أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَسۡــئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُهَا عِنۡدَ اللّٰهِؕ وَمَا يُدۡرِيۡكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوۡنُ قَرِيۡبًا ۞

ترجمہ:

لوگ آپ سے قیامت کے متعقل سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے اور (اے مخاطب) تجھے کیا پتا کہ شاید قیامت عنقریب واقع ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لوگ آپ سے قایمت کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ کہیے کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اور (اے مخاطب ! ) تجھے کیا پتا کہ شاید قیامت عنقریب واقع ہو۔ بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت فرمائی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے (وہاں) وہ کوئی حمایت کرنے والا پائیں گے اور نہ کوئی مدد کرنے والا۔ (الحزاب :63-65)

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قیامت کا علم تھا یا نہیں ؟

ان آیتوں میں ان لوگوں کا بیان ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذاء پہنچاتے تھے، جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافروں کو آخرت اور قیامت کے عذاب سے ڈراتے تھے، تو وہ قیامت کے آنے کو بہت بعید سمجھتے تھے اور اس کے آنے کی تکذیب کرتے تھے اور لوگوں کے دماغوں میں یہ وہم ڈالتے تھے کہ قیامت نہیں آئے گی، اس لئے وہ استھزاء رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے تھے کہ بتایئے قیامت کب آئے گی ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : آپ ان لوگوں کے سوال کے جواب میں یہ کہیے کہ قیامت کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے، یعنی از خود، بغیر تعلیم کے اور ذاتی علم تو صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی قیامت کا علم عطا فرمایا ہے، آپ نے وقوع قیامت کی بہ کثرت علامتیں اور شرئاط بیان فرمائی ہیں آپ نے بتایا کہ جب بروں کی عزت کی جائے اور نیکیوں کو رسوا کیا جائے، علم اٹھ جائے اور جہل کا غلبہ ہو، اور زنا اور بدکاری عام ہوجائے، طوائفوں کا ناچ کھلے عام دیکھا جائے، شراب نوشی کی کثرت اور مساجد میں فساق کی آوازیں بلند ہوں تو یہ قیامت کی نشانیاں ہیں۔

قیامت کی نشانیاں بیان کرنے کے متعلق احادیث 

حضرت حذیفہ بن اسید الغفاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم آپس میں بحث کر رہے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے آئے آپ نے فرمایا تم کس چیز کا ذکر کر رہے ہو ؟ ہم نے کہا ہم قیامت کا ذکر کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا قیامت ہرگز اس وقت تک قائم نہیں ہوگی حتیٰ کہ تم اس سے پہلے دس نشانیاں نہ دیکھ لو، پھر آپ نے دھوئیں کا، دجال کا، دبتہ الارض کا، سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کا، حضرت عیسیٰ بن مریم کے نزول کا، یاجوج ماجوج کا اور تین مرتبہ زمین کے دھنسنے کا ذکر فرمایا، ایک مرتبہ مشرق میں ایک مرتبہ مغرب میں ایک مرتبہ جزیرہ عرب میں اور سب کے آخر میں ایک آگ ظاہر ہوگی جو لوگوں کو محشر کی طرف لے جائے گی۔ (صحیح مسلم الفتن ٣٩ (2901) ٧١٥٢، سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٣١١، سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢١٨٣ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٤٠٤١ جامع الاصول رقم الحدیث : ٧٩٢١ 

حضرت انس بن مالک (رض) نے کہا کیا میں تم کو وہ حدیث نہ سنائوں جس کو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا اور میرے بعد کوئی ایسا شخص نہیں ہوگا جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کو سنا ہو، آپ نے فرمایا قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھایا جائے گا اور جہل کا ظہور ہوگا اور زنا عام ہوگا اور شراب پی جائے گی اور مرد چلے جائیں گے اور عورتیں باقی رہ جائیں گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا کفیل ایک مرد ہوگا۔ (صحیح مسلم العلم ٩ (2671) 6660، صحیح البخاری رقم الحدیث :81 سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٢١٢ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٤٠٤٥ مسند احمد ج ٣ ص ١٢٠ جامع الاصول رقم الحدیث : ٧٩٢٢ )

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ زمانہ متقارب ہوجائے گا اور علم کم ہوجائے گا اور فتنوں کا ظہور ہوگا اور قتل بہت زیادہ ہوگا۔ (صحیح مسلم العلم 10 (2672) 6662، صحیح البخاری رقم الحدیث :7062، 6064، سنن الترمذی : 2207 سنن ابودائود رقم الحدیث :4255 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :4051-4050 مسند احمد ج ٢ ص ٥٢٥ جامع الاصول رقم الحدیث : ٧٩٢٤ )

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب میری امت پندرہ کاموں کو کرے گی تو اس پر مصائب کا آنا حلال ہوجائے گا، عرض کیا گیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وہ کیا کام ہیں ؟ آپ نے فرمایا جب مال غنیمت کو ذاتی مال بنا لیا جائے گا اور امانت کو مال غنیمت بنا لیا جائے گا اور زکوۃ کو جرمانہ سمجھ لیا جائے گا، جب لوگ اپنی بیوی کی اطاعت کریں گے اور وہ اپنی ماں کی نافرمانی کریں گے اور جب دوست کے ساتھ نیکی کریں گے اور باپ کے ساتھ برائی کریں گے اور جب مسجدوں میں آوازیں بنلد کی جائیں گی اور ذلیل ترین شخص کو قوم کا سردار بنادیا جائے گا اور جب کسی شخص کے شر کے ڈر سے اس کی عزت کی جائے گی، شراب پی جائے گی اور ریشم پہنا جائے گا اور گانے والیاں اور ساز رکھے جائیں گے، اور اس امت کے آخری لوگ پہلوئوں کو برا کہیں گے اس وقت تم سرخ آندھیں، زمین کے دھنسنے اور مسخ کا انتظار کرنا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث :2217 جامع الاصول رقم الحدیث :7925)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بہتر دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے وہ جمعہ کا دن ہے جس میں حضرت آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن جنت سے باہر لائے گئے اور قیامت بھی صرف جمعہ کے دن قائم ہوگی۔ (صحیح مسلم الجمعہ 1944-854-18 سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1084 سنن النسائی رقم الحدیث :1373)

حضرت عبداللہ بن سلام (رض) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے دو دنوں میں زمین کو پیدا کیا اور چار دنوں میں اس کی روزی پیدا کی، پھر استواء فرمایا پھر دونوں میں آسمانوں کو پیدا فرمایا، زمین کو اتوار اور پیر کے دن پیدا کیا اور منگل اور بدھ کو اس کی روزی پیدا کی اور آسمانوں کو جمعرات اور جمعہ کے دن پیدا کیا اور جمعہ کی آخری ساعت میں عجلت سے حضرت آدم کو پیدا کیا اور اسی ساعت میں قیامت قائم ہوگی۔ (یہ حدیث حکماً مرفوع ہے۔ ) (کتاب الاسماء و الصفات للبیھقی ص 383 مطبوعہ داراحیائ التراث العربی، بیروت)

حضرت ابن عباس (رض) سے عاشوراء کے فضائل میں روایت ہے کہ قیامت عاشوراء کے دن واقع ہوگی یعنی دس محرم کو۔ (فضائل الاوقات ص 441)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قیامت واقع ہونے سے پہلے اس کی تمام نشانیاں بیان فرمائیں اور موخر الذکر حدیث میں یہ بھی بتادیا کہ محرم کے مہینہ کی دس تاریخ کو جمعہ کے دن، دن کی آخری ساعت میں قیامت واقع ہوگی، مہینہ، تاریخ، دن اور خاص وقت سب بتادیا صرف سن نہیں بتایا، کیونکہ اگر سن بھی بتا دیتے تو ہم آج جان لیتے کہ قیامت آنے میں اب اتنے سال باقی رہ گئے ہیں اور ایک دن بلکہ ایک گھنٹہ پہلے لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اب ایک گھنٹہ بعد قیامت آئے گی اور قیامت کا آنا اچانک نہ رہتا اور قرآن جھوٹا ہوجاتا کیونکہ قرآن نے فرمایا :

(الاعراف :187) قیامت تمہارے پاس اچانک ہی آئیگی۔

اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن مجید کے مکذب نہیں مصدق تھے اس لئے آپ نے قرآن مجید کے صدق کو قائم رکھنے کے لئے سن نہیں بتایا اور اپنا علم ظاہر فرمانے کے لئے باقی سب کچھ بتادیا۔ اور جب ان احادیث صحیحہ کثیرہ سے یہ واضح ہوگیا کہ آپ کو قیامت کے وقوع کا علم تھا تو اس آیت میں جو فرمایا ہے کہ ” آپ کہیے کہ اس کا علم صرف اللہ کے پاس ہے، اس کا محمل یہ ہے کہ وقوع قیامت کے وقت کا بغیر تعلیم کے از خود علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

علم قیامت کی نفی کے متعلق مفسرین کی توجیہات 

علامہ اسماعیل حقی حنفی متوفی 1137 ھ اس آیت کی فسیر میں لکھتے ہیں :

آپ کو کون سی چیز وقت وقوع قیامت کا عالم بنائے گی، یعنی آپ کو بالکل کوئی چیز اس کا عالم نہیں بنائے گی سو آپ کو وقت وقوع قیامت کا علم نہیں ہے اور کسی شخص کے نبی ہونے کی یہ شرط نہیں ہے کہ اس کو اللہ کی تعلیم کے بغیر غیب کا علم ہوجائے۔ اس آیت میں ان لوگوں کو تہدید اور ڈانٹ ڈپٹ کی گی ہے جو قیامت کے وقوع کو جلد طلب کرتے تھے اور ان لوگوں کو ساکت کیا ہے جو عناد اور سرکشی سے وقوع قیامت کا انکار کرتے تھے۔ (روح البیان ج ٧ ص 288، مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت، 1421 ھ)

علامہ احمد بن محمد صاوی مالکی متوفی 1223 ھ لکھتے ہیں :

لوگ آپ سے بہ طور استھزاء اور تمسخر قیامت کے متعق سوال کرتے ہیں کیونکہ وہ قیامت کے منکر ہیں۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اہل مکہ اور یہود و قیامت کے متعلق سوال کرتے تھے، اہل مکہ استھزاء قیامت کے متعلق سوال کرتے تھے اور یہود امتحاناً سوال کرتے تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تورات میں قیامت کا علم مخفی رکھا تھا، اگر آپ معین کر کے بتا دیتے کہ فلاں سن میں قیامت آئے گی تو ان کے نزدیک آپ کی نبوت کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجاتا اور اگر آپ یہ فرماتے کہ قیامت کا علم صرف میرے رب کے پاس ہے تو ان کے نزدیک آپ کی نبوت ثابت ہوجاتی، اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے علم پر کسی کو مطلع نہیں فرمایا، اس کا محمل یہ ہے کہ جب لوگوں نے آپ سے قیامت کے متعلق سوال کیا تھا، ورنہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت تک دنیا سے تشریف نہیں لے گئے جب تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام غیوبات پر مطلع نہیں فرما دیا اور ان تمام غیوبات میں قیامت کا علم بھی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان غیوبات کے مخفی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ (حاشیۃ الصاوی علی الجلالین ج ٥ ص 1657-1658، دارالفکر بیروت، 1421 ھ)

اسی طرح سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270 ھ لکھتے ہیں :

اور یہ بات جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب (علیہ الصلوۃ والسلام) کو وقت وقوع قیامت پر مکمل اطلاع دی ہو مگر اس طریقہ پر نہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے علم کی حکایت کریں، اور ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی حکمت کی وجہ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اس علم کا اخفاء واجب کردیا ہو اور یہ علم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خواص میں سے ہو، لیکن مجھے اس پر کو ئق طعی دلیل حاصل نہیں ہوئی۔ (روح المعانی جز 21 میں 170 مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1417 ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 33 الأحزاب آیت نمبر 63