أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا جُنَاحَ عَلَيۡهِنَّ فِىۡۤ اٰبَآئِهِنَّ وَلَاۤ اَبۡنَآئِهِنَّ وَلَاۤ اِخۡوَانِهِنَّ وَلَاۤ اَبۡنَآءِ اِخۡوَانِهِنَّ وَلَاۤ اَبۡنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَلَا نِسَآئِهِنَّ وَلَا مَا مَلَـكَتۡ اَيۡمَانُهُنَّ ۚ وَاتَّقِيۡنَ اللّٰهَ ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدًا‏ ۞

ترجمہ:

ان خواتین پر اس میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے باپ دادا ‘ اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں اور اپنی ہم دین خواتین اور اپنی باندیوں سے پردہ نہ کریں ‘ اور تم اللہ سے ڈرتی رہو ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان خواتین یراں میں کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ اپنے باپ ‘ دادا ‘ اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں اور اپنی ہم دین خواتین سے اور اپنی باندیوں سے پردہ نہ کریں ‘ اور تم اللہ سے ڈرتی رہو بیشک اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے۔ (الاحزاب : ٥٥ )

خواتین پر ان کے محارم اور ان کی باندیوں سے پردہ نہیں ہے 

جب آیت حجاب نازل ہوئی تو مسلمانوں نے پوچھا کیا ازواج مطہرات کے والدین ‘ ان کے بیٹے ‘ بھتیجے اور دیگر محارم بھی ان سے پردہ کی اوٹ سے سوال کریں گے یا یہ حکم صرف اجنبی مسلمانوں کے سوال کرنے کے ساتھ مخصوص ہے ‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

اس آیت میں چچا اور ماموں کا ذکر فرمایا اس لیے کہ چچا اور ماموں آباء کے قائم مقام ہیں ‘ قرآن مجید میں چچا پر بھی آباء کا اطلاق فرمایا ہے۔ اور وہ یہ آیت ہے :

قالوا نعبد الھک والہ ابآئک ابراھم واسمعیل۔ (البقرہ : ١٣٣) (حضرت یعقوب کے بیٹوں نے) کہا ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے اور آپ کے باپ دادا کے خدا کی جو کہ ابراہیم اور اسماعیل ہیں۔

حضرت اسماعیل ‘ حضرت یعقوب کے بیٹوں کے چچا تھے لیکن اس آیت میں ان کو آباء کے تحت درج فرمایا ہے۔

اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے :

یا عمر ! اماشعرت ان عم الرسل صنوابیہ۔ اے عمر ! کیا تم کو معلوم نہیں کہ کسی شخص کا چچا اس کے باپ کی مثل ہوتا ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث : ٩٨٣‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ١٦٢٣‘ مسند احمد ج ١ ص ٩٤)

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

اس آیت میں جن محارم کا ذکر کیا گیا ہے وہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس عورت کے چہرے کو اس کے سرکو اس کی پنڈلیوں کو اور اس کے بازئوں کو دیکھ سکتے ہیں اور اس کی پشت کو ‘ اس کے پیٹ کو اور اس رانوں کو نہیں دیکھ سکتے ‘ کسی خاتون کے محارم کے لیے اس کو دیکھنا اس لیے جائز قرار دیا گیا ہے کہ محارم کا گھروں میں آنا جانا بہت زیادہ ہوتا ہے اور خواتین کو ان سے ملنے جلنے کی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔

اسی طرح عورتوں کے اوپر ان کی ہم دین خواتین کا پردہ نہیں رکھا گیا ‘ لہٰذا ایک مسلم عورت دوسری مسلم عورت کی طرف اس کی ناف اور گھٹنوں کے ماسوا کی طرف دیکھ سکتی ہے ‘ اسی طرح مسلم خواتین پر اہل کتاب خواتین سے بھی پردہ کرنا لازم نہیں ہے ‘ کیونکہ یہودی اور غیر یہودی کافر عورتیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے پاس آیا کرتی تھیں اور وہ ان سے پردہ نہیں کرتی تھیں اور نہ ان کو پردہ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام مالک اور امام احمد کا یہی قول ہے۔

اسی طرح عورتوں پر ان کی باندیوں سے بھی پردہ نہیں رکھا ‘ اور اس میں ان کے غلام بھی داخل ہیں ‘ سو کسی عورت کا غلام بھی اس کا محرم ہے سو اس کا بھی گھر میں آنا جانا جائز ہے بہ شرطی کہ وہ پاک باز ہو ‘ سو وہ بھی محارم کی طرح عورتوں کو دیکھ سکتا ہے۔

حضرت عائشہ (رض) اپنے غلاموں کے دیکھنے کو جائز قرار دیتی تھیں ‘ آپ نے اپنے غلام ذکو ان سے فرمایا : جب تم مجھے قبر میں رکھ کر باہر آجائو گے تو تم آزاد ہو۔ اور ایک قول یہ ہے کہ یہاجازت صرف باندیوں کے ساتھ مخصوص ہے اور کسی عورت کے غلام کا حکم وہی ہے جو اس کے لیے کسی اجنبی مرد کا حکم ہوتا ہے ‘ یہی حکم تقویٰ کے زیادہ قریب ہے ‘ اور حضرت عائشہ نے جو اپنے غلام کے متعلق فرمایا تھا سا سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ‘ کیونکہ کوئی عورت حضرت عائشہ کی مثل ہے نہ کوئی غلام اذکوان کی مثل ہے ‘ خاص طور پر ہمارے زمانے میں ‘ امام ابوحنیفہ اور جموہر کا یہی قول ہے ‘ اس لیے کسی عورت کا اپنے غلام کے ساتھ حج یا کسی اور سفر پر جانا جائز نہیں ہے ‘ غلام اگر شہوت سے مامون ہو تو اس کا اپنی مالکہ کے چہرے اور ہاتھوں کی طرف دیکھنا جائز ہے ‘ لیکن اس سے اس کا محرم ہونا لازم نہیں آتا۔

اس کے بعد فرمایا : اور تم اللہ سے ڈرتی رہو یعنی تم کو جو حجاب میں رہنے کا حکم دیا ہے ‘ سو تم اللہ سے ڈرتی رہو حتی کہ تم کو تمہارے محارم کے علاوہ اور کوئی نہ دیکھے ‘ بیشک اللہ ہر چیز کا نگہبان ہے ‘ اس پر کسی وقت اور کسی حال میں کسی قول مخفی ہے نہ کسی کا فعل مخفی ہے ‘ اس لیے تم کو چاہیے کہ تم اپنی عادات کو احکام شرعیہ کے مطابق ڈھالو ‘ اللہ تعالیٰ نے تم پر اور تمہارے محارم پر یہ احسان فرمایا ہے کہ ان کے لیے تمہارے اوپر حجاب واجب نہیں کیا سو تم اس کا احسان کا شکر بجا لائو ‘ اور اللہ نے تمہیں پردہ کا جو حکم دیا ہے اس کی خلاف ورزی نہ کرو۔

(روح البیان ج ٧ ص ٢٦٠۔ ٢٥٩‘ مطبوعہ دارالتراث العربی بیروت ‘ ١٤٢١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 55