مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ پر تبصرہ:

قسط1:.

مفتی چمن زمان لکھتے ہیں:

میرے بھائی خدا لگتی کہنا

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بے ادبی تبرا

حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ تعالی عنہ کی بے ادبی تبرا

حضرت وحشی رضی اللہ تعالی عنہ کی بے ادبی تبرا

اور سطور بالا میں قانونِ شریعت کے حوالے سے گزرا کے اس کا قائل رافضی

تو

جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی تبرا کیوں نہیں

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر کے ٹکڑے کی بے ادبی کرنے والا ناصبی کیوں نہیں

(محفوظہ ص178).

حضرت نے قانون شریعت کا یہ حوالہ دیا تھا:

“کوئی ولی کتنے ہی بڑے مرتبہ کا ہو کسی صحابی کے رتبہ کو نہیں پہنچتا- حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی جنگ خطائے اجتہادی ہے جو گناہ نہیں ہے اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ظالم؛ باغی؛ سرکش؛ یا کوئی برا کلمہ کہنا حرام و نا جائز بلکہ تبرا و رفض ہے-(قانون شریعت صفحہ 19).

تبصرہ:

حضرت جوش میں ہوش کھو بیتھے یا پھر اندھی عقیدت و مذموم محبت کے نشے میں چور لگتے ہیں کہ انہین قانون شریعت کے حوالے میں “اجتہادی خطاء”نظر ہی نہ آیا…..جی ہاں قانون شریعت کے مصنف علیہ الرحمۃ خود سیدنا امیر معاویہ کی طرف خطائے اجتہادی کی نسبت کی جوکہ نہ گناہ ہے نہ بے ادبی نہ رفض نہ تبرا

لیھذا

سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کی طرف اجتہادی خطاء کی نسبت کرنا نہ رفض ہے نہ ناصبیت نہ گناہ نہ بےادبی نہ تبرا.

نوٹ:

حضرت کے رسالہ کا مطالعہ جاری ہے….رسالہ کے ایک حصہ میں انہوں نے انبیاء کرام علیھم السلام سے اجتہادی خطاء کی نفی پر وہ دلائل دیے جنکا ہم اپنی تحریر میں رد لکھ چکے اور اسلاف کے معتبر مضبوط حوالہ جات سے ثابت کرچکے کہ انبیاء کرام علیھم السلام سے اجتہادی خطاء جائز ہے بلکہ بعض انبیاء کرام علیھم السلام سے ہوئی بھی ہے مگر وہ اجتہادی خطاء پر قائم نہیں رہتے کیونکہ اللہ انہیں وحی فرما دیتا ہے.

تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ پر تبصرہ:

قسط 2:.

محفوظ کا معنی اور مفتی چمن زمان………….!!.

محفوظ کا معنی بتاتے ہوئے مفتی چمن زمان نے عظیم اشتباہ و چالاکی و دھوکہ دہی کی ہے…لکھتے ہیں:

اولیاء کاملین معصوم نہ ہوکر بھی حفظ الہی نصیب ہوتی ہےجسکی وجہ سے وہ گناہ و خطاء سے منزہ کردیے جاتے ہیں……ایک دو سطر بعد لکھتے ہیں:

بعض کاملین ہر قسم کے گناہ حتی کہ خطاء سے بھی پاک ہوتے ہیں(محفوظہ ص15,16)

یہ لکھنے کے بعد ایک دو مبھم حوالے دینے کے بعد فتاوی رضویہ کی عبارت بطور دلیل پیش کرتے ہیں:

درجہ ۴:ہر قسم حکایت بے محکی عنہ کے تعمد سے اجتناب کلی کرے اگرچہ برائے سہووخطا حکایت خلاف واقع کاوقوع ہوتاہویہ درجہ خاص اولیاء الله کا ہے۔

درجہ ۵:الله عزوجل سہوا وخطًا بھی صدور کذب سے محفوظ رکھے مگر امکان وقوعی باقی ہو یہ مرتبہ اعاظم صدیقین کا ہے(فتاوی رضویہ15/358).

تبصرہ:

اولا:

مفتی چمن زمان صاحب نے عظیم اشتباہ و چالاکی کا مظاہرہ کیا دھوکہ دہی سے کام لیا اور یہ ثابت کرنی کی کوشش کی کہ اولیاء صحابہ اہلبیت معصوم نہیں مگر گناہ اور خطاء اجتہادی سے بھی محفوظ ہیں…اور پھر اگلی لائن میں پہلے کے کلام کے الٹ لکھ دیا کہ یہ خطاء سے محفوظیت بعض کاملین کے لیے ہے….اور یہ بھی نہ بتایا کہ دلائل اور انکی عبارت میں جو خطاء کی نفی ہے وہ خطاء معصیت ہے یا اجتہادی…اسی کو تو چالاکی اشتباہ دھوکہ دہی کہتے ہیں کہ بعض جگہ کچھ پھر چند سطور بعد کچھ مگر دلائل کچھ اور.

ثانیا:

سیدی اعلی حضرت نے تعمد کذب یعنی جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کی نفی کی ہے اور فرمایا ہے کہ اولیاء سے سھوا خطاءن کبھی جھوٹ واقع ہو جاتا ہے یہ درجہ چہارم ہے اور اعاظم صدیقین سے خطاءن بھی جھوٹ صادر نہیں ہوتا، یہ حضرات خطاء معصیت سے محفوظ ہوتے ہیں یہ درجہ اعاظم صدیقین کا ہے….خطاءن سھوا کذب جھوٹ کی نفی کی ہے،خطاء معصیت کی نفی ہےاور وہ بھی بعض سے جبکہ اجتہادی خطاء کی نفی نہیں کی کیونکہ سیدی اعلی حضرت نے صحابہ کرام کے متعلق دوٹوک فرمایا کہ بعض صحابہ سے اجتہادی خطا ہوئی….

اجتہادی خطاء تو سیدی رضا نے صحابہ کرام مثل امیر معاویہ و سیدہ عائشہ وغیرھما رضی اللہ عنھم کے لیے لکھی ہے…سیدی رضا فرماتے ہیں:

جنگِ جمل و صفین میں حق بدست حق پرست امیر المومنین علی کرم ﷲ تعالٰی وجہہ تھا۔مگر حضرات صحابہ کرام مخالفین(مثل سیدنا معاویہ و عائشہ صدیقہ وغیرہ) کی خطا خطائے اجتہادی تھی(فتاوی رضویہ29/615)

اسلاف نے اجتہادی خطاء حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے بھی ثابت کی ہےجیسے کہ نیچے تفصیل آرہی ہے….کیا سیدہ عائشہ سیدنا علی صدیقین میں سے نہیں…؟؟ بالکل صدیقین میں سے ہیں ان سے کذب واقع نہ ہوا مگر اجتہادی خطاء واقع ہوئی لیھزا سیدہ فاطمہ سے بھی اجتہادی خطاء ممکن و جائز ہے.

ثالثا:

محفوظ کا وہ معنی نہیں جو چمن زمان نے بتایا بلکہ محفوظ کا معنی و تحقیق یہ ہے کہ:

معصوم اور محفوظ کا فرق اور محفوظ کی تفصیل……….!!

خلاصہ:

اولیاء(صحابہ اہلبیت دیگر اولیاء)معصوم نہیں محفوظ ہیں..محفوظ کامطلب ہےکہ اکثر ان سے گناہ،خطاء معصیت نہیں ہوتی..اگر ہوتی ہےبلکہ کچھ سے ہوئی بھی ہےتو وہ اس پر ڈٹےنہیں رہتے(توبہ رجوع کرلیتےہیں)جبکہ معصوم کا معنی ہے کہ گناہ و خطاء معصیت کا صدور ممکن ہی نہیں…انبیاء کرام اور فرشتے معصوم ہیں ان کے علاوہ کوئی معصوم نہیں…اجتہادی خطاء معصوم اور محفوظ دونوں سے ممکن ہے بلکہ بعض سے ہوئی ہے مگر معصوم کو وحی کرکے اصلاح کردی جاتی ہے جبکہ محفوظ خطاء اجتہادی پر اسکو وحی نہیں ہوتی اس لیے بعض محفوظین خطاء اجتہادی پر قائم و دائم بھی رہتے ہیں کچھ رجوع کرلیتےہیں

(دیکھیے بستان العارفین66،فتاوی حدیثیہ230 تفسير الماوردي = النكت والعيون ,3/457)..

تفصیل:

يكون محفوظا فلا يصر على الذنوب وإن حصلت هفوات في أوقات أو زلات فلا يمتنع ذلك في وصفهم.

ولی(صحابہ اہلبیت دیگر اولیاء)محفوظ ہیں وہ(اکثر گناہ و خطاء نہیں مگر کبھی گناہ ان سے ہو بھی جاتا ہے تو وہ)گناہوں پر مصر و قائم نہیں رہتے اگر چہ بعض اوقات ان سے ھفوات و لغزیشیں واقع ہوتی ہیں مگر یہ ولایت کے منافی نہیں

[بستان العارفين للنووي ,page 66].

والأولياء وَإِن لم يكن لَهُم الْعِصْمَة لجَوَاز وُقُوع الذَّنب مِنْهُم وَلَا يُنَافِيهِ الْولَايَة…لَكِن لَهُم الْحِفْظ فَلَا تقع مِنْهُم كَبِيرَة وَلَا صَغِيرَة غَالِبا

اولیاء(صحابہ اہلبیت دیگر اولیاء)اگرچہ معصوم نہیں کیونکہ ان سے گناہ کا واقع ہونا جائز ہے یہ ولایت کے منافی نہیں مگر یہ محفوظ ہوتے ہیں تو ان سے غالبا صغیرہ کبیرہ گناہ واقع نہیں ہوتے(غالبا کی قید سے واضح ہے کہ کبھی کبیرہ صغیرہ سھوا خطاء اجتہادی خطاء واقع ہوتی ہے)

[الفتاوى الحديثية لابن حجر الهيتمي ,ص 230بحذف یسیر].

لأن الأنبياء معصومون من الغلط والخطأ لئلا يقع الشك في أمورهم وأحكامهم , وهذا قول شاذ من المتكلمين. والقول الثاني: وهو قول الجمهور من العلماء والمفسرين ولا يمتنع وجود الغلط والخطأ من الأنبياء كوجوده من غيرهم. لكن لا يقرون عليه وإن أقر عليه غيرهم

خلاصہ:

وہ جو کہتے ہیں کہ انبیاء کرام غلطی اور خطا سے معصوم ہے یہ قول شاذ متکلمین کا ہے

جمہور علماء اور مفسرین کا قول یہ ہے کہ انبیائے کرام سے اجتہادی غلطی اور اجتہادی خطا ہوجاتی ہے لیکن وہ اس پر قائم نہیں رہتے (بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)غیر انبیاء سے خطا اجتہادی ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اس پر قائم نہ رہیں بلکہ بعض اس پر قائم بھی رہتے ہیں

[اتفسير الماوردي = النكت والعيون ,3/457بحذف یسییر].

①صحابہ کرام ائمہ کے ظنیات فروعیات میں تفردات،مخالفت جمھور غیر معتبر و مفتی بہ قول کئ گذرے…. کسی نے ان پر مذمت نہ کی , توبہ رجوع کا جبر نہ کیا…..سیدی امام احمد رضا لکھتے ہیں:

اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار(جو جدا ہوا وہ جہنم میں گیا۔ ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں،صحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں،سیدنا ابوذر رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مطلقًا جمع زر کو حرام ٹھہرانا،ابو موسی اشعری رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا،عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما کا مسئلہ ربا،امام اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کامسئلہ مدت رضاع،امام شافعی رضی ﷲتعالٰی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدًا،امام مالك رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ طہارت سؤر کلب وتعبد عنسلات سبع،امام احمد رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ نقض وضو بلحم جز ور وغیرہ ذلك مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ فی النار(جو جدا ہو جہنم میں ڈالا گیا۔ت)کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف

(فتاوی رضویہ18/497.498).

②اہلبیت میں سے بعض کی اجتہادی خطاء، لغزش اور غیر مفتٰی بہ اقوال:

علامہ عبد العلي محمد بن نظام الدين محمد السهالوي الأنصاري اللكنوي فرماتے ہیں،ترجمہ:

اہل بیت دیگر مجتہدین کی طرح ہیں ان پر خطاء جائز ہے بلکہ وہ کبھی خطا کرتے ہیں اور کبھی درستگی کو پاتے ہیں۔۔اہل بیت سے لغزش واقع ہونا بھی جائز ہے جیسے کہ بی بی فاطمہ سے لغزش واقع ہوئی۔۔۔۔اسی طرح اہل بیت کے صحابہ کرام سے الگ تفردات گزرے ہیں جس پر اگرچہ فتوی نہیں دیا گیا لیکن کوئی مذمت بھی نہیں کی گئی ۔۔۔صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں یہ سمجھتے تھے کہ ان سے خطائے اجتہادی کا صدور ہو سکتا ہے بلکہ ہوا ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خطا اجتہادی حاملہ متوفی زوجھا کی عدت کے معاملے میں واقع ہوءئ اور بھی بہت سے واقعات ہیں جن میں اہل بیت اور صحابہ کرام کے اجتہادی خطائیں تفردات واقع ہوئے ہیں جو جمہور کے خلاف تھے لیکن فتوی جمہور پر دیا گیا لیکن تفردات والے پر بھی مذمت نہ کیا گیا (دیکھیے فواتح الرحموت2/279ملخصا ملتقطا).

جب سیدنا علی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنھما سے اجتہادی خطاء ہوسکتی ہے تو سیدہ فاطمہ سے کیوں نہیں…..؟؟.

نوٹ:

ہم کئ بار لکھ چکے کہ خطائیں تلاشنا نہ شوق ہے نا پسندیدہ موضوع مگر اجتہادی خطائیں حق سچ ہے اسلاف نے بیان کیں…جو محبت کےنام کے پےحق سچ کا منکر ہوگا اسے جواب دینے کےلیےمجبورا ہمیں بھی بیان کرنا پڑیں

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475

مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ پر تبصرہ:

قسط سوئم:

مفتی چمن زمان کی بدگمانی حسد تعصب

مفتی چمن زمان کی بات کاخلاصہ:

سیدہ فاطمہ کو مطلقا خطاء پر کہنا اتنی بڑی بےادبی نہیں…سیدہ فاطمہ کو خاص کرکے مسلہ فدک میں خطاء پر کہنا بڑی بے ادبی ہے جیسے اللہ کو مطلقا خالق کہنا بےادبی نہیں مگر خاص کرکے خالق الخنازیر کہنا بےادبی ہے(دیکھیے محفوظہ ص66).

تبصرہ:

اولا:

اللہ تبارک و تعالی کی ذات اقدس پر کسی مخلوق کو قیاس نہیں کرنا چاہیے….نیز کہاں یہ مثال کہاں خطاء کی مثال…خالق کل شی کہنا بےادبی نہیں جبکہ خطاء کہنا اپ کے مطابق بےادبی تو مثالیں برابر نہیں.

ثانیا:

کبھی مطلقا بولنا بڑی بےادبی ہوتی ہے مگر خصوصا اور قیودات لگا کر بولنا بےادبی ہی نہیں ہوتی مثلا مطلقا بولنا کہ سیدہ فاطمہ غیرعالمہ تھیں….یہ مطلقا بولنا بےادبی ہے جبکہ خصوصا بولنا کہ سیدہ فاطمہ حدیث لانورث نہیں جانتی تھیں کہنا برحق و سچ ہے کوئی بےادبی نہیں…اسکا اعتراف مفتی چمن زمان خود کر چکے کہ سیدہ حدیث لانورث سے لاعلم تھیں دیکھیے محفوظہ ص81)

اپ تعصب ، حسد و بدگمانی کی عینک اتار کر دیکھتے تو مطلقا خطاء کہنا آپ کے مطابق بے ادبی ہے مگر شیعوں کے عقیدہ معصومیت کے رد اور صدیق اکبر کو غاصب کہنے کے رد میں اور وہ بھی فقط ایک مسلہ فدک میں اور وہ بھی علمی انداز و ماحول میں اور وہ بھی وقتی غیردوامی خطاء کہنا اور خطاء اجتہادی مراد لینا اہل انصاف کے نزدیک بےادبی ہرگز نہیں ہونا چاہیے….چمن زمان کے لاعلم والی بات کے مطابق بےادبی ہی نہیں ہونی چاہیے کم سے کم کم بےادبی خلاف اولی ہونی چاہیے چمن زمان کےمطابق….جبکہ چمن زمان کہتے ہیں یہ خصوص بےادبی کو بڑھاتا ہے….لاحولا ولا قوۃ الا باللہ.

یہ بدگمانی حسد تعصب نہیں تو اور کیا ہے…؟؟ ایک سچے اہلسنت محبت صحابہ و اہلبیت عالم کے علمی انداز میں بولے گئے لفظ سے اچھا معنی مراد لینا فرض تھا جبکہ چمن زمان نے بےادبی کے معنی لیے اور برھا چڑھا کر بڑی بےادبی کی بھونڈی کوشش کی ہے ضال مضل گمراہ کے فتوے لگا دیے انا للہ و انا الیہ راجعون.

سیدی اعلٰی حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ بعض محتمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکمِ قرآن انہیں “معنی حسن” پر حمل کریں گے، اور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح توہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:

کل اناء یترشح بما فیہ صرح بہ الامام ابن حجر المکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔

ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے…

(فتاوی رضویہ : ج29، ص225).

نوٹ:

میرے مطابق سیدنا صدیق اکبر کو برحق کہناچاہیے اور سیدہ کے متعلق سکوت کرنا چاہیے کیونکہ کسی صحیح روایت میں یہ نہیں کہ سیدہ حدیث لا نورث نہیں جانتی تھیں اور یہ بھی صحیح روایات سے ثابت نہیں کہ حدیث لانورث کو جانتے ہوئے اجتہاد کرکے خطاء اجتہادی کر بیٹھیں….جب دونوں احتمال ہیں تو سکوت بہتر واللہ اعلم.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475

مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ پر تبصرہ:

قسط4:

مفتی چمن زمان نے درج ذیل چار نظریات پیش کییے

①صحابہ کرام نے ایک دوسرے کو کبھی کسی مسلے میں خطاء پر نہ کہا…..

②علماء کی نسبت خطاء کی طرف کرنا بدعت و گناہ ہے

③اکابر اسلاف کاملین خطاء اجتہادی سے بھی محفوظ ہیں

④بعض مواقع پے بعض سامعین کے اعتبار سے بعض وجوہ کی وجہ سے خطاء اجتہادی کہنا گالی تک ہو جاتا ہے

پھر

⑤اخر میں نتیجہ نکالا کہ جلا لی صاحب کا خطاء کہنا اجتہادی مراد لینا سیدہ فاطمہ کی بےادبی گستاخی گناہ تبرا و ناصبیت کیوں نہیں؟؟

(دیکھیے محفوظہ ص143 تا180).

تبصرہ:

سردست چند حوالہ جات پڑہیے کہ صحابہ کرام تابعین عظام اکابر و اسلاف میں سے بعض نے بعض کو بعض مسائل میں خطاء کی طرف منسوب کیا

وَلَكِنَّهُ أَخْطَأَ

سیدہ عائشہ نے فرمایا کہ اس مسلہ عذاب میں سیدنا ابن عمر نے خطاء کی

[ترمذی تحت حدیث1006 سنن نسائی روایت1856, ,إثبات عذاب القبر للبيهقي ,page 72].

فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ” أَخْطَأَ فِي هَذَا،

سیدنا ابن عباس نے فرمایا کہ سیدنا ابن مسعود نے اس مسلہ میں خطاء کی

[مصنف عبد الرزاق الصنعاني ,6/419]

مُجَاهِدًا فَقَالَ: «أَخْطَأَ

سیدنا مجاہد نے فرمایا کہ سیدنا عکرمہ نے تفسیر میں خطاء کی

[مصنف عبد الرزاق الصنعاني ,4/457].

فَسَأَلْتُ عَطَاءً فَقَالَ: «أَخْطَأَ سَعِيدٌ

اس مسلہ میراث میں سیدنا عطاء نے کہا کہ سیدنا سعید نے خطاء کی ہے

[,مصنف ابن أبي شيبة استاد بخاری,6/246].

قال عُمَرُ – رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: إنَّكَ أخطأتَ التّأويلَ

حضرت سیدنا عمر نے سیدنا صحابی قدامہ کو فرمایا کہ ایت کی تاویل و تفسیر میں اپ نے خطاء کی

[,السنن الكبرى للبيهقي,17/481].

قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ قَالَ أَبِي: ” أَخْطَأَ فِيهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيد

تعری کے معاملے میں امام احمد بن حنبل نے کہا کہ یحیی بن سعید نے خطاء کی

[مسند أحمد مخرجا ,20/238].

قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: أَخْطَأَ شُرَيْحٌ

سیدنا ابن مسیب نے فرمایا( عظیم)قاضی شریح نے اس مسلے میں خطاء کی

[مصنف عبد الرزاق الصنعاني ,8/413…

[مصنف ابن أبي شيبة ,4/396].

أَخْطَأَ الْمَوْلِيَانِ،

سیدنا ابن عباس نے فرمایا کہ اس آیت کی تفسیر میں سیدنا سعید اور سیدنا عطاء نے خطاء کی

[مصنف عبد الرزاق الصنعاني ,1/134].

أَجَلْ، إِنَّهُ أَخْطَأَ

سیدنا عروہ نے کہا کہ جی ہاں نماز کسوف کے متعلق میرے بھائی نے خطاء کی ہے

[بخاری تحت حدیث1046,مسند أحمد مخرجا ,41/119].

فَقَالَ الشَّعْبِيُّ: «أَخْطَأَ،

امام شعبی نے کہا کہ امام ابن حازم نے سر پر نماز جنازہ پڑھنے کے مسلے میں خطاء کی

[,المستدرك على الصحيحين للحاكم ,3/637].

۔۔صحابہ کرام اور اہل بیت عظام دونوں یہ سمجھتے تھے کہ ان سے خطائے اجتہادی کا صدور ہو سکتا ہے بلکہ ہوا ہے جیسے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی خطا اجتہادی حاملہ متوفی زوجھا کی عدت کے معاملے میں واقع ہوءئ

(از فواتح الرحموت2/279).

محفوظ و معصوم کا فرق قسط 2 میں ملاحظہ فرمائیں.

اب ایک طرف وہ حوالے جو مفتی چمن زمان نے دییے کہ اسلاف نے ایک دوسرے کو خطاء کی طرف منسوب نہ کیا…صحابہ اہلبیت کاملین اکابر اسلاف خطاء سے محفوظ ہیں…..دوسری طرف یہ ہمارے دیے گئے مذکورہ بالا روایات کہ جس میں صحابہ اہلبیت تابعین اسلاف میں سے بعض نے بعض کو خطاء کی طرف منسوب کیا

اب چاہیے تو یہ تھا کہ مفتی چمن زمان محقق زماں پر عیاں ہوتا کہ دونوں روایات ہیں تو دونوں روایات لکھتے اور اچھی تطبیق دیتے مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ ہچکولے کھاتے ہوئے کبھی خطاء کبھی اجتہادی خطاء کی نفی کرتے گئے اور انداز سے واضح کرتے گئے کہ کسی بھی کامل کو اجتہادی خطاء کہنا بےادبی ہے بلکہ گناہ تبرا و ناصبیت ہے نعوذ باللہ

یہ انکی غفلت ہے یاعدم توجہ یا مکاری ایجنٹی حسد تعصب اللہ ہی بہتر جانتا ہے مگر اشارے ایجنتی حسد تعصب کے ملتے ہیں.

①حب صحابہ اہلبیت سے خطاء کی نفی بھی ہے اور اثبات بھی تو لامحالہ کہنا پڑے گا کہ خطاء معصیت کی نفی ہے اور اجتہادی خطاء کا اثبات…لیھذا مفتی چمن کا مراد لینا کہ خطاء اجتہادی کی نسبت نہیں کی یہ چمن زمان کا جھوٹ و مکاری ہے یا غفلت.

②جب صحابہ کرام اہلبیت تابعین عظام خطاء اجتہادی سے معصوم و محفوظ نہیں تو دیگر اولیاء علماء اسلاف کیسے محفوظ ہوسکتے ہیں…؟؟ لیھزا جن اکابر نے محفوظیت کا قول کیا تو انکی مراد لامحالہ ہوگی کہ خطاء معصیت سے اکثر محفوظ ہیں…لیھذا چمن زمان کا مراد لینا کہ صحابہ اور کاملین اجتہادی خطاء سے بھی محفوظ ہیں…یہ مراد لینا جھوٹ و مکاری ہے یا غفلت.

③صحابہ کرام اہلبیت تابعین عظام کی طرف اجتہادی خطاء کی نسبت منقول ہے تو عالم کا عالم کو خطاء کی طرف نسبت کرنا بھی بدعت فسق و گناہ نہیں،وہ جو منقول ہے کہ فسق و بدعت ہے اسکا مطلب لامحالہ یہ ہوگا کہ جاہل کا عالم کو خطاء پر کہنا بدعت و گناہ ہے…لیھذا مفتی چمن زمان کا اس قول سے اشارہ دینا کہ عالم عالم کو بھی خطاء اجتہادی پر کہنا گناہ تو سیدہ فاطمہ کو کہنا بدرجہ اولی بدعت و گناہ….یہ اشارہ دینا مبھم عبارت پیش کرنا کہ جس سے دھوکہ لگے یہ مفتی چمن زمان کی مکاری عیاری نہیں تو اور کیا ہے….؟؟.

لیھذا مفتی چمن زمان نے تینوں نظریات غلط پیش کیے اور ان سے غلط نتیجہ نکالا

لیھذا بعض صحابہ اہلبیت تابعین کی طرف منقول صراحتا یا منقول دلالة خطاء اجتہادی کی نسبت کرنا عندالضرورة اہل علم کے لیے جائز ہے کوئی بےادبی و گناہ بدعت نہیں….البتہ بلاضرورة بلا نقل صریح بلانقل حکمی خطاء اجتہادی کی نسبت کرنا ممنوع ہے

سیدہ فاطمہ کی طرف نسبت اجتہادی خطاء صریح منقول ہونے کا ہمیں علم نہیں نا ہی دعوی مگر دلائل کے دلالت و اشارے سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدہ سے اجتہادی خطاء ہوئی…لیھذا علامہ محقق مفتی مجتہد جلا لی صاحب کا علمی انداز و ماحول میں شیعہ کے باطل عقیدہ عصمیت کے بطلان میں احادیث و اسلاف کی عبارات سے دلالةً اشارتاً مسلہ واحدہ میں غیردوامی خطاء منسوب کرنا اور اجتہادی خطاء مراد لینا کوئی گستاخی بے ادبی تبرا و ناصبیت نہیں….زیادہ سے زیادہ خلاف اولی و نامناسب تفرد یا جلا لی کی اجتہادی خطاء کہا جاسکتا ہے.

اگرچہ میرا موقف سکوت کا ہے مگر سیدہ فاطمہ فداہ روحی کو بلانقل صریح عندالضرورة بانقل حکمی دلائل کے دلالت و اشارے کےتحت اجتہادی خطاء پر کہناگستاخی بےادبی تبرا ناصبیت و گناہ نہیں.

اجتہادی خطاءیں گنوانا نہ ہمارا شوق ہے نہ پسندیدہ موضوع مگر محبت کی آڑ میں حق سچ نصوص و عباراتِ اسلاف کو جھٹلایا جائے…جھوٹ کو محبت کہا جائے تو حق سچ واضح کرنا لازم.

القرآن..ترجمہ:

حق سے باطل کو نا ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ

(سورہ بقرہ آیت42).

الحدیث..ترجمہ:

خبردار…!!جب کسی کو حق معلوم ہو تو لوگوں کی ھیبت

(رعب مفاد دبدبہ خوف لالچ) اسے حق بیانی سے ہرگز نا روکے

(ترمذی حدیث2191).

الحدیث.. ترجمہ:

حق کہو اگرچے کسی کو کڑوا لگے

(مشکاۃ حدیث5259).

جو حق(بولنے، حق کہنے، حق سچ بتانے)سے خاموش رہے وہ گونگا شیطان ہے

(رسالہ قشیریہ 1/245).

الحدیث:

متنطعون(تعریف تنقید تقریر تحریر وغیرہ قول یا عمل میں غلو.و.مبالغہ کرنےوالے)ہلاکت میں ہیں(مسلم حدیث6784)

بعض انبیاء کرام صحابہ اہلبیت اسلاف سےمطلقا اجتہادی خطاء کی نفی کرنا حق سچ کےخلاف ہے،جھوٹی تعریف اور غلو نہیں تو اور کیا ہے…؟؟

بےادبی جرم مگر تعریف میں حد و سچائی بھی لازم.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475

مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ پر تبصرہ:

قسط 5:

مفتی چمن زمان کہتے ہیں کہ انبیاء کرام اجتہادی خطاء سے بھی معصوم ہیں…اس پر چند دلائل بھی لکھے اور لکھا کہ متفقہ اعلامیہ سے کفر ثابت ہوتا ہے اور تاثر دیا کہ انبیاء کرام کی طرف اجتہادی خطاء منسوب کرنا کفر تک ہوجاتا ہے لیھذا انبیاء کی خطاء اجتہادی کا قول کرکے سیدہ فاطمہ کی طرف اجتہادی منسوب کرنے والے بےادب گناہ گستاخ کفر تک لازم مگر تاویل ممکن اس لیے کافر نہیں مگر توبہ رجوع لازم…مزید کہتے ہیں ایسا قول شاذ ہے جو تردد حیرت کا باعث ہو یا اہل اسلام میں معروف نہ ہو ایسا قول بیان نہیں کرنا چاہیےیہ مذموم ہے برائی ہے بربادی ہے زندیقیت ہے

(دیکھیے محفوظہ ص218تا263).

تبصرہ:

پہلی بات:

عندالضرورة اسلاف کے شاذ قول حیرت میں ڈالنے والے قول غیرمعروف قول ذکر کرنا ، مجتہد کا شاذ قول کرنا جائز و اسلاف کاطریقہ رہا ہے….اسے بربادی و زندیقیت کہنا برا عمل کہنا جھوٹ غلو و مکاری دھوکہ دہی ہے…بلاضرورہ شاذ قول کہنا یا نقل کرنا ہم بھی مناسب نہیں سمجھتے،ہم نے جو اقوال و دلائل لکھے اولا تو وہ شاذ نہیں معروف ہیں اگر شاذ مان بھی لیاجائے تو یہاں شیعہ کے بطلان دفاع صدیق اکبر وغیرہ ضرورت کے تحت لکھے ہیں…عندالضرورة اسلاف کے شذوذ حیرت تردد میں ڈاللنے والے اقوال غیر معروف اقوال سیدی امام احمد رضا نے بھی نقل فرمائے آپ لکھتے ہیں:.

اتباع سواد اعظم کا حکم اور من شذ شذ من فی النار(جو جدا ہوا وہ جہنم میں گیا۔ ت)کی وعید صرف دربارہ عقائد ہے مسائل فرعیہ فقہیہ کو اس سے کچھ علاقہ نہیں،صحابہ کرام سے ائمہ اربعہ تك رضی ﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کوئی مجتہد ایسا نہ ہوگا جس کے بعض اقوال خلاف جمہور نہ ہوں،سیدنا ابوذر رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مطلقًا جمع زر کو حرام ٹھہرانا،ابو موسی اشعری رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا نوم کو اصلا حدث نہ جاننا،عبدﷲ بن عباس رضی ﷲ تعالٰی عنہما کا مسئلہ ربا،امام اعظم رضی ﷲ تعالٰی عنہ کامسئلہ مدت رضاع،امام شافعی رضی ﷲتعالٰی عنہ کا مسئلہ متروك التسمیہ عمدًا،امام مالك رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ طہارت سؤر کلب وتعبد عنسلات سبع،امام احمد رضی ﷲ تعالٰی عنہ کا مسئلہ نقض وضو بلحم جز ور وغیرہ ذلك مسائل کثیرہ کو جو اس وعید کا مورد جانے خود شذ فی النار(جو جدا ہو جہنم میں ڈالا گیا۔ت)کا مستحق بلکہ اجماع امت کا مخالف

(فتاوی رضویہ18/497.498).

دوسری بات:

متفقہ اعلامیہ میں بہتر تھا کہ لکھا جاتا کہ “لفظ بعض انبیاء کرام سے اجتہادی خطاء ہوئی”

لیکن

قرینہ کلام قرینہ متکلم قرینہ مقام و حال سے بھی عام بات خصوص بن جاتی ہے….طلاق کے جگھڑے میں جا تو آزاد ہے کہنے سے معنی وہ نہیں جو الفاظ بتا رہے بلکہ اب معنی قرینہ کلام وغیرہ کی وجہ سے اب معنی طلاق کا ہوگا….لیھذا متفقہ اعلامیہ کے جملے کو برھا چڑہا کر کفریہ بنانا بدگمانی تعصب کے سوا کچھ نہیں لازم تھا کہ قرینہ کلام متکلم حال وغیرہ کے تحت یہی سمجھا جاتاکہ یہاں اجتہادی خطاء کے وقوع کے معاملےمیں انبیاء سے مراد ہر ہر نبی نہیں بلکہ بعض انبیاء مراد ہیں….جوکہ کفر بے ادبی نہیں توبہ رجوع لازم نہیں ہاں مراد پوچھنا لازم اچھے معنی لینا لازم تھا.

تیسری بات:

ہم نعوذ باللہ مزمت کے طور پر انبیاء کرام کی اجتہادی خطائیں بیان نہیں کر رہے بلکہ مسلہ علمیہ ضروریہ کے تحت اسکی ضرورت پڑی تو حق سچ بیان کر رہے ہیں لیھزا کوئی بے ادبی گستاخی نہیں.

چوتھی بات:

انبیاء کرام سے اجتہادی خطاء ممکن و جائز ہے بعض انبیاء کرام سے ہوئی بھی…ایسا اسلاف نے لکھا، مفتی چمن زمان نے لکھا کہ انبیاء کرام سے اجتہادی خطاء سے معصوم و محفوظ ہیں اس پر کچھ دلائل بھی دیے اور افھام و تفھیم کے لیے میرا ان سے مکالمہ ہوا جسے مفتی چمن زمان کے شاگرد علامہ پتافی نے لکھا تو ہم نے اسکا جواب لکھا…چمن زمان کے دلائل کا رد کیا….آئیے اپ بھی پڑہیے

مفتی.چمن زمان صاحب کے شاگرد علامہ مشتاق پتافی کو جواب اور مفتی چمن زمان سے مکالمہ کی تفصیل……….!!!

موضوع کیا انبیاء کرام علیھم السلام سے اجتہادی خطاء ہوسکتی ہے…..؟؟.

پتافی:

فتح_مبین(جواب فتح منا رہے ہین….افسوس مطلب افھام و تفھیم مقصد نہ تھا اور نہ انداز افھام و تفھیم والا؟ جبکہ ہم نے وقت مقرر کیا تھ افھام و تفھیم کے کےلیے).

پتافی

چند دنوں سے سکھر کے ایک علامہ صاحب جلالی کی حمایت اور محقق زمان مفتی چمن زمان نجم القادری صاحب کی مخالفت میں مسلسل پوسٹیں کر رہے تھے اور دعوے کر رہے تھے کہ مفتی صاحب میرے ان دلائل کا جواب دیں ۔۔

(جواب:جلا لی صاحب کے موقف کے برعکس میرا موقف ہے جو انہوں نے شاید پرھا ہی نہیں….).

پتافی:

مفتی صاحب کو انکے علمی مبلغ کا علم تھا اسلیے خاطر خواہ اہمیت نہیں دے رہے تھے۔۔

مگر یہ حضرت آئے دن چینلج پر چینلج کرتے آئے ۔۔

مفتی صاحب کو بعض دوستوں نے کہا کہ آپ انکو جواب دیں ۔۔۔

وہ کیا چاہتے ہیں۔!

مفتی صاحب نے کہا اگرچہ میں مصروف ہوں لیکن وہ اپنا شوق پورا کرلیں۔۔

جب چاہیں بات کرلیں۔۔۔آمنے سامنے ۔۔۔

مگر اس حضرت کا اصرار تھا کہ فیس بک پر جواب دیں ۔۔۔

مفتی صاحب نے کہا میں اتنا فری نہیں ۔۔اگر جواب چاہیے تو سامنا کرو۔۔

مفتی صاحب کی عاجزی دیکھیں یہاں تک فرما دیا کہ اگر آپ آنا چاہتے ہیں تو فبہا ورنہ حکم کریں میں آجاتا ہوں۔۔

(جواب:

بلا کر تین چار گھنٹے بات کرنے کا ٹائم تھا مفتی صاحب کے پاس مگر زیادہ سے زیادہ گھنٹہ دلاءل لکھنے میں لگتے اس کے لیے ٹائم نہیں تھا….شاید سوچی سمجھی سازش تھی کہ عنایت تو سیدھا سادہ ہے اسے مناظرہ کہاں اتا ہے لیھذا بلا کر چالاکی مکاری چرب زبانی سے دھلائی کرتے ہیں).

پتافی:

بہر حال وہ خود مفتی صاحب کے پاس آنے کو تیار ہوگئے گزشتہ شب وہ جامعہ میں حاضر ہوئے۔۔۔

مگر آنے سے پہلے انہوں نے کئی ایک بے تکی پوسٹیں کی کہ مفتی صاحب حوالے اور دلائل تیار رکھیے میں مناظرہ کے لیے نہیں افھام و تفھیم کے لیئے آرہا ہوں۔۔۔

(جواب:

افھام و تفھیم کی پوستیں کرنا بےتکی کیسے ہوگئیں…..؟).

بالآخر وہ رات جامعہ میں آئے ۔۔۔

مفتی صاحب کے سامنے بیٹھے

مفتی صاحب نے اپنا مدعی یہ تحریر فرمایا۔۔

(جواب:

مدعی مناظرہ میں لکھا جاتا ہے ہم افھام و تفھیم کے لیے تھے مدعی کہنا غلط بیانی ہے….اسے ایک وضاحتی نوٹ کہا جاسکتا ہے).

پتافی:

“انبیاءکرامعلینبیناوعلیہمالصلوةوالسلامسے اجتھادمیںخطاکامسئلہعلماءکےمابیناختلافیہے لیکنراجحاورہمارےاکابرکامختاریہہےکہانبیاءکرام علینبیناوعلیہمالصلوةوالسلامباباجتھادمیں خطاسےمعصومہیں”

علامہ صاحب نے اپنا مدعی خود اپنے ہاتھوں سے یہ تحریر فرمایا

(جواب:

مدعی نہیں وضاحت لکھی تھی مدعی تو وہ تھا جو بار بار فیس بک پے بولا اور سامنے بھی بولا وہی معتبر یہ تو فقط تنبیہ و وضاحت لکھی)

” #انبیاءکرامعلینبیناوعلیہمالسلامخطافی #الاجتھادسےمعصومنہیںبعضانبیاءکرامسے #اجتھادیخطاہوئیبھیہےلیکناللہجلشانہانبیاء #کرامکیاصلاحفرمادیتاہےاوروہاپنیخطااجتھادی #پرقائمنہیںرہتے”

.

پتافی:

مفتی صاحب نے انبیاء کرام کے لیے لفظ اصلاح کو ناپسند فرمایا۔۔

بہر حال انکا مدعی تھا۔۔۔

اور میں یہاں کہوں گا دیکھیے جلالی کی حمایت نے کیسا دل مردہ کردیا کہ دلائل ڈھونڈ کر کیا ثابت کرنے آئے ۔۔انبیاء کرام کی خطائیں۔۔۔العیاذ باللہ

(جواب:ہم کئ بار لکھ چکے کہ پاک ہستیوں کی خطاءیں تلاشنا نہ ہمارا شوق ہے نا ہی پسندیدہ موضوع مگر جب اسلاف نے لکھا تو ان کے خلاف جو لکھے گا تو ہم اسلاف کا دفاع اسلاف کے حوالے بیان کرکے کریں گے…جن اسلاف نے اجتہادی خطاء لکھا کیا ان کے متعلق بھی کہو گے جو ہمارے بارے مین لکھا اعتقاد رکھا العیاذ باللہ…..؟؟)

.

پتافی:

بہرحال جلالی کے حمایتی

(جواب:حمایتی کس حد تک ہوں یہ بھی پتہ ہونا چاہیے تھا میرا موقف پہلے پڑھ تو لیتے؟).

پتافی:

صاحب نے کہا کہ میں آپ کے پاس حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے دلائل اور حوالہ جات سے ثابت کریں کہ انبیاء کرام اجتھادی خطا سے معصوم ہیں۔۔!

(جواب:

میں نے یہ نہین کہا کہ دلاءل دیں….میں تو دلائل سننے کو بھی تیار نہ تھا…کافی وقت تک مفتی صاحب کو دلاءل دینے سے روکے رکھا…میرا موقف تھا کہ مسلہ اعتقادی اہم ہے لیھذا فقط اسلاف کے اقوال و حوالہ جات ہی پیش کیجیے…یہ بات بات کرتے وقت بھی کئ بار کہی اور اس سے پہلے بھی فیس بک پر ایسا ہی کہہ چکا تھا)

.

پتافی:

مفتی صاحب نے سب سے پہلے اپنی گفتگو شروع کی دلائل سے۔۔،

چند منٹ بعد جب مفتی صاحب کی گفتگو انکی سمجھ سے بالاتر ہوئی تو کہنے لگے دلائل کو چھوڑ دیں بس اکابر کے حوالے پیش کریں۔۔۔

(جواب:

بدگمانی کی آپ نے کہ دلاءل سمجھ سے بالاتر تھے اس لیے منع کیا…بلکہ میں نے دلائل کے بجائے حوالہ جات کی بات اس لیے کی کہ یہ موضوع اجتہادی نہیں اعتقادی ہے…اسلاف کے عقیدے پر چلیں گے ناکہ اپنے مدعی و دلائل پر)

.

پتافی:

مفتی صاحب نے فرمایا حوالے کی باری بعد میں آتی ہیں پہلے دلائل سنیں ۔۔۔

اس بات پر بہت وقت ضایع کیا اور مانے ہی نہیں کہ میں نے دلائل کا کوئی مطالبہ کیا ہے ۔۔

فرمانے لگے میرا آپ سے شروع دن سے حوالوں کا مطالبہ تھا دلائل کا تھا ہی نہیں۔۔

انکو انہی کی آڈی سے پوسٹ میں دکھائی گئی۔

جس میں دلائل کا مطالبہ واضح موجود تھا ۔۔

(جواب:

میں نے اکثر حوالہ جات ہی کا مطالبہ لکھا ایک جگہ دلائل لکھا تو اسکا بھی معنی بتا دیا کہ دلاءل سے مراد اسلاف سے منقولی دلائل ہیں)

.

پتافی:

مگر چونکہ حضرت بری طرح دلائل میں پھنس رہے تھے تو فرمایا کہ میری مراد دلائل منقولہ تھی ۔۔۔آپ اپنے دلائل نہ دیں۔۔۔

حالانکہ پوسٹ میں صرف دلائل کا ذکر تھا منقولہ کی کوئی قید نہیں تھی۔۔

(جواب:قرینہ کلام سیاق و سباق سے واضح کہ یہاں دلاءل سے مراد اسلاف سے منقولی دلائل)

.

حضرت بضد تھے کہ بس مجھے اکابر کے حوالے دکھائیے اور میری جان چھوڑیئے۔

مفتی صاحب نے فرمایا چلو ٹھیک ہے حوالوں کی طرف آتے ہیں ۔۔

مفتی صاحب کی طرف سے

پہلا_حوالہ۔۔

کشفالاسرارعناصولفخرالاسلام_البزدوی

مؤلف: امام علاٶالدین عبد العزیز البخاری

المتوفی 730 ھجری

جلد نمبر 3

صفحہ نمبر 290

واجتھادہ لایحتمل الخطاء عند الاکثر

ترجمہ: اکثر علماء کے نزدیک نبی کا اجتھاد خطا کا احتمال نہیں رکھتا ۔۔

اسکی دلیل منقول بھی مفتی صاحب نے دے دی۔۔

اس حوالہ پر حضرت نے فرمایا کہ کسی ایک نبی کے بارے میں فرمایا گیا ہے انبیاء کرام کے بارے میں دکھاؤ،

۔۔۔سبحان اللّٰہ۔۔

(جواب:

اس میں تعجب کی کیا بات ہے جب موقف ہی یہی ہے کہ انبیاء کرام سے اجتہادی خطاء کی نفی کرنا ہے تو حوالے میں بھی انبیاء سے نفی ہونی چاہیےناکہ ایک نبی پاک کی…لیھذا حوالہ نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی:

#دوسرا_حوالہ

الجامعلاحکامالقرآن

مؤلف: ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن ابی بکر قرطبی رحمہ اللہ

متوفی 671 ھجری

جلد نمبر 14 صفحہ 23و6

الفرق بینھم و بین غیرھم من المجتھدین انھم معصومون عن الغلط والخطا وعن التقصیر فی اجتھادھم وغیرھم لیس کذالک ھذا مذھب الجمھور فی ان جمیع الانبیاء صلوات اللہ علیھم معصومون عن الخطا و الغلط فی اجتھادھم_

ترجمہ: (پچھلی کلام میں بات یہ ہورہی ہے کہ انبیاء بھی اجتھاد کرتے ہیں جس طرح عام غیر نبی اجتھاد کرتے ہیں،)

عبارت کا ترجمہ: لیکن انبیاء کرام اور باقی غیر نبی مجتھدوں میں فرق یہ ہے کہ انبیاء کرام اپنے اجتھاد میں غلطی خطا اور تقصیر سے معصوم ہوتے ہیں لیکن غیر نبی مجتھدین ان سےبمعصوم نہیں ہوتے۔

اور یہی مذھب جمھور علماء کا ہے اس میں کہ بے شک انبیاء صلوات اللہ علیہم اپنے اجتھاد میں غلطی اور خطا سے معصوم ہوتے ہیں۔۔

اس حوالہ سے حضرت کا یہ اعتراض بھی جاتا رہا کہ صرف ایک نبی کا ذکر ہے یا صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے ہیں۔۔۔

بہر حال یہ حوالہ اس وقت بے دلی سے قبول تو فرمالیا مگر گفتگو کے آخر فرمانے لگے جو آپ کے حوالے قابل قبول ہیں وہ کتب اور مصنف معروف نہیں ہیں۔۔

علامہ قرطبی جیسی شخصیت کو بھی جلالی کا حمایتی غیر معروف کہ کر جان چھڑائی۔۔

(جواب:جن اسلاف کے حوالے ہم نے ان کے مقابلے میں علامہ قرطبی کم ہیں….اور پھر علامہ قرطبی فرماتے ہیں وَلَا يَمْتَنِعُ وُجُودُ الْغَلَطِ وَالْخَطَأِ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ كَوُجُودِهِ مِنْ غَيْرِهِمْ، لَكِنْ لَا يُقَرُّونَ عَلَيْهِ،ترجمہ:انبیاء کرام سے غلط و خطاء(اجتہادی)ہوسکتی ہے ممنوع نہیں لیکن انبیاء کرام اجتہادی خطا پر دائم قائم نہیں رہتے

(تفسیر قرطبی11/308)

لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی

تیسرا_حوالہ ۔۔

روح_المعانی ۔۔

جلد 12

صفحہ نمبر178

مولف علامہ محمود آلوسی رحمہ اللہ

ونعلم قطعا ان الانبیاء علیھم السلام معصومون من الخطایا لایمکن وقوعھم فی شیئ منہا ضرورت انا لو جوزنا علیہم شیئا من ذالک بطلت الشرائع ولم یوثق بشیئ مما یذکرون انہ وحی من اللہ تعالی۔۔

ترجمہ اور ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ بے شک انبیاء کرام خطاٶں سے معصوم ہوتے ہیں ان سے خطاوں سے کچھ بھی واقع ہونا ممکن نہیں ۔۔یہ اسلیے کہ اگر ہم ان خطاوں کو ان سے جائز قرار دیں تو شریعتیں باطل ہوجائیں گی اور ان انبیاء سے اعتماد اٹھ جائے گا کہ جو یہ ذکر کر رہے ہیں یہ واقعی اللہ کی طرف سے وحی ہے یا ان میں انکو خطا واقع ہوئی ہے۔۔۔(جواب ہمارے حق میں وحی اور اجتہاد دونوں کی پیروی لازم، انبیاء کرام بتا دیتے لکھوا دیتے تھے کہ یہ وحی ہے یہ وحی نہیں….لیھذا وحی غیر وحی میں اشتباہ نہ رہا اور اجتہاد میں خطاء ہوتی تو اللہ کریم فورا وحی فرما کر اصلاح فرما دیتا لیھذا کوئی بطلان و اشتباہ نہیں… یہی اسلاف کا قول ہے)

اسلیے ضروری طور پر یقین کرنا پڑے گا کہ انبیاء خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں۔

.

پتافی

یہاں حضرت کو جان چھڑانے ایک اور بہانہ ملا کہ خطا کے ساتھ اجتھاد مذکور نہیں لہذا یہ خطا معصیت بھی ہوسکتی ہے۔

العیاذ باللہ ۔۔۔جلالی کی حمایت کی نحوست کہ انبیاء سے خطائے اجتھادی کو ثابت کرتے کرتے ان پاک ذاتوں کی طرف خطاے معصیت کو بھی ممکن سمجھتے ہی

(جواب:یہ آپ کا جھوٹ ہے کہ انبیاء کرام سے خطائے معصیت کو ہم نے جائز کہا…..بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ خطاء سے مراد خطاء معصیت ہے اور انبیاء سے اسکی نفی ہے یعنی مزکورہ حوالے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انبیاء کرام خطاء معسیت سے معصوم ہیں اجتہادی جائز ہےلیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا….اور روح المعانی کا یہ حوالہ بھی دیکھیے کیا لکھتے ہیں

جمهور المحدثين والفقهاء على أنه يجوز للأنبياء عليهم السلام الاجتهاد في الأحكام الشرعية ويجوز عليهم الخطأ في ذلك لكن لا يقرون عليه

ترجمہ:

جمہور.و.اکثر محدثین و فقہاء کا نظریہ ہے کہ انبیائے کرام کے لئے اجتہادی خطا جائز ہے لیکن وہ اجتہادی خطا پر قائم نہیں رہتے ( بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[تفسير الألوسي = روح المعاني ,7/68]

.

پتافی:

۔۔۔اس سے اندازہ ہوا جلالی گروپ ناصبیت سے بھی ایک قدم آگے نکل چکے ہیں۔۔

(جواب:ناسبیت سے آیک قدم اگے کا فتوی کفر ہے یا…..؟؟ بہرحال جن اسلاف نے خطاء اجتہادی کو جاءز کہا کیا وہ بھی ناصبی……؟نعوذ باللہ)

.

پتافی:

چوتھا_حوالہ۔۔۔

التقریر_والتحبیر

شرح علامہ محقق ابن امیر الحاج ۔۔فتاوی رضویہ پڑھنے سے اندازہ کرلیں ان شخصیت پر اعلی حضرت رحمہ اللہ نے کتنا اور کیسا اعتماد فرمایا۔۔

جلد 3 صفحہ 381

قیل بامتناع جواز الخطا علی اجتھادہ نقلہ فی الکشف وغیرہ عن اکثر العلماء و قال الامام الرازی والصفی الھندی انہ الحق وجزم بہ الحلیمی والبیضاوی وذکر السبکی انہ الصواب وان الشافعی نص علیہ فی مواضع من الام

یہ مسئلہ مختلف فیھا ہے

ترجمہ ۔۔ایک قول یہ ہے کہ نبی مجتھد سے خطاۓ اجتھادی ممتنع ہے ۔۔۔

الکشف وغیرہ میں یہی اکثر علماء سے منقول ہے ۔۔۔

امام رازی اور صفی ھندی نے فرمایا کہ یہی قول حق ہے ۔۔

اور اسی پر حلیمی اور علامہ بیضاوی نے بھی جزم فرمایا اور سبکی رحمہ اللہ نے ذکر کیا کہ یہی قول درست ہے ۔۔

اور امام شافعی رحمہ اللہ نے الام میں جا بجا اسی قول پر نص کی ہے۔۔۔

اس پر حضرت نے کئی بہانے بنائے ۔۔۔

کہا کہ یہاں بھی کسی ایک نبی کے بارے کہا گیا ہے سارے نبییوں کے بارے نہیں۔۔

اور فرمایا کہ ہو سکتا ہے مؤلف سے نسبت میں غلطی ہوئی ان بزرگوں نے ایسا نہ فرمایا ہو۔۔

واہ ۔۔۔!!

جس ہستی پر اعلی حضرت رحمہ اللہ بے حد اعتماد کرتے ہوں انکے لیے یہ جلالی کا حامی کہ گیا کہ ان پر اعتماد نہیں کیا سکتا ۔۔۔

(جواب:

سیدی اعلی حضرت علامہ شامی پر کتنا اعتماد کرتے تھے جگہ جگہ حوالے مگر پھر کچھ جگہ پر علامہ شامی پر اعتراضات بھی کییے….کبھی مستند سے بھی اشتباہ و غلطی غلط فھمی ہوجاتی ہے اور بات بھی ایک نبی پاک کی ہے ناکہ انبیای کرام کی لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی

پانچواں_حوالہ ۔۔

الموافقات

مصنف۔۔علامہ محقق ابو اسحاق ابراھیم بن موسی بن محمد شاطبی رحمہ اللہ

متوفی 790

جلد 4.صفحہ 335

والتفریع علی القول بنفی الخطا اولی ان لایحکم باجتھادہ حکما یعارض کتاب اللہ تعالی ویخالفہ

ترجمہ: نفی خطا کے قول پر تفریع بٹھانا اولی ہے تاکہ انکے اجتھاد سے ایسا حکم ثابت ہی نا ہو سکے جو کتاب اللہ کے معارض اور مخالف ہو۔۔

یہ حوالہ بھی یہ کہ ٹھکرا دیا کہ کسی ایک نبی بالخصوص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے ہے لہذا نا قابل قبول۔۔

عدم قبولیت کی وجہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام مبارک ۔۔واہ جلالی کی حمایت کافائدہ۔۔۔

(جواب:بدگمانی جھوٹ….رد کی وجہ اسم مبارک نہین بلکہ امکان خصوصیت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موقف و دلیل میں عدم مطابقت وجہ ہے رد کی..لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی:

چھٹا_حوالہ

قواطعالادلہفی_الاصول

امام ابو مظفر منصور بن محمد بن عبد الجبار السمعانی ۔۔المتوفی 489

جلد 2

صفحہ 105

لانہ علیہ السلام کان معصوما عن الخطا فی الاحکام

ترجمہ ۔۔۔اسلیے کہ آپ علیہ السلام احکام میں خطا سے معصوم ہیں۔۔۔

اس حوالہ پر انکا ایک اعتراض یہ تھا کہ یہ صرف حضور صلی اللہ علیہ کے لیے ۔ہے۔۔اور خطا کے ساتھ اجتھاد نہیں دبے لفظوں میں جلالی کے حمایتی نے معاذ اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے خطا معصیت کا قول کر رہے تھے

(جواب جھوٹ خطائے معصیت کا قول نہیں کیا کما مر)

(جواب:بدگمانی جھوٹ….رد کی وجہ اسم مبارک نہین بلکہ امکان خصوصیت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موقف و دلیل میں عدم مطابقت وجہ ہے رد کی….لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی:

۔۔۔یہ سارے گناہ جلالی کے کھاتے میں ہی جائیں گی۔۔۔کیوں یہ خطا خطا کا کھیل انہوں نے ہی ایجاد کیا ہے۔۔

(جواب جن اسلاف نے خطاء اجتہادی کا قول کیا وہ بھی گستاخ و گناہ گار…..؟ جلا لی سے اتنا بغض….؟ اختلاف کیجیے مگر حد میں رہتے ہوئے)

.

پتافی:

ساتواں_حوالہ۔۔

الفکر_السامی۔۔

محمد بن حسن الحجوی الثعالبہ الفاسی ۔۔متوفی ۔۔1291 ھجری

جلد 1

صفحہ 138

والصواب ان اجتھادہ علیہ السلام لا یخطی۔۔

ترجمہ۔۔۔درست قول یہ ہے کہ آپ علیہ سلام اپنے اجتھاد میں خطا نہیں کرتے۔۔

تو چونکہ حوالہ رد کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے نام مبارک کو متعین کیے ہویے تھے لہذا کہا کہ یہاں بھی صرف حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے۔۔(جواب:بدگمانی جھوٹ….رد کی وجہ اسم مبارک نہین بلکہ امکان خصوصیت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موقف و دلیل میں عدم مطابقت وجہ ہے رد کی…لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

آٹھواں_حوالہ

المعتقد_والمنتقد۔۔

سیدنا فضل رسول بدایونی

جس پر اعلی حضرت عظیم البرکت نے حاشیہ کے لیے اس کتاب کاانتخاب فرمایا۔۔۔

ان القول بجواز الخطا علیہم فی اجتھادھم قول بعید مھجور فلایلتفت الیہ۔۔

ترجمہ۔۔بے شک انبیاء علیہم السلام کے بارے خطائے اجتھادی کا قول حق سے بعید ہے ناقبل عمل اس قول کی طرف التفات نہیں کیا جایے گا۔۔۔

محشی جب کسی کتاب پہ حاشیہ لکھتا ہے تو اگر کتاب میں موجود کسی مسئلہ کو بیان نا کریں اس مسئلہ پر خاموش رہنا یہ محشی کی اس مسئلہ سے اتفاق کی دلیل ہوا کرتا ہے اسے قول تقریری کہتے ہیں ۔۔(جواب اس اصول کا حوالہ دیجیے عقلا عین ممکن کہ موافقت کے بغیر عدم توجہ صرف نظر یا بعد میں کچھ لکھنے کی امید پر بھی محشی کچھ جگہ پے حاشیہ نہیں لگاتا لیھذا تقریر نہ ہوا)

.

پتافی:

لہذا اس مسئلہ پر اعلی حضرت رحمہ اللہ نے کوئی حاشیہ نا لگا کر اس کو تسلیم کر رہے ہیں اور یہ اعلی حضرت رحمہ اللہ کا قول تقریری بنے گا۔۔۔(جواب ہر گز نہیں کمامر)

بہرحال جلالی کے حمایتی نے اس سے ثابت ہونے والے اعلی حضرت کے قول تقریری کو تو نا مانا البتہ کتاب کا حوالہ با دل نخواستہ مان لیا۔۔(جواب اس شرط پر مان لیا کہ قلمی نسخہ میں استمرار موجود نہیں تب اس حوالے کا جواب پہلے دے چکا کہ مصنف کا تسامح عجلت یا فرق نسخہ لیھذا حوالہ معتبر نہ رہا)

.

پتافی

نواں_حوالہ۔۔

اسی کتاب پر علامہ تاج الشریعہ مفتی اختر رضا خان صاحب نے فرمایا۔۔

اس کے سوا یہ بات بھی ہے نبیوں سے انکے اجتھاد میں خطا کے جائز ہونے کا قول صحت سے دور مہجورہے اسکی طرف التفات نہیں۔۔(جواب تاج الشریعہ نے ترجمہ کیا مترجم کا مترجم کتاب کی ہربات سے اتفاق ہولازم نہیں…لیھزا تاج الشریعہ کا حوالہ بھی نہ رہا)

.

پتافی:

دسواں_حوالہ۔۔۔

نہایتالاصولفیدرایةالاصول

مولف۔۔شیخ صفی الدین محمد بن عبدالرحیم الھندی

متوفی۔۔715 ھ

صفحہ۔۔3811

اذا جوزنا لہ الاجتھاد فالحق عندنا انہ لا یجوز لہ ان یخطی

لنا۔۔ان تجویز الخطا علیہ غض من منصبہ فوجب ان لایجوز۔

ترجمہ۔۔

جب ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجتھاد کو جائز قرار دیں تو حق ہمارے نزدیک یہ قول ہے کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خطا نہیں کرتے ۔۔

ہم یہ اسلیے کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خطا کو جائز قرار دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب کے مناسب نہیں۔۔تو واجب ہے کہ ہم خطا کو جائز قرار نا دیں۔۔۔

اور اس حوالے پر جواب انکا ایک ہی تھا یہ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔۔(جواب:بدگمانی جھوٹ….رد کی وجہ اسم مبارک نہین بلکہ امکان خصوصیت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موقف و دلیل میں عدم مطابقت وجہ ہے رد کی….لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی:

#گیارہواں_حوالہ۔۔۔

تفسیر الفخر الرازی

امام فخر الدین رازی رحمہ اللہ

جلد۔۔10

صفحہ۔۔170

۔۔دلت الایة علی ان الانبیاء علیہم الصلوةو السلام معصومون عن الخطا فی الفتوی وفی الاحکام

ترجمہ: آیة اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ بے شک انبیاء علیہم الصلاة والسلام فتوی اور احکام میں خطا سے معصوم ہیں۔۔۔

اور جلالی کے علمی یتیم نے جو یہاں جو بونگی ماری کہ اہل علم حیران ہیں کہ کوئی عالم یہ بات کر سکتا ہے۔۔

انہوں نے اس حوالہ پر فرمایا کہ

یہاں خطا فی الفتوی والاحکام لکھا ہے۔۔۔

یہ خطاے اجتھادی کے بارے میں نہیں بلکہ خطا معصیت کے بارے ہے۔۔۔اہل علم اس سے جلالی کے حمایتی کا علمی مبلغ کا اندازہ کرسکتے ہیں۔۔۔یہ جلالی گروپ دوسروں کو علمی یتیم کہ کر پکارتے ہیں خود ان کے علمی مبلغ کا یہ حال ہے

(جواب:طعنے کسنے بھپکی مارنے کے علاوہ اپ کے پاس میرے اعتراض کا جواب نہیں کیا……؟؟

یہاں خطسء اجتہادی کا ذکر نہ تو لفظا ہے نہ ہی سیاقا سباقا…لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی

بارہواں_حوالہ۔۔۔

حاشیہالتوضیحوالتصحیح

محشی۔۔النحریر الھمام ابن عاشور قاضی مالکی رحمہ اللہ

المتوفی۔۔684

وقد ترک المصنف التنبیہ علی منع الخطا فی اجتھادہ صلی اللہ علیہ وسلم وھو الذی اختارہ الامام وقال انہ الحق۔۔

ترجمہ:مصنف نے اس بات پر تنبیہ کو چھوڑ دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجتھادی خطا ممتنع ہے اور اسی قول کو امام نے پسند فرمایا ہے اور فرمایا ہے یہی قول حق ہے۔۔

(جواب:رد کی وجہ اسم مبارک نہین بلکہ امکان خصوصیت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور موقف و دلیل میں عدم مطابقت وجہ ہے رد کی کما مر…لیھذا یہ حوالہ بھی نامقبول و رد قرار پاپا)

.

پتافی

تیرہواں_حوالہ۔۔۔

البحر_المحیط

امام ابو حیان اندلسی۔۔المتوفی 745 ھ

جلد 7..صفحہ۔۔378

ویعلم قطعا ان الانبیاء علیھم السلام معصومون من الخطایا لایمکن وقوعھم فی شیئ منہا ضرورت انا لو جوزنا علیہم شیئا من ذالک بطلت الشرائع ولم یوثق بشیئ مما یذکرون انہ وحی من اللہ تعالی۔۔

ترجمہ: اور ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ بے شک انبیاء کرام خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں ان سے خطاؤں سے کچھ بھی واقع ہونا ممکن نہیں ۔۔یہ اسلیے کہ اگر ہم ان خطاؤں کو ان سے جائز قرار دیں تو شریعتیں باطل ہوجائیں گی اور ان انبیاء سے اعتماد اٹھ جائے گا کہ جو یہ ذکر کر رہے ہیں یہ واقعی اللہ کی طرف سے وحی ہے یا ان میں انکو خطا واقع ہوئی ہے۔۔۔(جواب ہمارے حق میں وحی اور اجتہاد دونوں کی پیروی لازم، انبیاء کرام بتا دیتے لکھوا دیتے تھے کہ یہ وحی ہے یہ وحی نہیں….لیھذا وحی غیر وحی میں اشتباہ نہ رہا اور اجتہاد میں خطاء ہوتی تو اللہ کریم فورا وحی فرما کر اصلاح فرما دیتا لیھذا کوئی بطلان و اشتباہ نہیں… یہی اسلاف کا قول ہے)

اسلیے ضروری طور پر یقین کرنا پڑے گا کہ انبیاء خطاؤں سے معصوم ہوتے ہیں۔۔(جواب:قول شاذ ہوسکتا ہے مسنف کا اپنا مختار ہوسکتا ہے اسلاف کے اقوال ہم نے دیے انکے مقابل یہ حوالہ کچھ حیثیت نہیں رکھتا)

.

پتافی

یہ تو ہوئے مفتی صاحب کی طرف سے اکابرین کے حوالہ کہ انبیاء کرام کے بارے خطا فی الاجتھاد مختلف فیہ ہے مگر مختار قول یہ ہے کہ انبیاء کرام خطا فی الاجتھاد سے معصوم ہوتے ہیں۔۔۔

مگر ان حضرت کی یہ ضد تھی کہ حوالے میں لفظ انبیاء ہو کسی ایک نبی یا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے نا ہو ۔۔۔

اور خطا کے ساتھ اجتھاد ہو۔۔

۔۔یعنی انبیاء۔۔اور اجتھاد ہر حوالے میں یہ دو لفظ موجود ہوں۔۔(جواب لفظ شرط قرار نہیں دیا تھا بلکہ سیاق و سباق سے اگر اجتہاد و انبیاء ہون تو بھی ٹھیک)

.

اب آتے ہیں ان حضرت کے ان پندرہ حوالوں کی طرف جن کی رٹ لگا کر یہ بھپکیاں مارتے رہتے ہیں۔

۔کیا انکے اپنے حوالے میں یہ دونوں الفاظ موجود ہیں۔۔

کیا وہ اکابر کے حوالے ہیں۔۔

①وَقد كَانَت مِنْهُم زلات وخطایاھم

ترجمہ:

اور بےشک بعض انبیاء کرام علیھم السلام سے لغزیشیں اور(اجتہادی)خطائیں ہوئیں

[أبو حنيفة ,الفقه الأكبر ,page 37]

مفتی صاحب نے فرمایا کہ نمبر ایک اس کتاب کی نسبت امام اعظم کی طرف متکلم فیہا ہے اسکے غیر معتبر ہونے کے لیے اتنا کہ دینا بھی کافی ہے مگر میں مان لیتا حوالہ ۔۔مگر بتائیں عبارت میں خطا کے ساتھ اجتھاد کہاں ہے۔۔۔

(جواب اجتہاد کے ساتھ سیاق و سباق قرینہ کلام کہتا ہے کہ یہاں بات اجتہاد کی ہورہی ہے ورنہ خطاء معصیت کی تو نفی ہے لیھذا خطا سے مراد اجتہادی خطاء ہی ہوئ)

.

پتافی

ساتھ ہی مفتی صاحب نے فرمایا معاذ اللہ میں انبیاء سے خطاۓ معصیت کجا میں خطاۓ اجتھادی کا بھی قائل نہیں مگر میرے حوالے میں خطا کے ساتھ آپ کو اجتھاد چاہیے تھا۔۔۔(جواب نفی کے لیے مطلقا خطا قبول نہیں تھا کیونکہ اس سے یہ بھی مراد ہوسکتا تھا کہ خطاء معسیت کی نفی ہے لیھذا نفی کے وقت اجتہاد کا تذکرہ لفظا یا سیاقا سباقا ضروری جبکہ اثبات میں مطلقا خطا بولا جائے تو خطاء اجتہادی مراد ہوگا کہ خطاء معصیت مراد لینا گناہ)

.

پتافی

اس لیے وہ حوالہ بھی رد کیا جس میں خطا فی الفتوی و الاحکام آیا ہے۔۔

لہذا یہ حوالہ آپ کا رد ہوتا ہے۔۔(جواب:رد نہیں ہوتا جسیا کہ اوپر لکھ چکا)

.

پتافی:

مگر میں پھر بھی گن لیتا ہوں۔۔(جواب:شکریہ اور تاج الفقہاد امام اعظم کا ایک حوالہ سب پے بھاری ہے)

.

پتافی

②وجاز الخطا في اجتهاد الأنبياء الا انهم لا يقرون عليه

ترجمہ:

انبیائے کرام کے اجتہاد میں خطا واقع ہونا جائز ہے مگر یہ کہ وہ خطائے اجتہادی پر قائم نہیں رہتے (بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[التفسير المظهري ,6/215]

مفتی صاحب کی طرف سے اسے بھی گنا گیا۔۔۔

مگر مفتی صاحب نے یہ کبھی کہا ہی نہیں کہ سارے علماء اس پر متفق ہیں کہ انبیاء سے خطا فی الاجتھاد نہیں ہوسکتی مسئلہ مختلف فیہا ہے۔۔۔

یہ علامہ صاحب تفسیر مظہری جواز کے قائل ہیں ۔۔مگر مختار جمہور اس سے ثابت نا ہوا۔۔۔

③لأن الأنبياء معصومون من الغلط والخطأ لئلا يقع الشك في أمورهم وأحكامهم , وهذا قول شاذ من المتكلمين. والقول الثاني: وهو قول الجمهور من العلماء والمفسرين ولا يمتنع وجود الغلط والخطأ من الأنبياء كوجوده من غيرهم. لكن لا يقرون عليه وإن أقر عليه غيرهم

خلاصہ:

وہ جو کہتے ہیں کہ انبیاء کرام غلطی اور خطا سے معصوم ہے یہ قول شاذ متکلمین کا ہے

جمہور علماء اور مفسرین کا قول یہ ہے کہ انبیائے کرام سے اجتہادی غلطی اور اجتہادی خطا ہوجاتی ہے لیکن وہ اس پر قائم نہیں رہتے (بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)غیر انبیاء سے خطا اجتہادی ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اس پر قائم نہ رہیں بلکہ بعض اس پر قائم بھی رہتے ہیں

[اتفسير الماوردي = النكت والعيون ,3/457بحذف یسییر]

اس پر بھی مفتی صاحب نے فرمایا خطا کے ساتھ اجتھاد کا ذکر نہیں آپکے اپنے دعوی کے مطابق یہ بھی رد ہے

(جواب جیسا کہ فقہ اکبر میں مطلقا خطاء اثبات تھی تو لازما اجتہادی مراد اسی طرح یہاں بھی اجتہادی خطاء مراد اور اس حوالے میں یہ بھی ہے کہ مفتی چمن زمان والا موقف شاذ ثابت اور اس حواللے میں یہ بھی ثابت کہ عنایت والا موقف جمھور کا ہے لیھزا جمھور کا حوالہ دو کی ڈیمانڈ بھی پوری)

.

پتافی:

.④أن الخطأ إذا وقع من نبي بقول أو فعل فإن الله تعالى يصححه على الفور، مما يبين وجوب الأسوة والقدوة بهم، وأن ذلك لا يؤثر على الاقتداء والتأسي بهم؛ لأن خطأهم مصحح بخلاف خطأ غيرهم

خلاصہ:

جب کسی نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے قول یا فعل میں خطااجتہادی ہوتی ہے تو اللہ تعالی فورا اس کی تصحیح فرما دیتا ہے(لہذا انبیاءکرام کی خطا اجتہادی وقتی ہوتی ہے جس پر وہ قائم نہیں رہتے اللہ تعالی ان کی اصلاح فرما دیتا ہے)بر خلاف غیر انبیاء کی خطا کے کہہ غیر انبیاء سے جب خطا اجتہادی ہوتی ہے تو اللہ تعالی اس کی اصلاح نہیں فرماتا(لہذا غیر انبیاء کی خطا اجتہادی کبھی وقتی ہوتی ہے کبھی دوامی)

[أصول أهل السنة والجماعة ,1/6]

.اس حوالے پر بھی مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ اجتھاد سے خالی ہے ۔۔(اوپر تفسیل گذر چکی کہ خطاء اثبات ہو تو خطاء اجتہادی مراد لازم)

.

پتافی:

اور کسی ایک نبی کے بارے ہے۔۔اس پر حضرت گویا ہویے کہ نبی نکرہ ہے اور نکرہ میں عموم ہوتا ہے۔۔لہذا سارے انبیاء شامل ہونگے ۔۔۔اس سے طلباء بھی سمجھ سکتے ہیں ابتدائی کتب میں قائدہ موجود ہے کہ نکرہ نفی میں ہو تو عموم کا فائدہ دیتا ہے ۔۔لیکن حضرت جلالی کے حمایتی تو جلالی کی طرح مبادیات سے بھی غافل نکلے

(جواب عموم بولنا میری غلطی مگر یہان لفظ نبی مطلق اور مطلق اپنے اطلاق پر سب کو شامل لیھزا یہ ھوالہ بھی معتبر)

.

پتافی:

⑤وَقَالُوا: يَجُوزُ الْخَطَأُ عَلَى الْأَنْبِيَاءِ إِلَّا أَنَّهُمْ لَا يُقِرُّونَ عَلَيْهِ

ترجمہ:

علماء فرماتے ہیں کہ انبیاء کرام سے خطاء جائز ہے مگر یہ کہ وہ خطا پر قائم نہیں رہے تھے

[تفسير البغوي – طيبة ,5/333]

.یہ بھی خطا اجتھاد کے بغیر لہذا اپکے اپنے قائدے کے مطابق یہ حوالہ بھی رد۔۔۔(اوپر فقہ اکبر کے حوالے میں مزکورہ و ثابت ہوا کہ خطاء اثبات ہو تو لا محالہ خطاء اجتہادی مراد لیھذا حوالہ معتبر اور لفظ قالوا میں صاف واضح کہ یہ مذہب اکثر علماء کا ہے)

.

پتافی:

مفتی صاحب بار بار یہ بھی فرما رہے تھے کہ معاذ اللہ میں خطاۓ اجتھادی سے بھی انبیاء کو معصوم مانتا ہوں چہ جایے کہ خطاۓ معصیت ۔۔

مگر جس بنیاد پر مفتی صاحب کے حوالے وہ حضرت رد کر رہے تھے اسی بنیاد ایسا کہا گیا۔۔(جواب بنیاد ہی غلط ثابت کردی ہم نے جیسا کہ فقہ اکبر کے حوالے میں لکھا)

.

پتافی

⑥فأخطأ في الاجتهاد،وهذا شأن الأنبياء لا يُقَرُّون على الخطأ

ترجمہ:

نبی پاک سے اجتہاد میں خطاء ہوئی اور یہ انبیائے کرام کی شان ہے کہ وہ خطاء (اجتہادی)پر قائم نہیں رہتے(بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[الكوثر الجاري إلى رياض أحاديث البخاري ,6/36ملخصا]

اخطا میں ایک نبی کا ذکر ہے ۔۔لہذا یہ بھی رد۔۔۔(جواب شان الانبیاء مین لفظ انبیاء نظر نہیں ایا اپ کو….؟ لیھذا یہ حوالہ بھی معتبر)

.

پتافی

یہ انداز بھی اسلیے اپنایا گیا کیوں حضرت نے خود مفتی صاحب کے حوالے کے بارے پہلے یہی انداز اپنا چکے تھے(جواب مطلب حقیقت کچھ اور ہے مگر یہان حق کو میرے انداز کی وجہ سے ٹھکرایا…؟ یہ تو مناظرانہ مکارانہ انداز ہوا افھام و تفھیم کا نہ ہوا)

.

.

پتافی:

⑦يجوز وقوع الخطأ منهم، لكن لا يقرّون عليه،

ترجمہ:

انبیائے کرام سے خطا اجتہادی کا واقع ہونا جائز ہے لیکن وہ خطا پر قائم نہیں رہتے( بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[روضة الناظر وجنة المناظر ,2/354]

اس میں بھی خطا کے ساتھ اجتھاد کہیں ذکر نہیں(فقہ اکبر کی بحث میں ثابت کر چکا کہ اثبات میں خطاء لکھا ہو تو لا محالا اجتہادی خطاء مراد ہے کما مر لیھزا یہ حوالہ بھی معتبر)

.

پتافی:

⑧يجوز عليهم، ولا يقرون عليه

انبیائے کرام سے خطا اجتہادی کا واقع ہونا جائز ہے لیکن وہ خطا پر قائم نہیں رہتے( بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[التمهيد في أصول الفقه ,4/317]

یہاں تو نا خطا کا ذکر نا انبیاء کا نہ اجتھاد۔۔۔(جواب سیاق و سباق پرھا ہوتا تو اس طرح نہ تھکراتے….بحث ہی جب خطاء اجتہادی کی چل رہی ہے تو اس پر فرمایا گیا کہ انبیاء سے اجتہادی خطاء جائز مگر وہ اس پر قاءم و داءم نہین رہتے….لیھذا یہ حوالہ بھی معتبر)

.

پتافی

⑨انبیاء (علیہم السلام) اپنی عصمت میں زلات (لعزشوں، اجتہادی خطاء، مکروہ تنزیہی یا خلاف اولی کا ارتکاب) سے مامون(محفوظ) نہیں ہوتے

(تبیان القرآن تحت سورہ الاعلی آیت6)

یہ حوالہ اکابر میں سے نہیں۔۔(جواب ہم تو انکو متاخرین اکابرین میں سمجھتے ہیں جیسا کہ اپ نے تاج الشریعہ کو اکابرین میں سمجھا اسی یہ شیخ الحدیث و التفسیر بھی اکابر میں شمار لیھزا یہ حوالہ بھی معتبر)

.

دوسرے یہ کہ نبی بھی اجتہاد کرسکتے ہیں کیونکہ ان دونوں حضرات کے یہ حکم اجتہادی تھے نہ کہ وحی۔ تیسرے یہ کہ نبی کے اجتہاد میں خطا بھی ہوسکتی ہے

(نور العرفان تحت سورہ الانبیاء آیت79)

یہ حوالہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا دیا ہوا ہے مگر حضرت کو پتا ہی نہیں تھا کہ اس کتاب کے مصنف کون ہیں(جواب مفتی چمن زمان کو بھی پرہ نہ تھا کہ اسکا مصنف کون ہے)

.

پتافی

کیوں یہ حضرت خود طاہر القادری کو گمراہ مانتے ہیں اور انبیاء کرام کو خطا پر ثابت کرنے کے کیے انکا قول بھی لے کر آئے۔۔واہ واہ سبحان اللہ جلالیو دیکھ لو۔۔؟(جواب یہ حوالہ منھاجیوں کے لیے حجت کے طور پر ہے)

.

پتافی:

.10)حضرت آدم علیہ السلام سے اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطائے اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(خزائن العرفان تحت سورہ بقرہ ایت36)

یہ حوالہ بھی اکابرین میں سے نا تھا ۔۔۔(جواب ہم تو انکو متاخرین اکابرین میں سمجھتے ہیں جیسا کہ اپ نے تاج الشریعہ کو اکابرین میں سمجھا اسی یہ شیخ الحدیث و التفسیر بھی اکابر میں شمار لیھذا یہ حوالہ بھی معتبر)

.

11)نوح (علیہ السلام) یا تو اس نہی کو بھول گئے یا ان سے خطا اجتہادی ہوئی

(نور العرفان تحت سورہ المومنون آیت27)

یہ حوالہ ایک تو اکابرین کا نا تھا دوسرا کسی ایک نبی کے بارے تھا سب کے لیے نہیں۔۔۔(جواب ہم تو انکو متاخرین اکابرین میں سمجھتے ہیں جیسا کہ اپ نے تاج الشریعہ کو اکابرین میں سمجھا اسی یہ شیخ الحدیث و التفسیر بھی اکابر میں شمار البتہ انبیاء کا زکر نہیں اس لیے غیر معتبر مان لیا)

.

پتافی:

.12) اس لئے کہ انبیاء (علیہم السلام) معصوم ہوتے ہیں۔ یہ ہوسکتا ہے کہ اجتہاد میں خطا ہوجائے۔ چنانچہ آپ کو بھی اجتہاد میں خطا ہوئی اور خطا اجتہادی معصیت نہیں ہوتی۔

(عرفان القرآن تحت سورہ بقرہ ایت36)

مکرر

.13)تفسیر صراط الجنان میں ہے کہ:

(1)اجتہاد برحق ہے اور اجتہاد کی اہلیت رکھنے والے کو اجتہاد کرنا چاہیے۔

(2)… نبی علیہ السلام بھی اجتہاد کرسکتے ہیں کیونکہ ان دونوں حضرات کے یہ حکم اجتہاد سے تھے نہ کہ وحی سے ۔

(3)… نبی علیہ السلام کے اجتہاد میں خطا بھی ہوسکتی ہے تو غیر نبی میں بدرجہ اولی غلطی کا احتمال ہے۔

(4)… خطا ہونے پر اجتہاد کرنے والا گنہگار نہیں ہوگا۔

(5)… ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد سے ٹوٹ سکتا ہے البتہ نص اجتہاد سے نہیں ٹوٹ سکتی۔

(صراط الجنان تحت سورہ انبیاء آیت78)

اکابرین میں سے نہیں۔۔۔(جواب ہم تو انکو متاخرین اکابرین میں سمجھتے ہیں جیسا کہ اپ نے تاج الشریعہ کو اکابرین میں سمجھا اسی یہ شیخ الحدیث و التفسیر بھی اکابر میں شمار لیھذا یہ حوالہ بھی معتبر)

.

پتافی:

.14)لا الصغائر غير المنفرة خطأ

ترجمہ:

انبیاء کرام (اجتہادی)خطاء والے صغائر غیر منفرہ سے معصوم نہیں

(مسامرہ ص195)

خطا اجتھادی کا ذکر ہیں نہیں۔۔(جواب فقہ اکبر کی بحث میں ثابت کرچکے کہ خطا اثبات ہو تو لامحالہ لازما اجتہادی مراد لیھذا یہ حوالہ بھی معتبر)

.15)جمهور المحدثين والفقهاء على أنه يجوز للأنبياء عليهم السلام الاجتهاد في الأحكام الشرعية ويجوز عليهم الخطأ في ذلك لكن لا يقرون عليه

ترجمہ:

جمہور.و.اکثر محدثین و فقہاء کا نظریہ ہے کہ انبیائے کرام کے لئے اجتہادی خطا جائز ہے لیکن وہ اجتہادی خطا پر قائم نہیں رہتے ( بلکہ اللہ تعالی انکی اصلاح فرما دیتا ہے)

[تفسير الألوسي = روح المعاني ,7/68]

خطاے اجتھادی کا ذکر نہیں۔(جواب اللہ اللہ یہ مکاری توبہ….ذالک کا مشار الیہ کیا ہے….؟؟ ادنی سا طالب علم بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہاں مشار الیہ الاجتہاد ہے لیھزا یہ ھوالہ بھی معتبر)

.

پتافی

مفتی صاحب کے سارے الزامی جوابات تھے ۔۔(مطلب حقیقت کچھ اور تھی اور محض الزاما رد کیا؟ افسوس یہ کسی افھام و تفھیم والے عالم سچے عالم کا شیوہ نہیں کہ وہ الزاما حق کو تھکرا دے)

.

پتافی

مفتی صاحب نے فرمایا یہ پندرہ حوالے بہت تھوڑے میں آپ کو سو حوالے پیش کر سکتا ہوں کہ جنہوں نے فرمایا ہے کہ انبیاء سے خطاے اجتھادی ہوسکتی ہے اس کا انکار ہی نہیں۔۔دعوی میں یہ لکھ دیا گیا کہ مسئلہ مختلف فیہا دونوں طرف علماء کے قول موجود ہیں مگر دعوی یہ ہے مختار مذھب کونسا ۔۔۔(جواب یہ اب قارءین و علماء پرھ کر ہی فیسلہ کریں گے کہ کون ھق پے عنایت یا مفتی چمن زمان ساحب)

.

پتافی

تو مفتی صاحب نے فرمایا ہم نے جو حوالے پیش کیے انکے اندر

مختار اور اولی مذھب ثابت ہوا۔۔۔(جواب ہم مفتی ساھب کے حوالہ جات کارد کر دیا اکا دکا معتبر نہیں کہ ہمارے اکثر حوالے معتبر ثابت)

.

پتافی:

دوسرے قول یعنی خطا کے جواز کا قول مھجور ہے صحت سے بعید ہے اسکی طرف التفات نہیں کیا جایے گا۔۔۔ جیسا علامہ تاج الشریعہ مفتی اختر رضا الازھری نے فرمایا۔۔(جواب جھوٹ تاج الشریعہ نے ترجمہ کیا جسکا یہ مطلب نہین کہ ساری کتاب سے وہ متفق…اس کے برعکس ہم نے جمھور و معتبر اسلاف کے حوالے پیش کییے)

.

پتافی:

بالآخر حضرت اٹھتے ہوئے فرمانے لگے کہ میرے حوالے معتبر اور معروف کتب و مصنفین کے ہیں۔۔(جواب جیسا کہ اوپر ثابت کردیا الحمد للہ)

.

پتافی:

اور آپ کے حوالے کتب معروفہ نہیں اور مصنفین بھی معروف نہیں ۔۔لہذا میں ابھی رجوع نہیں کرونگا میں جا کر دیکھوں کہ کے آپ نے جن کتابوں کے حوالے دیے وہ مضبوط ہیں یا میرے حوالے مضبوط۔۔(اب ثابت کر چکا کہ میرے حوالے معتبر)

.

پتافی:

اگر آپکے مضبوط نکلے تب رجوع کروںگا۔۔(جواب اب اپ وسعت قلبی کرتے ہوءے حق قبول کریں رجوع کریں)

.

پتافی:

بیچ میں حضرت جلالی کے حمایتی انبیاء کو خطا پر ثابت کرنے کے لیے اللہ احد کی آیت کو قابل نسخ کا قول کردیا۔العیاذ باللہ۔۔۔(جواب ساتھ میں وضاحت بھی کردی تھی کہ جب کوءی ایت نازل ہوتی تو اس میں مکمل نسخ یا ھکم نسخ یا تلاوت نسخ کا احتمال موجود کما لایخفی علی من لہ ادنی تامل…..کوئی بھی ایت چاہے قل ہو اللہ ہو جب نازل ہورہی تھی تو اس میں احتمال نسخ(نسخ تلاوت نسخ حکم کوئی بھی امکان نسخ) تھا…مفتی چمن زمان نے اسے کفر قرار دیا…یہ جملہ کلمہ کفر تھا یا نہ تھا ہر حال میں توبہ کرتا ہوں…اب آپ مفتی چمن پر لازم ہے کہ اسکو زید بکر کا نام دیکر کفر ثابت کریں ورنہ کفر اپ پر لوٹ آئے گا توبہ آپ کو سرعام کرنی ہوگی)

.

پتافی:

گستاخ فاطمہ سلام اللہ علیہا کی حمایت کے یہ سب نقصانات ہیں۔۔۔اللہ سے پناہ مانگو کہ اللہ ناراض نا ہو ۔۔ورنہ حال یہی ہوتا ہے جو کل ایک حمایتی کا دیکھا گیا۔۔(جواب اجتہادی خطاء جب انبیاء کی منسوب ثابت ہے وہ بےادبی گستاخی نہیں، سیدنا امیر معاویہ سیدہ عائشہ کی طرف منسوب کرنا گستاخی نہیں تو سیدہ فاطمہ کی طرف منسوب کرنا بھی گستاخی نہیں….البتہ اس بارے میں میرا موقف علامہ جلا لی سے الگ ہے میری تائم لاءن پے لفظ سیدہ فاطمہ کی اجتہادی خطاء لکھ کر سرچ کریں اور کافی نیچے جاکر تین موقف پڑہیں)

.

تحریرمشتاقاحمد_پتافی

جامعةالعینسکھر

6.

نوٹ:یہ بغض چالاکی مکاری ہے یا غفلت کہ علامہ پتافی چمنی نے اپنے استاد کے حوالہ جات کا ترجمہ کیا مگر ہمارے حوالہ جات سے ہمارا ترجمہ ہی اڑا دیا…لیکن ہم نے اب جواب دیتے وقت دوبارہ اپنا ترجمہ ڈال دیا ہے

.

اجتہادی خطاءیں گنوانا نہ ہمارا شوق ہے نہ پسندیدہ موضوع مگر محبت کی آڑ میں حق سچ نصوص و عباراتِ اسلاف کو جھٹلایا جائے…جھوٹ کو محبت کہا جائے تو حق سچ واضح کرنا لازم

.

القرآن..ترجمہ:

حق سے باطل کو نا ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ

(سورہ بقرہ آیت42)

.

الحدیث..ترجمہ:

خبردار…!!جب کسی کو حق معلوم ہو تو لوگوں کی ھیبت

(رعب مفاد دبدبہ خوف لالچ) اسے حق بیانی سے ہرگز نا روکے

(ترمذی حدیث2191)

.

الحدیث.. ترجمہ:

حق کہو اگرچے کسی کو کڑوا لگے

(مشکاۃ حدیث5259)

.

جو حق(بولنے، حق کہنے، حق سچ بتانے)سے خاموش رہے وہ گونگا شیطان ہے

(رسالہ قشیریہ 1/245)

.

الحدیث:

متنطعون(تعریف تنقید تقریر تحریر وغیرہ قول یا عمل میں غلو.و.مبالغہ کرنےوالے)ہلاکت میں ہیں(مسلم حدیث6784)

بعض انبیاء کرام صحابہ اہلبیت اسلاف سےمطلقا اجتہادی خطاء کی نفی کرنا حق سچ کےخلاف ہے،جھوٹی تعریف اور غلو نہیں تو اور کیا ہے…؟؟

بےادبی جرم مگر تعریف میں حد و سچائی بھی لازم

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475

مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ پر تبصرہ:

قسط 6:

مفتی چمن زمان کی سب سے بڑی دلیل اور اسکا رد

مفتی چمن زمان کہتے ہیں کہ

خطیب مذکور(علامہ جلا لی) کی پہلی گفتگو میں “خطا” “اجتہادی خطاء” کے معنی میں ہونے کا نہ احتمال ہے نہ قرینہ

(محفوظہ ص169)

لکھتے ہیں عرف بدلتے رہتے ہیں(محفوظہ ص218)

اہل عرف نےخطیب مذکور کی گفتگو کو بےادبی پر محمول کیا(محفوظہ ص23)

.

تبصرہ:

لگتا ہے انکے جھوٹ بدگمانی حسد تعصب ایجنٹی کی کوئی حد نہیں….احادیث مبارکہ کے مطابق جب حیاء و خوف خدا نہ ہو تو انسان کچھ بھی کرسکتا ہے ، کچھ بھی کہہ سکتا ہے…خطاء سے خطاء اجتہادی کا احتمال ہی نہیں ایسا ایک ادنی سا طالب علم بھی نہیں کہہ سکتا اور یہاں محقق زماں کہہ رہا ہے…انا للہ و انا الیہ راجعون

.

الْخَطَأَ “) : بِفَتْحَتَيْنِ، وَيَجُوزُ مَدُّهُ وَهُوَ ضِدُّ الصَّوَابِ، وَالْمُرَادُ بِهِ هُنَا مَا لَمْ يَتَعَمَّدْهُ، وَالْمَعْنَى أَنَّهُ عَفَا عَنِ الْإِثْمِ الْمُتَرَتِّبِ عَلَيْهِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى سَائِرِ الْأُمَمِ، وَإِلَّا فَالْمُؤَاخَذَةُ الْمَالِيَّةُ كَمَا فِي قَتْلِ النَّفْسِ خَطَأً، وَإِتْلَافُ مَالِ الْغَيْرِ ثَابِتَةٌ شَرْعًا، لِذَا قَالَ عُلَمَاؤُنَا فِي أُصُولِ الْفِقْهِ: الْخَطَأُ عُذْرٌ صَالِحٌ لِسُقُوطِ حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى إِذَا حَصَلَ مِنِ اجْتِهَادٍ،

خلاصہ:

خطاء کا ایک معنی اثم یعنی گناہ ہے اور ایک معنی اجتہاد میں خطاء

[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,9/4052]

.

نثبت(٢) الخطأ في أربعة أجناس. – أن يصدر الاجتهاد من غير أهله. – أو لا يستتم المجتهد نظره. – أو يضعه في غير محله، بل في موضع فيه دليل قاطع. – أو يخالف في اجتهاده دليلاً قاطعاً

خلاصہ

خطاء کی چار اقسام ہیں اجتہاد کا جو اہل نہیں وہ خطاء کرے(خطاء معصیت)، مجتھد سے اجتہاد میں کوئی کمی رہے اور وہ خطاء اجتہادی کر بیٹھے، خطاء کی ایک قسم یہ کہ اجتہاد قطعی محل میں رکھے یا اجتہاد قطعی دلیل کے مقابل لاءے

(المستصفی4/81)

وَكَذَلِكَ يكون المخطىء من طَرِيق الِاجْتِهَاد

خطاء کا ایک معنی جو اجتہاد کے طور پر ہو

[,الفروق اللغوية للعسكري ,page 55]

خطا دو قسم ہے: خطاء عنادی(خطاءے معصیت)، یہ مجتہد کی شان نہیں اور خطاء اجتہادی، یہ مجتہد سے ہوتی ہے اور اِس میں اُس پر عند ﷲ اصلاً مؤاخذہ نہیں۔ مگر احکامِ دنیا میں وہ دو قسم ہے: خطاء مقرر کہ اس کے صاحب پر انکار نہ ہوگا، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس سے دین میں کوئی فتنہ نہ پیدا ہوتا ہو، جیسے ھمارے نزدیک مقتدی کا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا۔دوسری خطاء منکَر، یہ وہ خطاء اجتہادی ہے جس کے صاحب پر انکار کیا جائے گا، کہ اس کی خطا باعثِ فتنہ ہے۔ حضرت امیرِ معاویہ رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا حضرت سیّدنا امیرالمومنین علی مرتضیٰ کرّم ﷲ تعالیٰ وجہہ الکریم سے خلاف اسی قسم کی خطا کا تھا

(بہار شریعت جلد اول حصہ1 ص256)

.

جب ثابت ہوگیا کہ خطاء کے کئ معنی ہیں تو علامہ جلالی صاحب شروع ہی سے اجتہادی خطاء لفظ بولتے یا فورا وضاحت کرکے کہتے کہ اجتہادی خطاء مراد ہے تو بہتر ہوتا مگر

علامہ جلا لی نے کچھ مدت بعد اپنی نیت و مراد بتائی کہ اجتہادی خطاء مراد ہے تو بھی مقبول…بلکہ شرعا عرفا انکے قول خطاء سے اجتہادی خطاء مراد لینا ہی واجب جیسے کہ نیچے تفصیل آ رہی ہے

وَبِهَذَا أَجازَ الاسْتِثْناءَ بَعْد مدَّة.

سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس حدیث سے دلیل پکڑی کہ مطلق بول کر ایک مدت کے بعد استثناء کرنا جائز ہے

(تاج العروس40/76)

.

بعض کتب میں اتنا تک لکھا ہے کہ جب بھی (علمی ماحول میں)خطاء بولا جائے تو وہ اجتہادی خطاء ہی مراد ہوتا ہے

اعلم أنّ الخطأ والصواب يستعملان في المجتهدات

ترجمہ:

جان لو کہ بےشک خطاء اور صواب اجتہاد میں استعمال ہوتے ہیں[كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم ,1/683]

.

ما ما صح عنهم من خطأ فإنه يحمل على الاجتهاد….لا على سوء الاعتقاد والكفر

جو اسلاف سے صحیح ثابت ہو کہ انہوں نے خطاء کی یا کہی تو اس خطاء کو خطاء اجتہادی پر محمول کیا جائے گا(خطاء اجتہادی ہی مراد لی جائے گی)خطاء سے برا اعتقاد کفر وغیرہ مراد نہ لی جائے گی

(المنقذ من الضلال188)

یہاں ایک بات تو یہ واضح ہوئی کہ اہل علم یا کسی سچے اچھے مسلمان سے خطاء لفظ نکلے تو اسے اجتہادی خطاء پر محمول کیا جائے گا گناہ قصور مذمت وغیرہ برے معنی مراد نہ لیے جائیں گے….اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اہل علم کے ہاں خطاء کے کئ معنی ہیں، یہ بھی ثابت ہوا کہ خطاء خطاء اجتہادی کا احتمال رکھتاہے جبکہ چمن زمان محقق زماں کی بدگمانی حسد تعسب ایجنٹی یا کم علمی واضح کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ خطاء خطاء اجتہادی کا احتمال ہی نہیں رکھتا…لاحول ولا قوة الا باللہ

.

خطاء کے اچھے برے کئ معنی ہیں تو کسی صحیح المذہب سچے عاشق رسول محب صحابہ محب اہلبیت سے خطاء لفظ نکلے تو اسکا اچھا معنی و محمل مراد لیناواجب بدگمانی حرام

.

اچھا محمل ، اچھا معنی مراد لینا واجب

قرآن و حدیث سےماخوذ انتہائی اہم اصول.و.حکم…….!!

.

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اجۡتَنِبُوۡا کَثِیۡرًا مِّنَ الظَّنِّ ۫ اِنَّ بَعۡضَ الظَّنِّ اِثۡمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوۡا وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا(سورہ الحجرات آیت12)

والمؤمن ينبغي أن يحمل كلام أخيه المسلم على أحسن المحامل ، وقد قال بعض السلف : لا تظن بكلمة خرجت من أخيك سوءا وأنت تجد لها في الخير محملا .

فمن حق العلماء: إحسان الظن بهم؛ فإنه إذا كان من حق المسلم على المسلم أن يحسن الظن به ، وأن يحمل كلامه على أحسن المحامل، فمن باب أولى العالم

خلاصہ:

قرآن و حدیث میں حکم ہے کہ بدگمانی غیبت تجسس سے بچا جائے،اچھا گمان رکھا جائےاسی وجہ سےواجب ہےکہ مذمت تکفیر تضلیل تفسیق اعتراض کےبجائے عام مسلمان اور بالخصوص اہلبیت صحابہ اسلاف صوفیاء و علماء کےکلام.و.عمل کو

حتی الامکان

اچھےمحمل،اچھے معنی،اچھی تاویل پےرکھاجائے

(دیکھیےفتاوی حدیثیہ1/223…فتاوی العلماءالکبار فی الارہاب فصل3…فھم الاسلام ص20…الانوار القدسیہ ص69)

.

،قال عمر رضی اللہ عنہ

ولا تظنن بكلمة خرجت من مسلم شراً وأنت تجد لها في الخير محملا

حضرت سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

مسلمان کوئی بات کرے اور آپ اس کا اچھا محمل و معنی پاتے ہوں تو اسے برے معنی پر محمول ہرگز نہ کریں

(جامع الاحادیث روایت31604)

.

سیدی اعلٰی حضرت امامِ اہلِ سنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

یہ نکتہ بھی یاد رہے کہ بعض محتمل لفظ جب کسی مقبول سے صادر ہوں بحکمِ قرآن انہیں “معنی حسن” پر حمل کریں گے، اور جب کسی مردود سے صادر ہوں جو صریح توہینیں کرچکا ہو تو اس کی خبیث عادت کی بنا پر معنی خبیث ہی مفہوم ہوں گے کہ:

کل اناء یترشح بما فیہ صرح بہ الامام ابن حجر المکی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ۔

ہر برتن سے وہی کچھ باہر آتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے امام ابن حجر مکی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے…

(فتاوی رضویہ : ج29، ص225)

.

اہل عرف سے مراد اہل سنت کا عرف ہے ناکہ شیعہ نجدیوں کا عرف کہ شیعہ کے عرف میں سیدنا امیر معاویہ کہنا بھی اہلبیت کی بےادبی ہے جبکہ یہ اہلسنت کے بچے بچے کی زبان زد عام ہے…..مفتی چمن زمان نے جو کہا کہ اہل عرف نے بےادبی سمجھا سراسر جھوٹ ہے اہلسنت نے بےادبی نہیں سمجھا اگرچہ چونکا دینے والی بات لگی مگر یہ نہین سمجھا کہ جلا لی نے کوئی گستاکانہ جملہ بولا…چونکا دینے والی بات اس لیے کہ یہ ایک نئ بات سنی گئ…سچے عالم مجتہد کا نئ شاذ چونکا دینے والی بات کہنا اسلاف سے ثابت ہے پڑہیے قسط5 جوکہ بےادبی گستاخی نہیں زیادہ سے زیادہ نامناسبیت خلاف اولی شاذ و تفرد کہا جاتا….البتہ شیعہ رافضی و رافضیت زدہ عرف نے بےادبی ضرور سمجھا جو کہ نا معتبر عرف ہے….

.

جب سے سیدنا معاویہ کے عرس کا معاملہ حالیہ سالوں میں چل نکلا ہے تو اکثر عوام اہلسنت جانتی ہے کہ خطاء کا ایک معنی خطاء اجتہادی ہے جو سیدنا معاویہ سے ہوئی..لیھزا سچے عالم سے مسلہ علمیہ میں علمی ماحول میں کہے گئے لفظ خطاء کو عوام و عرف اہلسنت گالی گستاخی بے ادبی نہیں سمجھے بلکہ عوام پر واجب کہ وہ علمی ماحول میں سچے محب اہلبیت و صحابہ سے بولے گئے لفظ خطاء کو گالی بے ادبی نہ سمجھے

.

ایک تو ہم نے معتبر کتب سے ثابت کر دیا کہ علمی حلقہ میں کوئی سچا مسلمان خطاء بولے تو واجب ہے کہ خطاء اجتہادی مراد لی جائے…

.

دوسرا ہم نے ثابت کر دیا کہ حلقہ اہل علم میں خطاء کی کئ اقسام ہیں خطاء خطاء اجتہادی کا احتمال رکھتا ہے لیھذا چمن زمان کا کہنا کہ احتمال نہیں رکھتا جھوٹ خیانت بغض تعصب غلو ایجنٹی نہیں تو اور کیا ہے….؟؟ محقق زماں کو خطاء کے کئ معنی معلوم نہ ہوں ایسا بظاہر نہیں لگتا

.

تیسرا یہ کہہ بالفرض محال چمن زمان کی بات مان لی جائے کہ خطاء سے مراد ہمیشہ برا معنی ہی مراد ہوتا ہے تو انکے قاعدے کہ عرف بدلتا رہتا ہے سے ثابت ہو رہا ہے کہ حالیہ چند سالوں میں خطاء اجتہادی عرف عام میں مشھور و معروف ہو چکا ہے لیھذا اس حالیہ عرف کی وجہ سے خطاء سے مراد خطاء اجتہادی ہے جوکہ نہ تو بےادبی ہے نہ گستاخی نہ کفر نہ گمراہی…..لیھذا چمن زمان کی عرف عرف کی رٹ کا پول بھی کھل گیا…..فللہ الحمد

.

نوٹ:

میرے مطابق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حق پر کہنا چاہیے کہ صحیح حدیث ان کے حلق پر ہونے پے دلالت کرتی ہے…لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کو خطاء اجتہادی پر نہیں کہنا چاہیے بلکہ سکوت کرنا چاہیے کہ کوئی صحیح روایت میرے علم میں نہیں کہ جس میں ہو کہ سیدہ نے ایت میراث سے استدلال کیا ہو اور ایسی بھی روایت میرے علم میں نہین کہ سیدہ کو حدیث لانورث معلوم ہی نہ تھی….لیھذا سکوت ہی بہتر مگر جو سچا محب اہلبیت و صحابہ مجتہد عالم اگر دلائل کے دلالت و اشارے سے خطاء اجتہادی کی نسبت کرے تو بےادبی گستاخی نہیں کہہ سکتے زیادہ سے زیادہ نامناسب و خلاف اولی شاذ و تفرد کہا جاسکتا ہے

.

نوٹ:

اجتہادی خطاءیں گنوانا نہ ہمارا شوق ہے نہ پسندیدہ موضوع مگر محبت کی آڑ میں حق سچ نصوص و عباراتِ اسلاف کو جھٹلایا جائے…جھوٹ کو محبت کہا جائے تو حق سچ واضح کرنا لازم

.

القرآن..ترجمہ:

حق سے باطل کو نا ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ

(سورہ بقرہ آیت42)

.

الحدیث..ترجمہ:

خبردار…!!جب کسی کو حق معلوم ہو تو لوگوں کی ھیبت

(رعب مفاد دبدبہ خوف لالچ) اسے حق بیانی سے ہرگز نا روکے

(ترمذی حدیث2191)

.

الحدیث.. ترجمہ:

حق کہو اگرچے کسی کو کڑوا لگے

(مشکاۃ حدیث5259)

.

جو حق(بولنے، حق کہنے، حق سچ بتانے)سے خاموش رہے وہ گونگا شیطان ہے

(رسالہ قشیریہ 1/245)

.

الحدیث:

متنطعون(تعریف تنقید تقریر تحریر وغیرہ قول یا عمل میں غلو.و.مبالغہ کرنےوالے)ہلاکت میں ہیں(مسلم حدیث6784)

بعض انبیاء کرام صحابہ اہلبیت اسلاف سےمطلقا اجتہادی خطاء کی نفی کرنا حق سچ کےخلاف ہے،جھوٹی تعریف اور غلو نہیں تو اور کیا ہے…؟؟

بےادبی جرم مگر تعریف میں حد و سچائی بھی لازم

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475

مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ پر تبصرہ

قسط7:(آخری)

مفتی چمن زمان لکھتے ہیں المفھوم:بدعت کو ثواب سمجھے تو کفر اور خطیب مذکور(جلا لی) ایسا ہی سمجھتے ہیں مگر تاویل ممکن اس لیے جلا لی کافر نہیں گمراہ اور گمراہ گر ہے….اور لکھتے ہیں گناہ صغیرہ اصرار سے کبیرہ ہوجاتا ہے

جلا لی بھی مصر ہے اس لیے گناہ(دیکھیے محفوظہ ص264تا280)

.

تبصرہ:

پہلی بات:

ہم پچھلی اقساط میں ثابت کرچکے کہ علمی حلقے میں علمی مسلے میں علمی بندے سے ضرورتا سیدہ فاطمہ کو مسلہ فدک میں دلائل کے دلالت و اشارات سے غیر دوامی خطاء منسوب کرنا اور لامحالہ خطاء اجتہادی شرعا عرفا مراد تھی اور مفتی محقق مجتہد جلا لی نے اپنی نیت و مراد بھی واضح کردی کہ خطاء اجتہادی مراد تھی

تو

یہ نسبت خطاء نہ تو بدعت ہے نا صغیرہ گناہ اور نا ہی اس پر اصرار ممنوع…جی ہاں جلا لی صاحب اپنا موقف بتانے کے لیے وضاحت و اثبات کرنے کے لیے اجتہادی خطاء بار بار منسوب کریں تو بھی مزموم نہیں کہ علمی حلقے میں مباح یا تفرد و شاذ کا تکرار مذموم ہو میرے علم میں نہیں ……چمن زمان کا بدعت گمراہیت وغیرہ بہت کچھ جلا لی پے فٹ کرنا بیکار بلکہ ثابت ہو چکا کہ کارِ مکار و فجار الا یہ کہ چمن زمان کی کم علمی یا غفلت ہو…..مگر توبہ رجوع تو ہر حال میں چمن زمان پے لازم

.

اصرار کی بات بھی چمن زمان کا جھوٹ لگتا ہے کیونکہ جہاں تک میری معلومات ہے جب سے ناحق مذمت ہوئی اور اکابر نے جلا لی کو معروضات و مشورے دیے تب سے ایک دو دفعہ کے علاوہ مفتی جلا لی نے سرعام خطاء کا تکرار ہی نہیں کیا…جب تکرار نہیں تو اصرار نہیں…اصرار نہین تو گناہ نہیں

.

وَفِي شَرْحِ الْمَنَارِ لِابْنِ نُجَيْمٍ عَنْ التَّقْرِيرِ لِلْأَكْمَلِ أَنَّ حَدَّ الْإِصْرَارِ أَنْ تَتَكَرَّرَ مِنْهُ تَكَرُّرًا

کتاب شرح المنار میں کتاب التقریر کے حوالے سے منقول ہے کہ اصرار کی تعریف یہ ہے کہ تکرار ہو(بار بار ہو)

[(رد المحتار) ,2/457]

.

قال ابن عبد السلام: وحد الإصرار هو أن تتكرر منه الصغيرة تكرار

ابن عبدالسلام نے کہا کہ اصرار کی تعریف یہ ہے کہ صغیرہ گناہ کا تکرار ہو(بار بار ہو)

[فتح المنعم شرح صحيح مسلم ,1/288]

.

والإصرار على الذنب إكثاره

گناہ پر اصرار کا مطلب ہے کہ بار بار کرے کثرت سے کرے

[عون المعبود وحاشية ابن القيم ,4/265]

[مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ,4/1622]

.

اجتہادی خطاء کہنا بدعت اس لیے نہیں کہ اسکی اصل دلائل و حوالاجات کے دلالت و اشارے ہیں…جب اصل و دلیل ہو تو وہ بری بدعت نہیں حقیقتا بدعت نہیں اگرچہ بظاہر نیا عمل نیا کلام ہو

.

دراصل بدعت کی تعریف واضح الفاظ میں کسی آیت کسی حدیث میں نہیں آئی، جو لوگ یہ کہتے ہین کہ جو کام صحابہ کرام نے نہین کیا وہ بدعت ہے ہم انہیں چیلنج کرتے ہین کہ کسی حدیث میں یہ دکھا دیں کہ بدعت وہ ہے جو کام صحابہ نے نا کیا ہو… چیلنج چیلنج…

کچھ لوگ کہتے ہین جو سنت نہین وہ بدعت ہے، یہ بھی ٹھیک نہیں کیونکہ قرآن و احادیث سے ثابت ہے کہ جو کام سنت نا ہو وہ جائز بھی کہلا سکتا ہے، سنت کے بعد جائز بھی ایک قیمتی چیز ہے، جائز بھی دین کی تعلیمات میں سے ہے.. سنت سنت کی رٹ لگانے کے ساتھ ساتھ جائز جائز کی رٹ لگانا بھی ضروری ہے..

.

پھر آخر بدعت ہے کیا…..؟؟

ایات احادیث میں غور کرکے بدعت کی تعریف اخذ کی گئ ہے جسے علماء کرام نے جامع انداز میں کچھ یوں بیان فرمایا ہے کہ:

المراد بھا ما احدث ولیس لہ اصل فی الشرع،،ویسمی فی عرف الشرع بدعۃ، وماکان لہ اصل یدل علیہ الشرع فلیس ببدعۃ

فالبدعۃ فی عرف الشرع مذمومۃ بخلاف اللغۃ

ترجمہ:

بدعت اس نئ چیز کو کہتے ہیں جسکی شریعت میں کوئ اصل نا ہو،،شریعت میں اسی کو بدعت کہا جاتا ہے

اور

جس نئے کام کی اصل ہو کہ اس پر شریعت رہنمائ کرے وہ تو بدعت نہیں، بدعۃ شریعت میں مذموم ہی ہوتی ہے”با خلاف لغت کے”(لغت و ظاہر کے حساب سے بدعت کی پانچ اقسام ہیں کچھ پر ثواب کچھ پے مذمت جیسے بدعت مباحہ بانیت حسن ثواب ہے بدعت واجبہ ثواب ہے،بدعت سیئہ پےمذمت ہے)

(فتح الباری 13/253

حاشیہ اصول الایمان ص126

اصول الرشاد ص64

مرعاۃ،عمدۃ القاری، مجمع بحار الانوار

فتح المبین،وغیرہ بہت کتابوں میں بھی یہی تعریف ہے

.

اجتہادی خطاءیں گنوانا نہ ہمارا شوق ہے نہ پسندیدہ موضوع مگر محبت کی آڑ میں حق سچ نصوص و عباراتِ اسلاف کو جھٹلایا جائے…جھوٹ کو محبت کہا جائے تو حق سچ واضح کرنا لازم

.

القرآن..ترجمہ:

حق سے باطل کو نا ملاؤ اور جان بوجھ کر حق نہ چھپاؤ

(سورہ بقرہ آیت42)

.

الحدیث..ترجمہ:

خبردار…!!جب کسی کو حق معلوم ہو تو لوگوں کی ھیبت

(رعب مفاد دبدبہ خوف لالچ) اسے حق بیانی سے ہرگز نا روکے

(ترمذی حدیث2191)

.

الحدیث.. ترجمہ:

حق کہو اگرچے کسی کو کڑوا لگے

(مشکاۃ حدیث5259)

.

جو حق(بولنے، حق کہنے، حق سچ بتانے)سے خاموش رہے وہ گونگا شیطان ہے

(رسالہ قشیریہ 1/245)

.

الحدیث:

متنطعون(تعریف تنقید تقریر تحریر وغیرہ قول یا عمل میں غلو.و.مبالغہ کرنےوالے)ہلاکت میں ہیں(مسلم حدیث6784)

بعض انبیاء کرام صحابہ اہلبیت اسلاف سےمطلقا اجتہادی خطاء کی نفی کرنا حق سچ کےخلاف ہے،جھوٹی تعریف اور غلو نہیں تو اور کیا ہے…؟؟

بےادبی جرم مگر تعریف میں حد و سچائی بھی لازم

.

مفتی چمن زمان کی کتاب محفوظہ کے چیدہ چیدہ مقامات اور اہم مسائل پے قسط وار تبصرہ لکھا جسے pdf رسالہ بنام “التبصرة المختصرة علی محفوظہ”نشر کیاجائےگا

ان شاء اللہ تعالیٰ

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر القادری الحنفی موضع سکھر سندھ پاکستان

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475