أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَلَمۡ يَرَوۡا اِلٰى مَا بَيۡنَ اَيۡدِيۡهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَالۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ نَّشَاۡ نَخۡسِفۡ بِهِمُ الۡاَرۡضَ اَوۡ نُسۡقِطۡ عَلَيۡهِمۡ كِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ ؕ اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً لِّكُلِّ عَبۡدٍ مُّنِيۡبٍ۞

 ترجمہ:

پس کیا انہوں نے ان چیزوں کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے (پھیلی ہوئی) ہیں یعنی آسمان اور زمین اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ہم ان کے اوپر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں، بیشک اس میں ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے نشانیاں ہیں

اس کے بعد فرمایا : پس کیا انہوں نے ان چیزوں کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے آگے اور پیچھے (پھیلی ہوئی) ہیں، یعنی آسمان اور زمین، اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا ہم ان کے اوپر آسمان کے ٹکڑے گرا دیں، بیشک اس میں ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے نشانیاں ہیں۔ (سبا : ٩)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ جو ذات آسمانوں اور زمینوں کے پیدا کرنے پر قادر ہے وہ اس پر بھی ضرور قادر ہے کہ ان لوگوں کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے اور اس پر قادر ہے کہ بہت جلد ان کے اوپر عذاب لے آئے، کیونکہ تمام آسمان اور زمینیں اس کی ملکیت میں ہیں اور وہ کفار کو ہر طرف سے گھیرے ہئے ہیں تو ان کو اس بات کا ڈر اور خوف کیوں نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں اس طرح دھنسا دے جس طرح قارون کو اس کے خزانوں سمیت زمین میں دھنسا دیا تھا، یا اللہ تعالیٰ ان کے اوپر آسمان کے ٹکڑے گرا دے اور ہر وہ شخص جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو اس کے لئے اس میں اللہ کی قدرت پر بہت دلائل ہیں۔

اس آیت میں آسمان کے ٹکڑے گرانے کا ذکر ہے، اس سے معلوم ہوا کہ آسمان ٹھوس جسم ہے، اس کے ٹکڑے گرائے جاسکتے ہیں اور جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ آسمان ہوائے کثیف کے کسی طبقہ یا محض حد نگاہ کا نام ہے یہ کہنا صحیح نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 9