{تیمّم کا بیان}

اللہ تعالیٰ فرماتاہے : وان کنتم مرض اوعلی سفر اوجاء احد منکم من الخائط اولمستم النساء فلم تجلو اماء فتیمموا صعید اطیبا فامسحوا بوجو ھکم وایدیکم ۔

ترجمہ: یعنی اگر تم بیمار ہویاسفر میں ہویا تم میں کا کوئی پاخانہ سے آیا یا عورتوں سے مباشرت کی (جماع کیا) اورپانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو تو اپنے منہ اورہاتھوں کا اس سے مسح کرو۔

حدیث شریف: امام احمد وابو داؤد وترمذی ابو ذر رضی اللہ عنہ سے راوی سرکارِ اعظم ﷺنے فرمایا کہ پاک مٹی مسلمان کا وضو ہے اگر چہ دس برس پانی نہ پائے اورجب پانی پائے تو اپنے بدن کو پہنچائے (غُسل ،وضو کرے) کہ یہ اس کے لئے بہتر ہے ۔

تیمّم کا طریقہ}

بسم اللہ شریف پڑھ کر نیت کرے ا س کے بعد دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کشادہ کرکے کسی ایسی چیز پر جو زمین کی قسم سے ہو مار کراُٹھا لیں اور زیادہ گَرد لگ جائے توجھاڑ لیں اور اس سے سارے منہ کا مسح کریں ساتھ ہی داڑھی کاخلال کریں۔ پھر دوسری مرتبہ بھی دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کشادہ کرکے زمین پر مار یں اور دونوں ہاتھوں کا ناخن سے کہنیوں سمیت مسح کریں پھر انگلیوں کا مسح کریں۔

تیمّم کے مسائل}

مسئلہ : جس کا وضو نہ ہو یا نہانے کی ضرورت ہو اور پانی پر قدرت نہ ہو تووہ وضو وغُسل کی جگہ تیمّم کرے پانی پر قدرت نہ ہونے کی چند صورتیں ہیں۔

1)…ایسی بیماری کہ وضو یا غُسل سے اس کے زیادہ ہونے یا دیر میں اچھا ہونے کا صحیح اندیشہ ہو خواہ یوں کہ اس نے خود آزمایاہو کہ جب وضو یا غُسل کرتاہے توبیماری بڑھتی ہے یا یوں کہ کسی مسلمان اچھے لائق طبیب نے جو ظاہر اً فاسق نہ ہو اس نے کہہ دیا ہوکہ پانی نقصان کرے گا۔

2)…چاروں طرف ایک ایک میل تک پانی کا پتہ نہیں۔

3)… اتنی سردی ہو کہ نہانے سے مرجانے یا بیمار ہونے کا بہت اندیشہ ہو اورلحاف وغیرہ کوئی چیز اس کے پاس نہیں جِسے نہانے کے بعد اوڑھے اورسردی کے نقصان سے بچے ۔ نہ آگ ہے جِسے تاپ سکے توتیمّم جائز ہے ۔

4)…دشمن کا خوف ہے کہ اگر اس نے دیکھ لیا تومار ڈالے گا یامال چھین لے گایا ا س غریب اورنادار کا قرض خواہ ہے کہ اسے قید کرادیگا یا سانپ ہوکہ کاٹ لے گا یا شیر ہوکہ چیر پھاڑ دے گا یاایسا مرد یاایسی عورت جس کو اپنی عزت لُٹ جانے کا خوف ہو تو تیمّم جائز ہے ۔

5)…جنگل میں ہے اورجنگل میں ڈول رسی نہیں کہ پانی بھرے ایسی صورت میں بھی تیمّم جائز ہے ۔

6)…پیاس کاخوف یعنی اس کے پاس پانی ہے مگر وضو یا غُسل کے صرف میں لائے گا توخود یا دوسرا مسلمان یااپنا یا اس کا جانور اگر چہ کُتّا جس کا پالنا جائز ہے پیاسا رہ جائے گا۔ اوراپنی یا ان میںکسی کی پیاس خواہ فی الحال موجود ہو یا آئندہ اس کا اندیشہ ہوکہ وہ راستہ ایسا ہے کہ دور تک پانی نہیں ہے توایسی صورت میں بھی تیمّم جائز ہے ۔

7)…پانی گراں ہونا یعنی وہاں کے حساب سے جو قیمت ہونی چاہیئے اس سے دوچند مانگتا ہے توتیمم جائز ہے اوراگر قیمت میں اتنا فرق نہیں تو تیمّم جائز نہیںہے ۔

8)…یہ گمان ہے کہ اگر پانی تلاش کروں گا توقافلہ نظروں سے غائب ہوجائے گا یا ریل چھوٹ جائے گی ایسی صورت میں تیمّم جائز ہے ۔

9)…یہ گمان ہے کہ اگر وضو یا غُسل کریگا توعیدین کی نما زچلی جائے گی خواہ یوں کہ امام پڑھ کر فارغ ہوجائے گا یا زوال کا وقت آجائے گادونوں صورتوں میں تیمّم جائز ہے ۔

10)…غیرولی کو نمازِ جنازہ فوت ہوجانے کا خوف ہوتوتیمّم جائز ہے ولی کو نہیںکہ اس کا لوگ انتظار کریں گے اورلو گ بے اس کی اجازت کے پڑھ بھی لیں تویہ دوبارہ پڑھ سکتاہے ۔

مسئلہ : اگرکسی نے ہاتھ مٹی پر مار کر منہ اورہاتھوں پر پھیر لیا اورنیت نہ کی تیمّم نہیں ہوگا۔

مسئلہ : اتنا پانی ملا کر جس سے وضو ہوسکتاہے اور اُسے غُسل کی ضرورت ہے تواس پانی سے وضو کرلے اورغُسل کے لئے تیمّم کرے ۔

مسئلہ : اگر سر پر پانی ڈالنا نقصان کرتاہے تو گلے سے نہائے اورپورے سر کا مسح کرے ۔

مسئلہ : اگر ایسا دشمن ہے کہ ویسے اس سے کچھ نہ بولے گا مگر کہتاہے کہ وضو کے لئے پانی لوگے تو مار ڈالو ں گا یا قید کرادوں گا تواس صورت میں حکم یہ ہے تیمّم کرکے نماز پڑھ لے اوراعادہ کرے اوراگر وہ دشمن یا قید خانے والے نماز بھی نہ پڑھنے دیں تواشارہ سے پڑھے پھر لوٹالے ۔

مسئلہ : وقت اتنا کم ہے کہ وضو یا غُسل کرے گا تونماز قضا ہوجائے گی توایسی صورت میں تیمّم کرکے نماز پڑ ھ لے پھر وضو یا غُسل کرکے لوٹا نا لازم ہے ۔

مسئلہ : اگر کوئی ایسی جگہ ہے کہ نہ پانی ملے نہ پاک مٹی کہ تیمّم کرے تو ایسی صورت میں وقت ِ نماز میںنماز کی سی صورت بنائے یعنی تمام حرکات نماز بِلا نیت بجا لائے ۔

کس چیزسے تیمم جائزہے اورکس سے نہیں }

مسئلہ : تیمّم اسی چیز سے ہوسکتاہے جو جنسِ زمین سے ہواور جو چیز جنسِ زمین سے نہیں اس سے تیمّم جائز نہیں۔

مسئلہ: جس مٹی سے تیمّم کیا جائے اس کا پاک ہونا ضروری ہے یعنی نہ اس پر کسی نجاست کااثر ہو نہ یہ ہو کہ محض خشک ہونے سے اثر نجاست جاتارہا ہو۔

مسئلہ : جو چیز آگ سے جل کر راکھ ہوتی ہے نہ پگھلتی ہے نہ نرم ہوتی ہے وہ زمین کی جنس سے ہے اس سے تیمم جائز ہے ،ریت، چونا، سرمہ ، ہڑتال ، گندھک ، مروہ ، سنگ ، گیرو، پتھر، زبرجد، فیروزہ ، عقیق، زمردوغیرہ جواہر سے تیمّم جائز ہے اگر چہ ان پر غبار نہ ہو۔

مسئلہ: غلّہ گیہوں ، جَو وغیرہ اورلکڑی اورگھاس اورشیشہ پر غُبار ہو تواس غُبار سے تیمّم جائز ہے جب کہ اتنا ہوکہ ہاتھ میںلگ جاتاہو ورنہ نہیں ہوگا۔

مسئلہ : مُشک ،عنبر ، کافور، لوبان ، موتی ، سیپ ، راکھ ، سونا، چاندی ، فولاد ان تمام چیزوں سے تیمّم جائز نہیں ہے ۔

مسئلہ : جس جگہ سے ایک نے تیمّم کیا دوسرا شخص بھی اس جگہ سے تیمّم کرسکتاہے یہ مشہور ہے کہ مسجد کی دیواریازمین سے تیمّم کرنا ناجائز اور مکروہ ہے یہ بات غلط ہے ۔

تیمّم کِن چیزوں سے ٹوٹتا ہے }

مسئلہ : مریض نے غُسل کا تیمّم کیا تھا اب وہ تندرست ہوگیا کہ غُسل سے نقصان نہ پہنچے گا لہٰذا اب اس کا تیمّم ٹوٹ گیا۔

مسئلہ : کسی نے غُسل اوروضو دونوں کا تیمّم کیا تھا پھر اتنا پانی پایا کہ صرف وضو ہوسکتاہے یا وہ بیمار تھا اوراب تندرست ہوگیا لہٰذا اب وضو سے اس کی صحت کو نقصان نہ ہوگا غُسل سے نقصا ن ہوگا توایساشخص وضو کرے کیونکہ وضو کا تیمّم ٹوٹ گیا ہے غُسل کا تیمّم باقی ہے ۔

مسئلہ : پانی پرگُزرا مگر اپنا تیمّم یاد نہیںہے ایسی صورت میں تیمّم ٹوٹ گیا۔

مسئلہ : پانی نہ ملنے کی وجہ سے تیمّم کیا تھا۔ اب پانی ملا توایسا بیمار ہوگیا کہ اگر پانی استعمال کرے گا تو نقصان ہوگا توایسی صورت میں تیمّم ٹوٹ گیا اب بیماری کی وجہ سے دوبارہ تیمّم کرے ۔ یونہی بیماری کی وجہ سے تیمّم کیا اب تندرست ہوگیا اور پانی نہیں ملا جب بھی نیا تیمّم کرے ۔

{ناپاک چیزوں کو پاک کرنے کا طریقہ}

مسئلہ : کپڑے یاکوئی چادر ناپاک ہوجائے تواُس کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ کپڑے یا چادر کے اس ناپاک حصّے کو تین مرتبہ دھولیا جائے کپڑے کا وہ حصّہ پکڑ کر پانی میں ڈالا جائے پھر نچو ڑ لیا جائے اس کے بعد ہاتھ دھو کر دوبارہ وہ حصّہ پکڑ کر پانی سے گِیلا کیاجائے پھر نچوڑا جائے اس کے تیسری مرتبہ ہاتھ کو دھو کر وہ حصّہ پکڑ کر پانی سے گیلا کیا جائے اورنچوڑا جائے یہ آپ کاناپاک کپڑا پاک ہوگیا اب آپ اس کپڑے سے نماز پڑھ سکتے ہیں۔

مسئلہ : کپڑے یا ہاتھ میںنجس رنگ لگا یا ناپاک مہندی لگائی تو اتنی مرتبہ دھوئیںکہ صاف پانی گرنے لگے پاک ہوجائے گا اگر چہ کپڑے یا ہاتھ پر رنگ باقی ہو۔

مسئلہ : ناپاک زمین اگرہوا یا دھوپ سے خشک ہوگئی اور رنگ اوربُو بھی چلی جائے تو وہ زمین پاک ہوگئی ہے ۔

مسئلہ : کپڑے کو تین مرتبہ پانی سے دھوکر ہر مرتبہ خوب نچوڑ لیا کہ اب نچوڑنے سے نہ ٹپکے گا پھر کپڑے کولٹکادیا اوراس کپڑے سے پانی ٹپکا تویہ پانی پاک ہے اوراگر خوب نہ نچوڑا تھا تو یہ پانی ناپاک ہے ۔