“اسرائیل اور تعلیم “

۔ 14مئی 1948ء میں ارضِ فلسطین پربین الاقوامی سازش کے ذریعے ریاست اسرائیل کا وجودعمل میں لایاگیا۔اسرائیل اپنے محل وقوع کے اعتبار سے بحرِ احمرکے شمالی ساحل پر واقع ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی لحاظ سے یہ نہایت اہم مقام ہے۔ اسرائیل کی زمینی سرحدیں کچھ اس طرح ہیں کہ اس کے شمال میں لبنان اورگولان کی پہاڑیاں،مشرق میں اردن اورفلسطینی علاقہ مغربی کنارہ،شمال مشرق میں شام اورجنوب مغرب میں غزہ کی پٹی اورمصرواقع ہیں۔اس طرح اسرائیل ایشیا،افریقہ اوریورپ کے درمیان ایک پْل کی حیثیت اختیارکرگیاہے۔اسرائیل کا کْل رقبہ 20ہزار7 سو70کلومیٹرہے۔تاہم اس رقبہ میں 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں قبضہ کیے گئے عربوں کے علاقے بھی شامل ہیں۔ان مقبوضہ علاقوں کا مجموعی رقبہ 7ہزار99مربع کلومیٹرہے۔اسرائیل کے مرکزی محکمہ برائے شماریات کے مطابق اسرائیل کی موجودہ آبادی 90لاکھ62 ہزارنفوس پر مشتمل ہے۔اس آبادی میں یہودی75فیصد ہیں۔عرب21 فیصد ہیں جبکہ4 فیصد دیگراقوام ہیں۔اسرائیل کا دارالحکومت تِل ابیب ہے۔ یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کا مرکز ہے۔ جب کہ دیگر شہروں میں بیت المقدس(یروشلم) اورساحلی شہر حیفہ قابلِ ذکر ہیں۔بیت المقدس(یروشلم) کے بعد حیفہ اسرائیل کادوسرابڑااوراہم شہر ہے اسرائیل کی مجموعی آبادی کا55 فیصد ان شہروں میں سکونت پذیرہے۔ قابلِ ذکربات یہ ہے کہ اسرائیل نیحیرت انگیزطورپر2 ہزارسال پرانی عبرانی زبان کوزندہ کردیاہے۔ موجودہ اسرائیل میں جدید عبرانی زبان بولی جاتی ہے۔ عربی دوسری بڑی سرکاری زبان ہے۔ اگرچہ انگریزی بھی بولی جاتی ہے۔اسرائیل کے قیام کے ساتھ ہی اولین اقدام میں سے ایک اتوار کے بجائے ہفتہ کو سرکاری تعطیل کا اعلان تھا۔

اسرائیل میں یہ کہا جاتاہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا درجہ تعلیم کا ہے۔اسرائیل کے طول وعرض میں تعلیم کو سورج کی روشنی اورہوا کی طرح مفت قراردیاگیا ہے۔ 1967میں ساری دنیا کے یہودیوں نے چندہ جمع کیا تاکہ ایک بڑا سینیگاگ (یہودی عبادت گاہ) تعمیر کیا جائے۔یہ مجموی رقم ایک بلین امریکن ڈالر پر مشتمل تھی یہ تمام رقم جب اسرائیل کے چیف ربی (مفتی اعظم اسرائیل) کی خدمت میں پیش کی گئی توچیف ربی نے عبادت گاہ کی تجویز کو یہ کہہ کررد کردیا کہ ’’خداساری دنیا کا مالک ہے۔ساری شان و شوکت اسی کے لیے ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں اس کے لیے ایک بلین ڈالر کی رقم کا محل تعمیر کرنے والے اس کی بندگی تو ہر جگہ سوتے جاگتے کی جا سکتی ہے۔ خدا کو جاننے کے لیے علم ضروری ہے۔ جاؤ اس رقم سے ایک تعلیم ٹرسٹ بناؤ تاکہ یہودی بے علم نہ رہیں‘‘۔اس طرح دنیا کا سب سے بڑاتعلیم ٹرسٹ 1970میں اسرائیل میں قائم کیا گیا۔17مارچ 1969میں مسزگولڈامیراسرائیل کی وزیرِاعظم منتخب ہوئیں۔ وہ اسرائیل کی پہلی اور دنیا کی تیسری خاتون وزیرِاعظم تھیں۔ گولڈامیرپیشہ کے اعتبارسے ایک ٹیچرتھیں، لہٰذاانہوں نے اسرائیل کی ترجیحات میں تعلیم کو سرِفہرست رکھا۔اس کام کے لیے انہوں نے ایک نہایت عمدہ ایجوکیشن پالیسی پروگرام ترتیب دیا۔ جس کے مطابق اسرائیل میں صرف اُس شخص کو پڑھا لکھا تصورکیاجائے گا جو پی ایچ ڈی تک تعلیم حاصل کرے۔

ایجوکیشن پالیسی پروگرام کے لیے قابلِ قدررقم بجٹ میں مختص ہے،یہ رقم اسرائیل کی مجموعی ملکی پیداوارGDPکا6فیصد ہے،جبکہ سعودی عرب جو رقبہ اورآبادی میں اسرائیل سے کافی بڑا ہے تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 5 اعشاریہ 6 فیصد سالانہ خرچ کرتا ہے۔ اسرائیل کا ایجوکیشن پروگرام طلبہ کی تعلیم میں نمایاں کامیابی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ پری اسکول، میڈل اسکول اور ہائی اسکول کی تعلیم، اساتذہ کی تربیت سازی، اعلیٰ درجے کی تعلیم پر خصوصی محنت اور توجہ اور پھر تمام مراحل کی مکمل جانچ پڑتال اور نگرانی کی جاتی ہے۔تعلیمی پالیسی پروگرام کے افراد مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے سرکردہ محققین اور ماہرین پر مشتمل ہوتے ہیں جس میں وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل، عبرانی اورعربی علوم کے ماہرین اور پالیسی تھنک ٹینکس شامل ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج اسرائیل میں ہر شخص تعلیم یافتہ ہے اور خواندگی کا تناسب 98 فیصد ہے۔ بین الاقوامی یونیورسٹیز میں اسرائیلی طلبہ کا شمار سب سے زیادہ نمبرز حاصل کرنے والے طلبہ میں کیا جاتا ہے۔ اب تک 9 اسرائیلی سائنس دان مختلف شعبہ جات میں نوبل انعام حاصل کر چکے ہیں۔ دنیا کی 100 بہترین یونیورسٹیز میں اسرائیل کی 3 یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔اسرائیل میں مطالعہ کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ دنیا بھر سے منتخب کردہ کتب کے تراجم سرکاری سرپرستی میں وسیع پیمانے پر کیے جاتے ہیں۔ اس اعتبارسے اسرائیل دنیا میں پہلے نمبر پر ہے جب کہ کتابوں کی اشاعت میں اسرائیل دوسرے نمبر پر ہے۔اقوامِ متحدہ ہو یا اُس کے ذیلی ادارے، بین الاقوامی مالیاتی ادارے ہوں یا دنیا بھر میں پھیلی ہوئی کثیرالملکی کمپنیاں الغرض آپ کو دنیا کے کلیدی اداروں میں اہم مناصب پر اسرائیلی دکھائی دیں گے۔معیاری، مساوی اور مفت تعلیم کی بدولت اسرائیل کو ہنر مند اور تعلیم یافتہ افراد کی ایسی زبردست افرادی قوت حاصل ہوگئی ہے جس نے اسے دنیا کی 35 ویں بڑی معاشی طاقت بنا دیا ہے۔ معاشی خوشحالی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی باشندوں کا معیاری زندگی پہلے نمبر پرہے جبکہ اسرائیلی کرنسی شیکل (Shekel) ایشیامیںدسویں نمبر پر ہے۔ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کی واحد جمہوری ریاست ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔۔۔از قلم عبدالحفیظ بٹ

————‐——————————–

“مسلمان اور تعلیم”

عرب ممالک چاہیں تو دنیا میں علمی انقلاب لاسکتے ہیں مگر وہ عوام کو تعلیم یافتہ نہیں بنانا چاہتے ہیں۔اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ عرب کے بائیس ملکوں میں جس قدر ترجمہ اور تالیف کے کام ہوتے ہیں اس سے زیادہ صرف یوروپ کے ایک چھوٹے سے ملک یونان میں ہوتے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پوری عرب دنیا میں سالانہ تین سو کے قریب کتابوں کا ترجمہ ہوتا ہے جب کہ صرف یونان میں اس کا پانچ گنا زیادہ ترجمے کا کام ہوتا ہے۔ یہاں یہ بات بھیقابل توجہ ہے کہ عرب ملکوں میں ترجمہ کی جانے والی کتابوں میں مذہبی اور مسلکی نوعیت کی کتابیں بڑی تعداد میں ہوتی ہیں۔ سائنس، ٹکنالوجی اور ماڈرن علوم پر جو کام ہوتا ہے وہ تقریباً صفر ہے۔

تعلیمی اداروں کی کمی

دنیا کے ۵۷ مسلم ممالک جو کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس(OIC) کے ممبر ہیں ان میں کل ۶۰۰ سے کم یونیورسیٹیاں ہیں، جب کہ اکیلے بھارت میں ۴۰۷،۸ چھوٹی بڑی یونیورسیٹیاں ہیں اور امریکہ میں ۷۵۸،۵یونیورسیٹیاں ہیں۔اوآئی سی کی آبادی 1.4 billionسے زیادہ ہے۔ اسی کے ساتھ ایک مایوس کن سچائی یہ بھی ہے کہ ۲۰۰۴ء میں شنگھائی کی جیاؤ تونگ یونیورسٹی نے دنیا کی ۵۰۰ ٹاپ یونیورسیٹیوں کی رنکنگ کی تھی مگر مسلم ورلڈ کی ایک بھی یونیورسٹی اس میں جگہ نہیں حاصل کرسکی۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلم ورلڈ میں تعلیم کا معیار کیا ہے؟یہ بھی خیال رہے کہ مسلم ممالک کی یونیورسٹیوں میں جدید علوم سے زیادہ اسلام،عربی اور لٹریچر پر توجہ دی جاتی ہے۔ حالانکہ اسے خالص اسلامی علم کہنا بھی مناسب نہیں ہوگا کیونکہ ان ممالک کے اسلامی علوم پر بھی مسلک حاوی ہے۔ جہاں ایران جیسے ممالک کی یونیورسٹیوں میں شیعیت پر زور دیا جاتا ہے وہیں سعودی عرب جیسے ممالک میں سلفیت پر زور رہتا ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان، دوسرے مسلمانوں کو گمراہ اور صراط مستقیم سے بھٹکا ہوا سمجھتے ہیں اور یہ شدت پسندی یہاں کے فارغین کے ذریعے مزید آگے بڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف افغانستان اور افریقی ممالک خواندگی میں عالمی سطح پرسب سے زیادہ پسماندہ ہیں۔

دنیا کی ٹاپ یونیورسٹیاں اور مسلم دنیا

اس وقت دنیا بھر میں سب سے بہتر امریکہ اور برطانیہ کی یونیورسٹیاں ہیں۔دنیا کی بیس ٹاپ یونیورٹیوں میں ۱۹انگریزی بولنے والے ممالک سے ہیں۔ صرف ایک ETC Zurich اس سے باہر کی ہے۔یہ سوئزرلینڈ کی یونیورسٹی ہے۔ایشیا کی سب سے اعلیٰ یونیورسٹی ،یونیورسٹی آف ہانک کانگ، عالمی رینکنگ میں ۲۳ویں نمبر پر ہے۔جب کہ آسٹریلین نیشنل یونیورسٹی ۲۴ویں اور نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور ۲۵ویں مقام پر ہے۔ یونیورسٹی آف انڈونیشیا دنیا کی ٹاپ ۳۰۰ یونیورسٹیوں میں شامل ہے مگر اس کا معیار دن بدن گرتا جارہا ہے اور یہ ۲۱۷ نمبر سے کھسک کر ۲۷۳ویں نمبر پر آگئی ہے۔

مسلمانوں میں خواندگی کی شرح

دنیا بھر کے مسلمانوں میں صرف چالیس فیصد خواندہ ہیں ،باقی۶۰فیصد ان پڑھ ہیں۔جو چالیس فیصد خواندہ ہیں ان میں بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جوصرف اپنا دستخط کرسکتے ہیں۔جب کہ ۲۰۰۵ء کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ۷۸فیصد عیسائی پڑھے لکھے ہیں۔۱۷OICاور عرب ممالک میں آدھی سے زیادہ بالغ آبادی پڑھنا لکھنا نہیں جانتی ہے۔ان ممالک میں ان پڑھوں میں ۷۰فیصد مسلم خواتین ہیں۔تیونس کو مرکز بناکر کام کرنے والے ادارے Alecsoکی ایک رپورٹ کے مطابق عرب ممالک میں ہر تین میں سے ایک شخص ناخواندہ ہے جب کہ خواتین میں سے پچاس فیصد پڑھنا لکھنا بالکل نہیں جانتی ہیں۔

مسلم بچوں کی ایک بڑی تعداد آج بھی اسکول نہیں جاتی اورسترہ OICممالک میں لگ بھگ ۶۰فیصد بچے پرائمری سطح پر ہی

اسکول چھوڑ دیتے ہیں۔۵۷مسلم ممالک میں صرف ۲۶ملک ایسے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے اسکول جانے کا تناسب برابر برابر ہے۔

سعودی عرب میں تعلیم کی ابترحالت

سعودی عرب میں خواندگی پرزور دیا جارہا ہے مگر تعلیم پر نہیں۔ نتیجے کے طور پر یہاں خواندگی کی شرح ۸۶فیصد تک پہنچ گئی ہے اور بعض رپورٹوں میں دعویٰ کیا گی اہے کہ یہاں خواندگی کی شرح ۹۶فیصد ہے مگر تعلیم کامعیار اس قدر معمولی ہے کہ دنیا کے کسی ملک سے اس کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔یہاں تک کہ سعودی عرب میں کام کرنے والے ہندوپاک کے لوگ یہاں اپنے بچوں کی تعلیم کے تعلق سے فکرمند رہتے ہیں۔یہاں پڑھائی کے نام پر نصاب میں دینی یا مسلکی چیزیں شامل کردی گئی ہیں۔ قرآن کی اشاعت پر ہرسال حکومت کی طرف سے کئی ملین ڈالر خرچ کئے جاتے ہیں مگر مختلف علوم کی طرف سرکار کی کس قدر توجہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتا ہے کہ پورے ملک میں صرف ۲۵۰پبلک لائبریریاں ہیں اور ان میں بھی ۲۰۰۶ء تک خواتین کا داخلہ ممنوع تھا۔یہاں سائنسی موضوعات پر ریسرچ وتحقیق زیرو ہے۔حالانکہ سعودی عرب کی دولت سے دنیا بھر میں ہزاروں دینی مدرسے پروان چڑھ رہے ہیں۔امریکہ اور یوروپ کے بینک آباد ہیں۔ تیل پیداکرنے والے ممالک کے پاس اس قدر دولت ہے کہ وہ چاہیں تو دنیا بھر میں اعلیٰ معیار کی ہزاروں یونیورسٹیاں کھڑی کردیں مگر آج تک انھوں نے ڈھنگ کا پرائمری سکول بھی قائم نہیں کیا۔

پاکستان میں مسلمانوں کی علمی حیثیت

پاکستا ن کی میں بھی تعلیمی شرح اچھی نہیں ہے اور شہروں کے مقابلے دیہاتوں میں زیادہ تعلیمی پسماندگی ہے۔یہ دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں لٹریسی کی شرح سب سے کم ہے۔ پاکستان کی وزارت تعلیم کی ایک رپورٹ کے مطابق یہاں ۶۳فیصد افراد خواندہ ہیں۔خواندگی کی شرح الگ الگ علاقوں میں مختلف ہے۔ اسلام آباد میں جہاں ۹۶فیصد ہے خواندگی کی شرح ہے ،وہیں کوہلو ضلع میں یہ محض ۲۸فیصد ہے جو پاکستان کا سب کم خواندہ ضلع ہے ۔ قانونی طور پر ۵سے ۱۶سال کی عمر کے بچوں کے لئے تعلیم لازمی ہے جس کا انتظام سرکار کے ذمہ ہے مگر اب تک یہ قانون عملی شکل میں دکھائی نہیں دیتا۔۱۵سے ۲۵سال کی عمر کے نوجوان لڑکوں میں خواندگی کی شرح محض ۷۹فیصد ہے جب کہ اس عمر کی لڑکیوں میں یہ محض ۵۹فیصد ہے۔ حالانکہ ساری دنیا میں تیزی سے لٹریسی ریٹ بڑھ رہی ہے اور پرانے لوگ پڑھے لکھے ہوں یا نہیں مگر نئی نسل تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ پاکستان میں نئی نسل میں بھی ایک بڑا طبقہ ناخواندہ رہ جاتا ہے۔یہاں اسکولوں کی صورتحال سے تعلیم کی حالت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ محض ۶۵فیصد اسکولوں میں ہی پینے کا پانی میسر ہے اور ۶۲فیصد میں ٹوائلیٹ ہے۔محض ۶۱فیصد اسکولوں میں بانڈری وال ہے ۳۹فیصد اسکولوں تک ہی بجلی پہنچ پائی ہے حالانکہ یہاں بھی اکثر بجلی غائب رہتی ہے۔پاکستان کے وہ علاقے جوسیلاب یا تشددسے متاثر ہیں وہاں لاکھوں بچوں کو اپنی تعلیم کی قربانی دینی پڑ رہی ہے۔

بھارت میں مسلمان تعلیم میں پیچھے

بھارت میں پہلی بار ۲۰۰۱ء میں مذہب کی بنیاد پر یہاں کے لوگوں کے اعداد وشمار سرکاری طور پر جمع کئے گئے۔اس میں سامنے آیا کہ یہاں کے سبھی صوبوں میں مسلمان دوسرے بھارتیوں کے مقابلے تعلیم میں پسماندہ ہیں۔یہاں قومی سطح پرمسلمانوں میں خواندگی کی

شرح محض ۵۵فیصد ہے جب کہ عام شہریوں میں خواندگی کی شرح تقریبا ۶۵فیصد ہے۔یہاں مسلم خواتین ۴۱فیصد خواندہ ہیں جب کہ ملک کی باقی خواتین میں یہ شرح ۴۶فیصد ہے۔ یہ تو قومی سطح کی بات تھی لیکن اگر گاؤں اور شہر کو الگ الگ دیکھیں تو گاؤں کے مسلمان تعلیمی طور پر زیادہ پسماندہ ہیں۔

بھارت میں اس وقت جو خواندگی کی شرح بڑھ رہی ہے اور نئی نسل پڑھ لکھ رہی ہے اس میں بھی مسلمانوں کا تناسب دوسروں سے کم ہے۔ یہاں قومی سطح پر لٹریسی ریٹ ۱۷فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے جب کہ مسلمانوں کے اندر یہ محض ۱۵فیصد کی رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ یہاں مسلمانوں میں ڈراپ آؤٹ ریٹ غیرمسلموں کی بہ نسبت زیادہ ہے۔ یہاں کہ تک شڈول کاسٹ اور شڈول ٹرائب سے زیادہ مسلم طلبہ درمیان میں ہی تعلیم کا سلسلہ توڑ دیتے ہیں۔

مغرب ممالک کے مسلمان

یوروپ اور امریکہ میں جو مسلمان رہتے ہیں وہ بھی یہاں کے مقامی لوگوں کے مقابلے تعلیم اور روزگار میں پسماندہ ہیں۔ ان میں سے بیشتر تارکین وطن یا ان کے بچے ہیں۔ڈنمارک ہجرت کرکے آنے والوں میں سے دس سال تک کے دو تہائی عرب بچے ناخواندہ پائے گئے۔بعد میں جب ان بچوں کی تعلیم شروع ہوئی تب بھی ان کا سائنس، میتھ وغیرہ میں رجحان کم دیکھا گیا اور وہ اپنے کلاس میٹ دوسرے بچوں سے بہت پیچھے رہے۔ ممکن ہے اس کے پیچھے ان کے والدین کی کم علمی اور گھر کا ماحول بھی ذمہ دار رہا ہو۔یہ بات صرف ڈنمارک کی نہیں ہے بلکہ یوروپ اور امریکی ممالک میں عام طور پر عرب بچے وہاں کے مقامی بچوں سے تعلیم میں پیچھے پائے گئے ہیں۔ برطانیہ میں کام کرنے والے مسلمانوں میں ۳۳فیصد کے پاس کوئی ڈگری نہیں ہے۔ (منقول)

نوٹ: جو قوم جوا ،عیاشی اور فضولیات وغیرہ میں مست رہتی ہے اور اپنے مذہبی اصولوں کو نظرانداز کر دیتی ہے وہ ذلیل و رسوا ہو جاتی ہے اگرچہ اس کی تعداد زیادہ ہو اور تمام تر وسائل پر قبضہ ہو ! اور جو قوم وقت کا خیال کرتی ہے اور تعلیم پر توجہ دیتی ہے اور اپنے مذہبی اصولوں پر عمل پیرا رہتی ہے اگرچہ اس کی تعداد کم ہو وہ سب پر غالب رہتی ہے !

✍پیش کردہ: محمد عباس الازہری خادم التدریس دار العلوم اہل سنت فیض النبی کپتان گنج بستی یوپی انڈیا