور گناہ کرنے والے معین لوگوں کا بھی علم تھا لیکن قیامت کے دن آپ بھول گئے ‘ اور بعض صوفیاء کرام نے یہ اشارہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپکو بندوں کے اعمال پر مطلع فرما دیا تھا اور آپ نے ان کے اعمال کو دیکھا تھا اس لیے آپ کو شاہد فرمایا۔

مولانا جلال الدین رومی قدس سرہ العزیز نے مثنوی میں فرمایا :

درنظر بودش مقامات العباد زاں سبب نامش خدا شاہد نہاد 

آپ کی نظر میں بندوں کے مقامات تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کا نام شاہد رکھا 

(روح المعانی جز ٢٢ ص ٦٥ ملخصا مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

ہمارے نزدیک اس اشکال کا صحیح جواب یہ ہے کہ اس حدیث میں علم کی نفی نہیں ہے درایت کی نفی ہے کیونکہ فرشتے یہ نہیں کہیں گے انک لا تعلم بلکہ یہ کہیں گے انک لا تدری ‘ اور درایت کا معنی ہے کسی چیز کو اپنی عقل اور قیاس سے جاننا یعنی آپ ان لوگوں کے مرتد ہونے کو اپنی عقل اور اپنیقیاس سے نہیں جانتے بلکہ اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم سے جانتے ہیں ‘ باقی رہا یہ کہ پھر آپ نے یہ کیوں فرمایا کہ یہ میرے اصحاب ہیں اس کا جواب یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انہیں اصیحابی فرمانا عدم علم کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس لیے تھا کہ پہلے ان کو یہ امید ہو کہ ان کو پانی ملے گا اور پھر جب ان کو حوض سے دور کیا جائے گا اور ان کی امید ٹوٹے گی تو ان کو زیادہ عذاب ہوگا ‘ دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اصیحابی سے پہلے ہمزہ استفہام کا محذوف ہو ‘ یعنی کیا یہ میرے صحابی ہیں ؟ جن کے چہرے سیاہ ‘ اعمال نامے بائیں ہاتھ میں ‘ آنکھیں نیلی ‘ چہرے تاریک اور مرجھائے ہوئے ہیں یہ میرے صحابہ ہیں ؟ میرے اصحاب کے تو چہرے اور ہاتھ پیر سفید اور روشن ہیں ان کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھ میں ہیں اور اور ان کے چہرے کھلے ہوئے اور شاداب ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں مومنوں اور کافروں کی جو علامتیں بیان کی گئی ہیں کہ ان کے چہرے سفید ہوں گے اور اعمال نمے دائیں ہاتھ میں ہوں گے اور کافروں کے چہرے سیاہ اور اعمال نامے انکے بائیں ہاتھ میں ہوں گے ان علامتوں سے میدان محشر میں موجود ہر شخص کو علم ہوگا کہ مومن کون ہے اور کافر کون ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ علم نہ ہو کو کون آپ کا صحابی ہے اور کون نہیں ہے۔ علاوہ ازیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دنیا میں امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں سو آپ کو علم تھا کہ کون ایمان پر قائم رہا اور کون مرتد ہوگیا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ تو دنیا میں امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں کہ میرے حوض پر ایسے ایسے لوگ آئیں گے سو آخرت کا علم تو دور کی بات ہے آ نے دنیا میں ہی اپنے علم کی وسعت کا اظہار فرمادیا ہے۔

اس مبحث کی زیادہ تفصیل اور تحقیق ہم نے شرح صحیح مسلم میں کی ہے اس کو شرح صحیح مسلم ج ١ ص ٩٠٥۔ ٩٠٣ میں ملاحظہ فرمائیں ‘ شاید اس قدر تحقیق آپ کو اور کہیں نہ ملے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 45