أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا هَلۡ نَدُلُّكُمۡ عَلٰى رَجُلٍ يُّنَبِّئُكُمۡ اِذَا مُزِّقۡتُمۡ كُلَّ مُمَزَّقٍۙ اِنَّكُمۡ لَفِىۡ خَلۡقٍ جَدِيۡدٍۚ‏ ۞

ترجمہ:

اور کافروں نے کہا کیا ہم ایسے مرد کی طرف تمہاری رہنمائی کریں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم مکمل ریزہ ریزہ کردیئے جائو گے تو پھر تم از سر نو پیدا کئے جائو گے

اس کے بعد فرمایا : کیا ہم ایسے مرد کی طرف تمہاری رہنمائی کریں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم مکمل ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو پھر تم از سر نو پیدا کئے جائو گے۔ (سبا : ٧)

جزلایتجزیٰ کے ثبوت پر دلیل 

یعنی جب تم اپنی قبروں میں بوسیدہ ہو کر گل سڑ جائو گے تو پھر تم کو نئے سرے سے پیدا کیا جائے گا ان کا یہ قول ان کے انکار کی شدت کی بناء پر ان سے صادر ہوا اور انہوں نے بہ طور طنز اور استہزاء کے یہ بات کہی تھی۔

مزق کے معنی ہیں کسی چیز کا پھٹنا، ٹکڑے ٹکڑے ہونا اور منقسم ہونا، متکلمین نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ جزلا ستجزیٰ برحق ہے، جز لایتجزیٰ کا معنی یہ ہے کہ کسی چیز کی پوری پوری اس طرح تقسیم کردی جائے کہ اس کے بعد خارج میں اس کی مزید تقسیم نہ ہو سکے اور اس آیت میں فرمایا ہے کہ جب تم مکمل ریزہ ریزہ ہو جائو گے اگر اس جز کی مزید تقسیم ہو سکے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ مکمل ریزہ ریزہ نہیں ہوا اور جب یہ کہا کہ وہ مکمل ریزہ ریزہ ہوگیا اور اس کی کل اقسام کردی گئیں تو اس کا یہ معنی ہے کہ اس کی مزید تقسیم نہیں ہوسکتی، اگر یہ کہا جائے کہ اس کی وہمی اور عقلی تقسیم تو پھر بھی ہوسکتی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ وہمی اور عقلی تقسیم تو کہیں نہیں رکتی لیکن خارج خ میں اس کی تقسیم کہیں نہ کہیں ضرور ٹھہرے گی، جیسا کہ علامہ میڈی نے کہا ہے کہ اجزاء ذی مقراطیسیہ غیر منقسم ہیں کیونکہ وہ اس قدر سخت ہیں کہ کٹ نہیں سکتے اور اس قدر چھوٹے ہیں کہ ٹوٹ نہیں سکتے اس لئے ہوسکتا ہے کہ جسم ان ہی اجزاء سے مرکب ہوا اور وہی غیر منقسم اجزاء فصل اور وصل کو قبول کرتے ہوں۔

القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 7