أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَكَحۡتُمُ الۡمُؤۡمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقۡتُمُوۡهُنَّ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ تَمَسُّوۡهُنَّ فَمَا لَـكُمۡ عَلَيۡهِنَّ مِنۡ عِدَّةٍ تَعۡتَدُّوۡنَهَا ۚ فَمَتِّعُوۡهُنَّ وَسَرِّحُوۡهُنَّ سَرَاحًا جَمِيۡلًا ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو پھر عمل زوجیت سے پہلے تم ان کو طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کسی قسم کی عدت نہیں ہے ‘ جس کا تم شمار کرو ‘ سو تم ان کو کچھ ان کے فائدہ کی چیزیں دے کر حسن سلوک سے ان کو رخصت کردو

اہل کتاب کی عورتوں سے نکاح کرنے کی تفصیل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ایمان والو ! جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کرو۔

اس آیت میں مسلمان عورتوں سے نکاح کی تخصیص فرمائی ہے ‘ اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اہل کتاب عورتوں سے نکاح جائز نہیں ہے۔ بلکہ اس تخصیص میں تنبیہ فرمائی ہے کہ مومن کے لائق یہ ہے کہ وہ مومنہ سے نکاح کرے ‘ اور اہل کتاب عورتوں سے دارالکفر میں نکاح کرنا مکروہ تحریمی ہے کیونکہ وہاں کفار کا غلبہ ہوتا ہے اور مسلمان وہاں آزادی اور شرح صدر کے ساتھ اپنے بچوں کو تعلیم اور تربیت نہیں دے سکے گا ‘ اور دارالاسلام میں بلا ضرورت اہل کتاب عورتوں سے نکاح کرنا مکروہ تنزیہی ہے واضح رہے کہ اہل کتاب سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو اللہ کو نبی کو اور آسمانی کتاب کو مانتے ہوں خواہ وہ حضرت عیسیٰ کی الوہیت کے قائل ہوں۔ (ردالمختار ج ٤ ص ١٠١‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

تہذیب اور شائستگی کا تقاضا یہ ہے کہ جماع اور مباشرت کو کنایہ سے تعبیر کیا جائے 

اس کے بعد فرمایا : پھر عمل زوجیت سے پہلے تم ان کو طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کسی قسم کی عدت نہیں ہے۔

اس آیت (الاحزاب : ٤٩) میں عمل زوجیت کے لیے ان تمسوھن فرمایا اس کا معنی ہے تم ان کو چھوئو ‘ اور النسائ : ٤٣ اور المائدہ : ٦ میں اس کے لیے لمستم النساء فرمایا اس کا معنی بھی ہے تم عورتوں کو چھوئو ‘ اور البقرہ : ٢٢٢ میں ولا تقربو ھن حتی یطھرن فرمایا یعنی جب تک وہ حیض سے پاک نہ ہوں ان سے مقاربت نہ کرو ‘ اور الاعراف ١٨٩‘ میں فرمایا : فلما تغشاھا حملت حملا خفیفا اس کا معنی ہے جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا تو اس کو خفیف سا حمل ہوگیا اور البقرہ : ٢٢٣ میں فرمایا : نسائکم حرث لکم فا توا حرثکم انی شئتم اس کا معنی ہے : عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں تم اپنی کھیتیوں میں جس طریقہ سے چاہو آئو ‘ سو اللہ تعالیٰ نے عمل زوجیت کے لیے صریح لفظ جماع یا وطی استعمال نہیں فرمایا بلکہ اس کو چھونے ‘ مقاربت ‘ ڈھانپنے اور آنے کنایہ سے تعبیر فرمایا اس میں ہم کو بھی شرم و حیاء کی تعلیم دی ہے کہ گفتگو اور کلام کے لیے صریح الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں بلکہ ان کے لیے استعارہ اور کنایہ کے الفاظ لانے چاہئیں۔

اجنبی عورت کو تعلیقاً طلاق دینے میں مذاہب ائمہ 

اس آیت میں تیسرا مسئلہ یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے یہ کہ دے کہ اگر میں نے تم سے نکاح کیا تو تم کو طلاق ‘ اب اگر اسنے اس عورت سے نکاح کرلیا تو آیا اس کو نکاح کے عبد طلاق پڑے گی یا نہیں ؟ جمہور فقہاء کے نزدیک اس کو طلاق نہیں پڑے گی ‘ انکا استدلال اس آیت سی ہے کیونکہ اس میں فرمایا ہے : جب تم مسلمان عورتوں سے نکاح کو پھر عمل زوجیت سے پہلے تم ان کو طلاق دے دو ‘ اس سے معلوم ہوا کہ طلاق تب واقع ہوتی ہے جب اس سے پہلے نکاح کیا تو تجھ کو طلاق ‘ تو نکاح کے بعد اس پر طلاق پڑجائے گی۔

مشہور غیر مقلد علام شیخ محمد بن علی بن محمد شوکانی متوفی ١٢٥٥ ھ لکھتے ہیں :

اس پر تو اجماع ہے کہا جنبی عورت پر فوراً طلاق نہیں پڑتی ‘ لیکن اگر اجنبی عورت پر طلاق معلق کی جائے مثلاً کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میں نے فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق پس اس صورت میں جمہور صحابہ اور تابعین اور بعد کے فقہاء کے نزدیک طلاق واقع نہیں ہوگی ‘ اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کے نزدیک نکاح کے بعد اس عورت پر طلاق پڑجائے گی۔(نیل الاوطار ج ٥ ص ٣٠‘ مطبوعہ دارالوفاء بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

ایک اور غیر مقلد عالم نواب صدیق حسن بھوپالی متوفی ١٣٠٧ ھ نے بھی اسی طرح لکھا ہے۔(فتح البیان ج ٥ ص ٣٨٣۔ ٣٨٢‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢٠ ھ)

جمہور فقہاء کا استدلال اس آیت کے علاوہ اس حدیث سے ہے۔

عمرو بن شعیب اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس چیز کا ابن آدم مالک نہ ہو اس کی نذر ماننا صحیح نہیں ہے اور جس غلام کا وہ مالک نہ ہو اس کو آزاد کرنا صحیح نہیں ہے اور جس عورت کا وہ مالک نہ ہو اس کو طلاق دینا صحیح نہیں ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن ہے۔

(مسند احمد ج ٢ ص ١٩٠‘ سنن الرمذی رقم الحدیث : ١١٨١‘ سنن ابودائود رقم الحدیث : ٢١٩٠‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٢٠٤٧‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٧٩٢‘ سنن کبری للبیھقی ج ٧ ص ٣١٨‘ مجمع الزوائد ج ٤ ص ٣٣٧)

اجنبی عورت کو تعلیقاً طلاق دینے کے متعلق فقہاء احناف کے موقف پر قرآن اور سنت سے دلائل 

فقہاء احناف کے خلاف یہ آیت اور یہ حدیث اس وقت ہوتی جب وہ یہ کہتے کہ اگر کوئی شخص کسی اجنبی عورت سے یہ کہے کہ تجھے طلاق ہے تو اس پر طلاق پڑجائے گی ‘ اس وقت یہ کہا جاسکتا تھا کہ جو عورت اسکے نکاح اور اس کی مالک میں نہیں ہے اس پر طلاق کا واقع ہونا اس آیت اور اس حدیث کے خلاف ہے ‘ لیکن فقہاء احناف اس طرح نہیں کہتے وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے یہ کہا کہ اگر میں فلاں عورت سے نکاح کیا تو اس کو طلاق تو جب وہ اس عورت سے نکاح کرلے گا تو اور وہ اس کی ملک میں آجائے گی تو اس پر طلاق واقع ہوجائے گی اور یہ صورت اس آیت اور اس حدیث کے خلاف نہیں ہے ‘ اس صورت میں تعلیق صحیح ہے ‘ جیسا کہ جمہور فقہاء کے نزدیک بھی یہ نذر صحیح ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر میرے پاس مثلاً سو روپے آگئے تو میں ان کو صدقہ کردوں گا ‘ تو جب اس کے پاس سوروپے آجائیں گے تو اس پر صدقہ کرنا لازم ہوگا ‘ حالانکہ اس وقت اس کی ملک میں سوروپے نہیں ہیں۔ تو جس طرح اس وقت ملک میں سو روپے نہ ہونے کے باوجود اس کی تعلیقاً یہ نذر صحیح ہے اسی طرح اس کے نکاح میں کسی معین عورت کے نہ ہونے کے باوجود تعلیقاً یہ طلاق صحیح ہے۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ عمران کی بیوی کے ہاں ابھی بچہ پیدا نہیں ہوا تھا اور انہوں نے اس کو بیت المقدس کی خدمت کے لیے وقف کرنے کی نذر مان لی تھی ‘ قرآن مجید میں ہے :

اذ قالت امرات عمرن رب انی نذرت لک ما فی بطنی محرراً فتقبل منی۔ (آل عمران : ٣٥) اور یاد کیجئے ! جب عمران کی بیوی نے کہا تھا اے میرے رب ! میرے پیٹ میں جو ہے اس کی میں نے خاص تیرے لیے نذر مانی ہے ‘(دیگر ذمہ داریوں سے) آزاد کیا ہوا ‘ تو اسکو میری طرف سے قبول فرما۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

اجنبی عورت کو تعلیقاً طلاق دینے میں فقہاء احناف کے ——-

موقف پر آثار صحابہ اور فتاویٰ تابعین سے دلائل 

ابو سلمہ بن عبدالرحمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عمر بن الخطاب کے پاس آیا اور اس نے بتایا میں نے یہ کہا ہے کہ وہ عورت جس سے میں نکاح کروں گا اس کو تین طلاقیں ‘ حضرت عمر نے فرمایا جس طرح تم نے کہا اسی طرح ہوگا۔(مصنف عبدالرزاق ج ٦ ص ٣٢٥‘ رقم الحدیث : ١١٥١٨ طبع جدید ‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

زہری سے پوچھا گیا ایک شخص نے کہا ہے ہر وہ عورت جس سے میں نکاح کروں اس کو طلاق ہے ؟ انہوں نے کہا جس طرح اس نے کہا اسی طرح ہے۔ (مصنف عبدالرزاق : ١١٥١٩)

معمر نے کہا گیا بعض صحابہ سے منقول نہیں ہے کہ نکاح سے پہلے طلاق نہیں پڑتی اور ملکیت سے پہلے کوئی آزاد نہیں ہوتا ‘ انہوں نے کہا یہ اس صورت میں ہے جب کوئی شخص یوں کہے کہ فلاں عورت کو طلاق یا فلاں غلام آزاد۔ (مصنف عبدالرزاق ج ٦ ص ٣٤٥ طبع جدید)

شعبی سے سوال کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا ہر وہ عورت جس کو میں تجھ پر نکاح کر کے لائوں اسکو طلاق ہے ‘ انہوں نے جواب دیا کہ وہ اپنی بیوی کے اوپر جس عورت سے بھی نکاح کرے گا اس کو طلاق پڑجائے گی۔

(مصنف ابن ابی شیبہ ج ٤ ص ٦٦‘ رقم الحدیث : ١٧٨٣٢‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ)

خلوت صحیحہ سے مہر کے وجوب پر امام رازی کے اعتراض کا جواب 

نیز اس آیت میں فرمایا ہے : پھر عمل زوجیت سے پہلے تم ان کو طلاق دے دو تو تمہارے لیے ان پر کسی قسم کی عدت نہیں ہے ‘ جسکا تم شمار کرو ‘ سو تم ان کو کچھ ان کے فائدہ کی چیزیں دے کر حسن سلوک سے ان کو رخصت کردو۔

اس آیت میں جو فرمایا ہے عمل زوجیت سے پہلے تم انہیں طلاق دے دو ‘ اس میں عمل زوجیت سے مراد عام ہے حقیقۃً ہو یا حکماً ہو اور حکماً عمل زوجیت سے مراد خلوت صحیحہ ہے ‘ اور خلوت صحیحہ کو حکماً عمل زوجیت اس لیے قراردیا ہے کہ عورت نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کردیا اس عمل سے کوئی شرعی اور طبعی مائع نہیں ہے اس کے باوجود اگر خاوند نے یہ عمل نہیں کیا تو عورت کی طرف سے اس عمل کی پیش کش ہوچکی ہے اور یہ حکماً عمل زوجیت ہے ‘ اس لیے اگر خلوت صحیحہ کے بعد خاوند نے عورت کو طلاق دیدی تو وہ فقہاء احناف کے نزدیک پورے مہر کی مستحق ہوگی خواہ خاوند نے یہ عمل نہ کیا ہو ‘ کیونکہ عورت اسے اس عمل کیلیے پیش کرچکی تھی اور خاوند نے اگر عمل نہیں کیا تو عورت کی طرف سے کوئی تقصیر نہیں ہے لہٰذا وہ اس صورت میں بھی مکمل مہر کی مستحق ہوگی اور اس قول پر امام رازی کا یہ اعتراض صحیح نہیں ہے۔

امام شافعی نے فرمایا ہے خلوت صحیحہ مہر کو ثابت نہیں کرتی ‘ اور امام ابوحنیفہ نے فرمایا ہے خلوت صحیحہ مہر کو ثابت کرتی ہے ‘ امام شافعی کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :

فما استمتعتم بہ منھن فاتوھن اجورھن۔ (النسائ : ٢٤) تم نے جن عورتوں سے نفع اٹھا لیا ہے ان کو ان کے مہر ادا کردو۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کی ادائیگی کا وجوب عورتوں سے نفع ا اٹھانے یعنی عمل زوجیت کے سبب سے ہے ‘ اور اگر خلوت صحیحہ بھی مہر کو واجب کو رتی اور ظاہر ہے کہ خلوت صحیحہ عمل زوجیت پر مقدم ہوتی ہی تو پھر اس عمل سے پہلے ہی مہر ثابت ہوجانا چاہیے حالانکہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مہر کے ثبوت کا تعلق اس عمل کے سبب سے ہے ‘ پس معلوم ہوگیا کہ خلوت صحیحہ سے مہر ثابت نہیں ہوتا۔ (تفسیر کبیر ج ٤ ص ٤١۔ ٤٠‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

ہم یہ کہتے ہیں کہ اس آیت میں حصر کا کوئی لفظ نہیں ہے مہر صرف عمل زوجیت سے ثابت ہوتا ہے حتی کہ یہ کہا جائے کہ خلوت صحیحہ سے بھی مہر ثابت نہیں ہوتا ‘ اس جواب کا ہم نے تبیان القرآن ج ٢ ص ٦٣٣ میں بھی ذکر کیا ہے ‘ اور دوسرا جواب وہ ہے جو ہم نے یہاں ذکر کیا ہے کہ اس آیت میں استمتاع یعنی عمل زوجیت سے مراد ہے حقیقۃ ہو یا حکماً ہو اور خلوت صحیحہ بھی حکما عمل زوجیت ہے اس لیے خلوت صحیحہ سے بھی مہر ثابت ہوجائے گا۔ اور اس طرح عموم مراد لینے کی قرآن مجید میں اور بھی نظائر ہیں مثلا فرمایا :

ومن یکفر بالایمان فقد حبط عملہ۔ (المائدہ : ٥) اور جس نے ایمان (لانے) کے بعد کفر کیا تو بیشک اس کا عمل ضائع ہوگیا۔

اب اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد شرک کرے تو پھر بھی اس کا عمل ضائع ہوجائے گا اور اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ کفر سے مراد عام ہے حقیقہً ہو یا حکماً ہو اور شرک بھی حکماً کفر ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ۔ (النساء ٤٨) بیشک اللہ اس کو نہیں معاف فرمائے گا کہ اسکے ساتھ شرک کیا جائے۔

اب اگر کوئی شخص نماز یا زکوۃ کی فرضیت کا انکار کردے اور یہ شرک نہیں ہے ‘ تو کیا اس کو اللہ تعالیٰ معاف فرمادے گا ؟ اس کے جواب میں یہی کہا جائے گا کہ یہ حقیقۃً شرک نہیں ہے حکماً کفر ہے ‘ اس لیے یہ بھی معاف نہیں ہوگا۔

اسی طرح خلوت صحیحہ بھی حکماً استمتاع اور عمل زوجیت ہے اور اس سے بھی مہر ثابت ہوگا خواہ بالفعل یہ عمل نہ کیا جائے۔

اور اس آیت (الاحزاب : ٤٩) میں فرمایا ہے ‘ پھر عمل زوجیت سے پہلے تم ان کو طلاق دے دو ‘ یعنی تم نے حقیقۃً یہ عمل کیا ہو نہ حکما ‘ خلوت صحیحہ ہوئی ہو اور نہ عمل تزویج کیا ہو تو تمہارے لیے ان پر کسی قسم کی عدت نہیں ہے جس کا تم شمار کرو ‘ سو تم ان کو کچھ ان کے فائدہ کی چیزیں دے کر حسن سلوک سے ان کو رخصت کردو۔

مطلقہ کو نصف مہر اور متاع دینے کے وجوب کے محامل 

امام ابوبکر احمد بن علی جصاص رازی متوفی ٣٧٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں عدت کی نفی خلوت صحیحہ اور جماع دونوں سے متعلق ہے اور ان کو ان کے فائدہ کی کچھ چیزیں دینا اس صورت میں ہیجب ان کا مہر مقرر نہ کیا ہو اور اب ان کے فائدہ کی کچھ چیزیں دینا واجب ہے اور اگر ان کا مہر مقرر کیا گیا تھا تو ان کو نصف مرہ دینا واجب ہے اور انکے فائدہ کی کچھ چیزیں دینا مستحب ہے جیسا کہ ان آیتوں میں ہے :

تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تم عورتوں کو اس وقت طلاق دے دو جب تم نے ان کو ہاتھ نہ لگایا ہو (انکے ساتھ خلوت صحیحہ ہوئی ہو نہ تم نے ان کے ساتھ عمل تزویج کیا ہو) یا تم نے ان کا مہر مقرر نہ کیا ہو ‘ اور تم انہیں استعمال کے لیے کوئی چیز دے دو ‘ خوش حال پر اس کے موافق ہے اور تنگ دست پر اس کے لائق دستور کے مطابق انہیں فائدہ پہنچانا نیکی کرنے والوں پر (ان کا) حق ہے۔ اور اگر تم نے عورتوں کو ہاتھ لگانے (خلوت صحیحہ اور عمل تزویج) سے پہلے انہیں طلاق دے دی درآں حالیکہ تم ان کا مہر مقرر کرچکے تھے تو تمہار مقرر کیے ہوئے مہر کا نصف (ادا کرنا واجب) ہے ‘ البتہ عورتیں کچھ چھوڑ دیں ‘ یا جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے وہ کچھ زیادہ دے دے تو کچھ حرج نہیں۔ (البقرہ : ٢٣٧۔ ٢٣٦)

امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری الا حزاب : ٤٩ کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں یہ آیت اس شخص کے متعلق ہے جو کسی عورتی سے نکاح کرے پھر اس کو ہاتھ لگانے سے پہلے اس کو طلاق دے دے ‘ پس جب وہ اس عورت کو ایک طلاق دے گا تو وہ اس سے بائن ہوجائے گی اور اس پر کوئی عدت نہیں ہے ‘ وہ جس سے چاہے نکاح کرے پھر فمتعوھن وسرحوھن کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اگر اس نے اس عورت کے لیے مہر مقررر کیا تھا تو اس کو صرف نصف مہر ملے گا ‘ اور اگر اس نے اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا تھا تو وہ اپنی وسعت کے مطابق اسے کچھ فائدہ کی چیزیں دے دے۔

اور یہی سراح جمیل کا معنی ہے۔ (جامع البیان جز ٢٢ ص ٢٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

خلوت صحیحہ کی تعریف 

علامہ مصلح الدین القو جوی الحنفی المتوفی ٩٥١ ھ الاحزاب : ٤٩ کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس آیت میں بیوی کو ہاتھ نہ لگانے کا ذکر ہے ‘ اور فقہاء احناف کے نزدیک خلوت صحیحہ بیوی کو ہاتھ لگانے (عمل زوجیت) کے قائم مقام ہے ‘ اور خلوت صحیحہ کی تعریف یہ ہے کہ خاوند کی بیوی کے ساتھ خلوت میں عمل زوجیت سے کوئی شرعی مانع نہ ہو ‘ مثلاً دونوں میں سے کسی نے احرام باندھا ہو ‘ یا کسی کا روزہ ہو یا بیوی کو حیض ہو اور نہ کوئی حسی مانع ہو مثلاً بیوی کو ایسی بیماری ہو جو اس عمل سے مانع ہو ‘ اور نہ کوئی عقلی مانع ہو ‘ مثلا وہاں کوئی ایسا شخص ہو جس کی وجہ سے خاوند اس عمل سے حیا کرے ‘ اگر اس طریقہ سے خلوت صحیحہ ہوچکی ہو پھر خاوند نے اس عمل سے پہلے بیوی کو طلاق دے دی تو خاوند پر مکمل مہر واجب ہوگا اور اس عورت پر احتیاطاً عدت واجب ہوگئی اور اگر اس طرح خلوت نہ ہوئی ہو اور نہ خاوند نے عمل تزویج کیا ہو تو اس پر نصف مہر واجب ہوگا ‘ اور عورت پر عدت واجب نہیں ہوگی۔

مطلقات کی اقسام اور متاع کا بیان 

نیز علامہ القو جوی الحنفی لکھتے ہیں :

فقہاء احناف کے نزدیک مطلقات کی چار قسمیں ہیں :

(١) جس عورت کے ساتھ حقیقۃً یا حکماً یہ عمل نہیں کیا گیا اور نہ اس کا مہر مقرر کیا گیا کو متاع دیناواجب ہے اور یہ قمیض ‘ دوپٹہ اور تہبند ہے۔

(٢) جس عورت کے ساتھ حقیقۃً یا حکما یہ عمل نہیں کیا گیا اور اس کا مہر مقرر کیا گیا ہے ‘ اس کو نصف مہر دینا واجب ہے اور اس کو متاع دینا مستحب ہے۔

(٣) جس عورت کے ساتھ حقیقۃً یا حکماً یہ عمل نہیں کیا گیا اور اس کا مہر مقر کیا گیا تھا اس کو وپرا مہر دینا واجب ہے اور اس کو متاع دینا مستحب ہے۔

(٤) جس عورت کے ساتھ حقیقۃً یا حکماً یہ عمل کیا گیا اور اس کا مہر مقرر کیا گیا تھا اس کو مہر مثل دینا واجب ہے اور اس کو بھی متاع دینا مستحب ہے۔ (حاثیہ شیخ زادہ علی البیھاوی ج ٦ ص ٦٤٨۔ ٦٤٧‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

سراح جمیل کا معنی 

سرحوھن سراحا جمیلا کا معنی یہ ہے کہ جب ان عورتوں پر عدت واجب نہیں ہے تو پھر ان کو بغیر طعن اور تشنیچ کے چھوڑ دو ‘ اور جانے دو ۔

اصل میں تریح کا معنی ہے اونٹوں کو پھل دار درختوں پر چرنے کے لیے چھوڑ دینا پھر اس لفظ کو مطلقاً چرنے کے لیے چھوڑنے میں استعمال کیا جانے لگا ‘ پھر اس کا اطلاق مطلقاً نکالنے اور چھوڑنے پر کیا جانے لگا۔

سراح جمیل کا یہ معنی بھی کیا گیا ہے کہ خاوند عورت کو جو کچھ دے چکا ہے اس کو اس سے واپس نہ مانگے ‘ جبائی نے کہا اس سے مراد سنت کے مطابق طلاق دینا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ پہلے دی ہوئی طلاق پر مترتب ہے اس سے نئی طلاق دینا مراد نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 49