أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَقَدۡ اٰتَيۡنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضۡلًا ؕ يٰجِبَالُ اَوِّبِىۡ مَعَهٗ وَالطَّيۡرَ ۚ وَاَلَــنَّا لَـهُ الۡحَدِيۡدَ ۞

ترجمہ:

اور بیشک ہم نے دائود پر اپنا فضل کیا تھا، اے پہاڑو ! تم دائود کے ساتھ تسبیح کرو اور اے پرندو (تم بھی) اور ہم نے ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک ہم نے دائود پر اپنا فضل کیا تھا، اے پہاڑو تم دائود کے ساتھ تسبیح کرو اور اے پرندو (تم بھی) اور ہم نے ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا۔ کہ آپ مکمل زرہیں بنائیں اور مناسب اندازے سے ان کی کڑیاں جوڑیں اور تم نیک عمل کرتے رہو میں تمہارے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہوں۔ (سبا :10-11)

حضرت دائود (علیہ السلام) کے خصوصی فضائل 

کفار مکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو ایک نئی اور انوکھی چیز سمجھتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں یہ ظاہر فرمایا ہے کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا میں پ ہلی بار نبی بن کر نہیں آئے ہیں، ان سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ دنیا میں نبیوں اور رسولوں کو معجزات اور دلائل کے ساتھ بھیجتا رہا ہے، سو حضرت دائود (علیہ السلام) اور ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرمایا۔ فضل کے معنی زیادتی ہیں، سو اس آیت کا خلاصہ ہے ہم نے حضرت دائود کو دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کی بہ نسبت زیادہ معجزات اور کمالات عطا فرمائے ہیں خواہ وہ بنو اسرائیل کے انبیاء ہوں یا دوسری امتوں کے اور حضرت دائود (علیہ السلام) کو دوسرے انبیاء (علیہم السلام) سے زیادہ فضائل عطا فرمائے ہیں کیونکہ قرآن مجید میں ہے :

تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض (البقرہ :253) یہ سب رسول، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔

حضرت دائود (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے حسب ذیل فضائل دور سے نبیوں کی بہ نسبت زیادہ عطا فرمائے :

(١) حضرت دائود (علیہ السلام) کو زبور عطا فرمائی اس کا ذکر اس آیت میں ہے :

ولقد فضلنا بعض النبین علی بعض واتینا دائود زبوراً (بنی اسرائیل : ٥٥) 

بے شک ہم نے بعض نبیوں کو دوسرے نبیوں پر فضیلت عطافرائی اور ہم نے دائود کو زبور عطا فرمائی۔

(٢) حضرت دائود (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے وافر علم عطا فرمایا، جس کا ذکر اس آیت میں ہے :

ولقد اتینا دائود و سلیمان علماً (النمل : ١٥) بیشک ہم نے دائود اور سلیمان کو وافر علم عطا فرمایا۔

(٣) حضرت دائود (علیہ السلام) کو غیر معمولی قوت عطا فرمائی :

واذکر عبدنا دائود ذالاید انہ اوب۔ (ص : ١٧) اور آپ ہمارے بندے دائود کو یاد کیجیے جو بہت قوت والے تھے، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والے تھے۔

(٤) پہاڑوں کو اور پرندوں کو ان کے لئے مسخر کردیا تھا :

یجبال اوبی معہ والطیر : (سبا : ١٠) اے پہاڑو تم دائود کے ساتھ تسبیح کرو اور اے پرندو۔

(٥) حضرت دائود (علیہ السلام) کو زمین میں خلافت عطا فرمائی :

یداودانا جعلنک خلیفۃ فی الارض (ص : ٢٦) اے دائود ! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنادیا۔

(٦) حضرت دائود (علیہ السلام) کے لئے لوہا روئی کی طرح نرم کردیا تھا :

والنالہ الحدید : (سبا : ١٠) اور ہم نے ان کے لئے لوہا نرم کردیا تھا۔

(٧) حضرت دائود (علیہ السلام) کو بہت خوبصورت اور روشن آنکھوں والا بنایا اس کا ذکر اس حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جب حضرت آدم کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے ان کی اولاد کی وہ تمام روحیں جھڑگئیں جن کو وہ قیامت تک پیدا کرنے والا تھا، اور ان میں سے ہر انسان کی دو آنکھوں کے درمیان نور کی ایک چمک تھی، پھر وہ سب روحیں حضرت آدم پر پیش کی گئیں۔ حضرت آدم نے کہا اے میرے رب ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا یہ تمہاری اولاد ہیں۔ حضرت آدم نے ان میں سے ایک شخص کو دیکھا جس کی آنکھوں کے درمیان کی چمک ان کو بہت پیاری لگی، پوچھا اے رب یہ کون ہیعڈ فرمایا یہ تمہاری اولاد کی آخری امتوں میں سے ایک شخص ہے اس کا نام دائود ہے، کہا اے رب ! آپ نے اس کی کتنی عمر رکھی ہے ؟ فرمایا ساٹھ سال، کہا اے میرے رب ! میری عمر سے اس کے چالیس سال زیادہ کرے۔ الحدیث (سنن الترمذی رقم الحدیث :3087 تفسیر امام ابن ابی حاتم ج ٥ ص 1614)

(٨) حضرت دائود (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بہت شیریں اور سریلی آواز والا بنایا تھا، ان کی آواز کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اے ابو موسیٰ تم کو آل دائود کی مزامیر (بانسریوں) میں سے ایک مزمار (بانسی) دی گئی ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :5048 صحیح مسلم رقم الحدیث :793 سنن النسائی رقم الحدیث :83)

مزمار کا معنی خوش آوازی ہے اور قرآن مجید کو خوش آوازی کے ساتھ پڑھنے کو بہ کثرت علماء نے مستحسن قرار دیا ہے۔

اوبی کا معنی 

اس آیت میں اوبی کا لفظ ہے، اوب کا معنی رجوع کرنا ہے، حضرت دائود (علیہ السلام) کے متعلق ہے نہ اواب (ص : ١٧) وہ بہت رجوع کرنے والے ہیں اور یہاں اوبی کا معنی ہے تم تسبیح کرو، کیونکہ تسبیح کرنے والا بھی اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے، اس آیت میں پہاڑوں کو حکم دیا ہے کہ وہ حضرت دائود کیساتھ ادب کریں اور چونکہ ایک اور آیت میں ہے کہ پہاڑ آپ کے ساتھ تسبیح کرتے تھے اس لئے یہاں بھی ادب کا معنی تسبیح کرنا ہے اور وہ قرآن مجید کی یہ آیت ہے :

انا سخرنا الجبال معہ یسبحن بالعشتی و الاشراق (ص : ١٨) بیشک ہم نے پہاڑوں کو دائود کے لئے مسخر کردیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ صبح اور شام کو تسبیح کریں۔

امام ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ متوفی 235 ھ نے حضرت ابن عباس، عبدالرحمان، اور ابومیسرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ اوبی کا معنی ہے تم تسبیح کرو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ رقم الحدیث :31888 ج ٦ ص 348، دارالکتب العلمیہ بیروت، 1416 ھ)

یہ حضرت دائود (علیہ السلام) کا معجزہ تھا کہ جب آپ اللہ کی تسبیح کرتے تو پہاڑ اور پرندے سب مل کر آپ کے ساتھ تسبیح نہیں ہے جو ہر چیز اپنی زباں حال وقال سے کرتی ہے اور نہ اس سے صدائے بازگشت مراد ہے، ورنہ اس کو حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھ خصوصیت سے ذکر کرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔

حضرت دائود (علیہ السلام) کا آہن گر ہونا 

اس کے بعد فرمایا : اور ہم نے ان کے لئے لوہے کو نرم کردیا تھا۔

حضرت ابن عباس نے فرایا لوہا ان کے سامنے موم کی طرح ہوجاتا تھا، حسن نے کہا گندھے ہوئے آٹے کی طرح ہوجاتا تھا اور وہ اس کو آگ سے پگھلائے بغیر نرم کر کے اس سے زرہ بنا لیتے تھے، مقاتل نے کہا وہ دن کے ایک حصہ یا رات کے ایک حصہ میں زرہ بنا لیتے تھے۔

حافظ ابو القاسم علی بن الحسن ابن العسا کر المتوفی 571 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

جب حضرت دائود (علیہ السلام) بنو اسرائیل کے ملک کے بادشاہ بنا دیئے گئے تو ایک فرشتہ ان کو انسان کے بھیس میں ملا، ادھر حضرت دائود بھی رات کو بھیس بدل کر بنی اسرائیل سے اپنی ذات اور اپنی سیرت کے متعلق سوالات کیا کرتے تھے، حضرت دائود نے اس فرشتہ سے پوچھا جو انسان کے پیکر میں تھا کہ دائود بادشاہ کے متعلق تمہاری کیا رائے ہے ؟ اس فرشتے نے کہا، اگر اس میں ایک خصلت نہ ہوتی تو وہ اچھا آدمی تھا، حضرت دائود نے پوچھا وہ کون سے خصلت ہے ؟ اس فرشتے نے کا وہ بیت المال سے رزق کھاتا ہے، اگر وہ اپنے ہاتھ کی کمائی سے رزق کھاتا تو اس کے فضائل مکمل ہوجاتے، پھر حضرت دائود (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ان کو کوئی صنعت سکھا دے اور اس کو ان کے لئے آسان کر دے، سو اللہ تعالیٰ نے ان کو زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے :

وعلمنہ صنعۃ لبوس لکم لتخصنکم من باسکم (الانبیائ : ٨٠) اور ہم نے ان کو تمہارے لئے ایسا لباس بنانے کی کاریگری سکھائی جو جنگ میں تمہاری حفاظت کرے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے لئے لوہے کو نر مکر دیا تو وہ ایک دن میں ایک زرہ بنا لیتے تھے جس کی قیمت ایک ہزار درہم ہوتی تھی حتیٰ کہ ان کے پاس بہت زیادہ مال جمع ہوگیا اور ان کی معیشت بہت وسیع ہوگئی، وہ اس مال کو قراء اور مساکین پر صدقہ کرتے تھے اور اس میں سے ایک تہائی مال لوگوں کی فلاح اور بہبود پر خرچ کرتے تھے۔ (تاریخ دمشق الکبیرج ١٩ ص ٦٦، دارحیاء التراث العربی بیروت، 1421 ھ)

ات روابن کو امام بغوی متوفی 516 ھ علامہ ابو عبداللہ قرطبی متوفی 668 ھ اور حافظ ابن کثیر متوفی 774 ھ نے بھی ذکر کیا ہے۔ (معالم التنزیل ج ٣ ص ٤٧٢ الجامع لا حکام القرآن جز ١٤ ص ٢٤١، تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٥٧٨ ھ)

جائز پیشوں کی فضیلت اور بعض پیشوں کو برا جاننے کی مذمت 

اس آیت میں صنعت اور پیشوں کے سیکھنے اور رزق حلال حاصل کرنے کی فضیلت ہے اور کسی صنعت و حرفت کے سیکھنے سے کسی شخص کی عزت کم نہیں ہوتی، بلکہ اس سے اس کی عزت اور قدر و منزلت میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے اس شخص میں تواضع اور انکسار پیدا ہوتا ہے اور دورسوں سے استغناء ہوتا ہے اور جس کسب حلال میں دوسروں کا احسان نہ ہو اس میں انسان کی خود داری قائم رہتی ہے اور اس کی انا کو ٹھیس نہیں پہنچتی۔

میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے …  خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر 

ہمارے زمانہ میں بعض ضیشوں کو نیچ اور حقیر سمجھا جاتا ہے، مثلاً جوتی مرمت کرنے والے کو حقارت سے موچی کہتے ہیں حالانکہ مشہور فقیہ احمد بن عمر خصاف متوفی 261 ھ جوتی مرمت کرتے تھے خصاف مشہور تھے خصاف کا معنی ہے موچی، اور احمد بن علی رازی جصاص متوفی 370 ھ چونے کا کام کرتے تھے، جصاص سفیدی کرنے والے کو کہتے ہیں، امام ابو الحسین احمد بن محمد قدوری متوفی 428 ھ ہنڈیا بناتے تھے، قدوری کمہار کو کہتے ہیں، امام محمد بن محمد غزالی متوفی 505 ھ کپڑا بنتے تھے، غزال جلا ہے کو کہتے ہیں، امام محمود بن احمد الحصیری المتوفی 637 ھ چٹائیاں بناتے تھے، امام ابوبکر بن علی بن محمد الحداد المتوفی 800 ھ لوہار تھے، ہمارے زمانہ میں ان تمام پیشوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے اور اسلام کے زرین دور میں یہ علماء اور ائمہ و فقہاء فخر کے ساتھ اپنے آپ کو ان پیشوں کی طرف منسوب کرتے تھے، آج کل کسی بینک کے صدر کو عزت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اس کو رشتہ دینے میں فخر محسوس کرتے ہیں حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ مبغوض ہے کیونکہ وہ سود کی شکل میں حرام کھاتا ہے اور سڑک پر جوتی مرمت کرنے والے موچی کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اس کو رمشتہ دینے میں عار سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ معزز ہے اور رزق حلال کھاتا ہے۔

حضرت دائود (علیہ السلام) بھی لوہار تھے اور اپنی محنت کی کمائی سے کھاتے تھے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حضرت دائود (علیہ السلام) صرف اپنے ہاتھ کی کمائی کھاتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2073، مسند احمد رقم الحدیث :8145 تاریخ دمشق رقم الحدیث :4143 ج ١٩ ص ٦٥ )

حضرت مقدام (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کھانا نہیں کھایا اور اللہ کے نبی حضرت دائود (علیہ السلام) اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھاتے تھے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث :2072، سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :2138 مسند احمد رقم الحدیث :7322 عالم الکتب بیروت) 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا :

ولقد اتینا دائود دمنا فضلاً (سبا : ١٠) اور بیشک ہم نے دائود پر اپنا فضل کیا تھا۔

اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق فرمایا :

وکان فضل اللہ علیک عظیمات (النسائ : ١١٣) اور اللہ کا آپ پر فضل عظیم ہے۔ 

حضرت دائود (علیہ السلام) کے ہاتھ پر لوہے کا نرم ہو انا بہت عظیم معجزہ ہے لیکن لوہا اسباب سے نرم ہوجاتا ہے اور پتھر کسی سبب سے نرم نہیں ہوتا اس کی خلقت میں سختی ہے اس لئے جس شخص کا دل سخت ہو اور اس میں کسی کی محبت نہ ہو اس کو سنگ دل کہتے ہیں، مگر ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کمال یہ ہے کہ آپ نے احد پہاڑ میں اپنی محبت پیدا کردی اور جس کی حقیقت میں نرمی اور محبت نہیں ہے اس میں اپنی محبت پیدا کردی آپ کا ارشاد ہے :

ھذا جبل یجنا ونحبہ : یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ١٨٤١، سنن ابودائود رقم الحدیث : ٩٧٠٣)

زرہ بنانے میں مناسب مقدار کے محامل 

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : کہ آپ مکمل زرہیں بنائیں اور مناسب اندازے سے ان کی کڑیاں جوڑیں اور تم نیک عمل کرتے رہو بیشک میں تمہارے کاموں کو خوب دیکھنے والا ہوں۔ (سبا : ١١)

سباغات کا معنی ہے : مکمل اور تمام و کمال کو پہنچی ہوئی زرہیں۔ 

سرد کا معنی ہے : کسی کام کا لگاتار ہونا اور سرد کا معنی زرہ کی کڑیاں جوڑنا۔ 

اس آیت میں فرمایا ہے مناسب انداز سے اس کی کڑیاں جوڑیں، آیت کے اس حصہ لے حسب ذیل محامل ہیں۔ 

١۔ قتادہ نے کہا اس سے پہلے زرہ صرف پتروں کی شکل میں ہوتی تھی اور وزنی اور بوجھل ہوجاتی تھی اس لئے ارشاد فرمایا کہ آپ مناسب مقدار میں زرہ بنائیں جو بوجھل ہو اور نہ بہت ہلکی ہو۔ 

٢۔ ابن زید نے کہا آپ زرہ کے حلقے مناسب مقدار میں بنائیں، وہ حلقے نہ بہت تنگ ہوں کہ زرہ سے دفاع نہ ہوسکے اور نہ بہت کھلے کھلے ہوں کہ پہننے والے کو مشکل ہو۔ 

٣۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا مناسب مقدار کا تعلق کیلوں کے ساتھ ہی یعنی وہ کیلیں نہ بہت پتلی ہوں کہ وہ اپنی جگہ ٹھہر نہ سکیں اور نہ بہت موٹی ہوں کہ ان سے حلقہ ٹوت جائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 10