کیا کافر کی تکفیر ناجائز ہے ؟ جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کا تجزیہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مسلمانوں میں دو غیر معتدل رویے جنم لے چکے ہیں ۔ ایک طرف تمام مسلمانوں کو کافر کہہ دیا جاتا ہے تو دوسری طرف کفر و اسلام کے فرق کو مٹاتے ہوئے کافر کو کافر کہنے سے بھی منع کر دیا جاتا ہے ۔پیش نظر مضمون میں ہم جاوید احمد غامدی صاحب کی تکفیر سے متعلق رائے کا تجزیہ کریں گے ۔یہ مکمل مضمون ہماری کتاب ’حرمت تکفیر مسلم‘ میں ریاست کا حق تکفیر کے تحت پڑھا جا سکتا ہے ۔

جناب جاوید احمد غامدی صاحب اپنی کتاب’ برھان‘ میں ‘دعوت کے حدود’کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں :

’’ساتویں حد یہ ہے کہ کسی فرد کی تکفیر کا حق بھی کسی داعی کو حاصل نہیں ہے ۔یہ ہو سکتا ہے کہ دین سے جہالت کی بنا پر مسلمانوں میں سے کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو لیکن اگر وہ اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہیں کرتا تو اس کفر و شرک کی حقیقت تو بے شک اس پر واضح کی جائے گی اسے قرآن و سنت کے دلائل کے ساتھ ثابت بھی کیا جائے گا ۔اہل حق اس کی شناعت سے اسے آگاہ بھی کریں گے اور اس کے دینوی اور اخروی نتائج سے اسے خبر دار بھی کی جائے گا لیکن اس کی تکفیر کے لیے چونکہ اتمام حجت ضروری ہے اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد یا جماعت کو بھی حاصل نہیں رہاکہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے مسلمانوں کا نظم اجتماعی بھی سورۃ توبہ ۹ کی آیت ۵ اور ۱۱ کے تحت زیادہ سے زیادہ کسی شخص یا گروہ کو غیر مسلم قرار دے سکتا ہے ۔اسے کافر قرار دینے کا حق اسے بھی حاصل نہیں ہے تاہم اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ داعی حق کے لیے کفر و شرک کے ابطال میں مداہنت کے لیے بھی کوئی گنجائش ہے ۔احقاق حق اور ابطال باطل اس کی ذمہ داری ہے اس کا اصلی کام یہی ہے کہ ہر خطرے اور ہر مصلحت سے بے پرواہ ہو کر توحید و رسالت اور معاد کے متعلق تمام غلط تصورات کی نفی کرے اور لوگوں کو اس صراط مستقیم کی طرف بلائے جو اللہ پروردگار عالم نے اپنی کتاب میں انسانوں کے لیے واضح کی ہے یہ اس پر لازم ہے ۔لیکن اس کے کسی مرحلہ میں بھی اس کو یہ حق حاصل نہیں ہوتا کہ امت میں شامل کسی فرد یا جماعت کو کافر و مشرک قرار دے اور ان کے جمعہ و جماعت سے الگ ہو کراور ان سے معاشرتی روابط منقطع کر کے اپنی ایک الگ امت اس امت مسلمہ میں کھڑی کرنے کی کوشش کرے ۔”

غامدی ، جاوید احمد ، برھان،المورد ادارہ علم و تحقیق ۵۱ کے ، ماڈل ٹاؤن ، لاہور،اشاعت چہارم جون ۲۰۰۶ء :ص:۲۹۷۔۲۹۸

غامدی صاحب کے بیان کردہ موقف سے درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں :

۱۔ تکفیر کا حق کسی داعی کو حاصل نہیں ۔

۲۔ اگر کوئی شخص کفر و شرک کا مرتکب ہو لیکن اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہ کرے تو اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی ۔تکفیر کے لیے اتمام حجت ضروری ہے ۔

۳۔رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد، جماعت یا ریاست کو بھی حاصل نہیں رہا کہ وہ کسی فرد کو کافر قرار دے ۔

۴۔سورہ توبہ کی آیت ۵ اور ۱۱ کے تحت کفر و شرک کے مرتکب کو مسلمانوں کا نظم اجتماعی کسی گروہ یا شخص کو غیر مسلم قرار دے سکتا ہے ۔اسے کافر قرار دینے کا حق مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو بھی نہیں ہے ۔

۵۔امت کا کوئی فرد یا یا جماعت اگرچہ کفر و شرک کا ارتکاب ہی کیوں نہ کرے داعی اس کفر و شرک کا ابطال تو کر سکتا ہے البتہ

٭اس جماعت یا فرد کو کافر و مشرک قرار نہیں دے سکتا ـ۔

٭ان کے جمعہ و جماعت سے الگ نہیں ہو سکتا یعنی ان کے پیچھے پنج وقتہ نمازوں کو باجماعت ادا کرنے کے ساتھ جمعہ بھی ان کے پیچھے ادا کرے ۔

٭ان سے معاشرتی روابط منقطع نہ کرے ۔

٭اگر داعی نے کفر و شرک کے مرتکب کو کافر یا مشرک قرار دیا تو وہ داعی اپنی ایک الگ امت ، امت مسلمہ میں کھڑی کرنی کی کوشش کرے گا۔

غامدی صاحب تکفیر کافر کے ناجائز ہونے کے قائل ہیں اور اپنے اس موقف پر انہوں نے قرآن و سنت سے کوئی ایک دلیل بھی پیش نہیں کی ۔آپ کے اس موقف میں قرآن کی اصطلاحات کو نظر انداز کرتے ہوئے دو غیر قرآنی اصطلاحات’ غیر مسلم ‘اور ‘اتمام حجت ‘کو بھی استعمال کیا گیا۔غامدی صاحب کے اس موقف پر کوئی بھی نص صریح نہیں جسے وہ اپنی دلیل کے طور پر پیش کر سکیں ۔نہایت ہی تعجب کی بات ہے کہ کسی سے کفر و شرک ارتکاب ہو اور وہ اس کو کفر و شرک سمجھ کر خود اس کا اقرار نہ کرے تو اسے کافر و مشرک نہ کہا جائے ۔یعنی ان کے نزدیک کسی کو کافر کہنے کے لیے اتمام حجت کے علاوہ اس کا کفر کا ارتکاب کرنا،اس کاکفر و شرک کو خود کفر و شرک سمجھنا اور اقرار باللسان ضروری ہے ۔قرآن کے مطابق کسی کے کفر کے لیے اپنے عقائد کو کفر و شرک سمجھنا یا نہ سمجھنا ضروری نہیں محض کفر کاپایا جانا ہی اس کے کافر ہونے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح جیسے بعض افعال ایمان کی بحث میں زبانی اقرار کے قائم مقام ہوتے ہیں جیسے نماز ادا کرنا اسی طرح بعض افعال کفر کی بحث میں اس کے کافر ہونے کی دلیل ہوتے ہیں اور زبانی انکار کے قائم مقام ہوتے ہیں جیسے بتوں کی عبادت کرنا۔ مسیحی حضرات حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کے خدا ہونے اور خدا کا اکلوتا جنا ہوا بیٹا ہونے پر یقین رکھتے ہیں اس کے باوجود وہ اپنے مشرک ہونے کا اقرار نہیں کرتے۔ اس اقرار نہ کرنے کے باوجود اللہ رب کریم نے فرمایا :لقد کفر الذین قالواان الله ھو المسیح ابن مریم و قال المسیح یا بنی اسرائیل اعبدوا الله ربی و ربکم انه من یشرک بالله فقد حرم الله علیه الجنة و ماواہ النار و ما للظالمین من انصار(المائدۃ۵: ۷۲)

ایک مقام پران کا اپنے احبار و رہبان کو اپنا رب بنانے اورحضر ت مسیح علیہ السلام کو خدا بنانے کے عمل کو شرک قرار دیا ۔ارشاد ہوا :اتخذوا احبارھم و رھبانھم اربابا من دون الله و المسیح ابن مریم وما امروا الا لیعبدوا الله الھا و حدا لا اله الا ھو سبحانه عما یشرکون(التوبۃ۹:۳۱)

یہ بات محاورہ قرآنی کے علاوہ لغوی اعتبار سے بھی درست نہیں ہے ۔کیسی عجیب و غریب بات ہے کہ سرق کے اسم فاعل کو سارق،زنی کے اسم فاعل کو زانی،نکح کے اسم فاعل کو ناکح ،اسلم کے اسم فاعل کو مسلم ،امن کے اسم فاعل کو مؤمن نہ کہا جائے ۔ان اسماء کا مشتق ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ فاعل سے ان افعال کا صدور ہوا ہے۔اسی طرح کفر کا اسم فاعل کافر اور اشرک کا اسم فاعل مشرک ہی ہو گا نہ کہ غیر مسلم ۔قرآن مجید میں کسی کے کفر کے مرتکب ہونے کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے ۔غامدی صاحب کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی تکفیر کے لیے اسے ’کافر‘و ’مشرک ‘کہنا ضروری ہے جبکہ اللہ رب کریم نے کسی کے کافرو کاذب ہونے کومختلف اسماء و افعال کے مختلف صیغوںمیں بیان فرمایا ہے ۔ اس حوالہ سے مثال کے طور پر کلمہ ‘کذب ‘کو قرآن مجید میں دیکھنا ضروری ہے ۔قرآن مجیدمیں اللہ تعالیٰ نے مختلف اقوام کے مستحق عذاب و جہنم اور کافر ہونے کو در ج ذیل انداز سے بھی بیان فرمایا ہے:

کذبوا بایاتنا،تکذبون بالدین،کذب بالحسنی،بل تکذبون بالدین،یکذبون بیوم الدین،کذبت عاد المرسلین،کذبت ثمود المرسلین،کذبت قوم نوح المرسلین،کذبت قوم لوط المرسلین،کذبت عاد فکیف کان عذابی و نذر،فکذبوہ فاخذتھم الرجفة،فکذبوہ فاخذھم عذاب یوم الظلة ،بل کذبوا بالساعة ،و الذین کفروا و کذبوا بایاتنا فاولئک لھم عذاب مھین،کذب بالحق،الذین لا یومنون بایات الله و اولئک ھم الکاذبون،من یکذب بھذا الحدیث،الذین کذبوا بالکتاب و بما ارسلنا به رسلنا ،و الذین کذبوا بایاتنا یمسھم العذاب بما کانوا یفسقون،کذبوا بلقاء الله ،کذبوا بلقاء الاخرۃ ،کذاب،المکذبین،کاذب،کاذبین،کاذبون

نبی کریم ﷺ نے اپنی حیات طیبہ میں ہی مسیلمہ اور اسود عنسی کو کذاب کہا اور قیامت تک آنے والے تمام جھوٹے مدعیان نبوت کو کذاب و دجال کہا ۔کیا ہی عجیب بات ہو گی کہ کوئی فرد یا جماعت اللہ کی توحید ،رسالت ،آخرت کی تکذیب کرنے والے ہوں اور داعی اس کے کذب کو اس پر واضح کرتا رہے تاہم اس کو کاذب ،کذاب ،مکذب کہنا حرام ہو۔اسی طرح درج ذیل مثالوں سے یہ سمجھنا آسان ہو جاتا ہے کہ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے کسی کے کفر کو واضح کرنے اور تکفیر کے لیے کلمہ کفر کے مختلف صیغوں اور صورتوں کو استعمال فرمایا ہےـ:قالوا کلمة الکفر،استحبوا الکفر،اشتروا الکفر،شرح بالکفرصدرا،کفروا،کفر،تکفروا،یکفرون،یکفر،اکفر،واکفروا،کفرت،تکفرون،کفرتم،کفرنا،الکافرین،کافر،الکافرون،الکفرۃ ،کاذب کفار،الکفار،ائمة الکفر۔

ان تمام مثالوں سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہو رہی ہے کہ کسی کو کافر کہنے کے لیے قرآن مجید میں مختلف صیغے استعمال کیے گئے ہیں ۔لہذایہ کہنا کہ اگر کوئی کفر شرک کا مرتکب ہو اور خود اپنے کفر و شرک کا اقرار نہ کرے تو اسے غیر نبی کا کافر و مشرک کہنا ناجائز ہے ،درست نہیں ہو سکتا ،کوئی کسی کے بارے میں کسی بھی صیغے سے کفر کاارتکاب ثابت کرے یا اسے کافر کہے ایک ہی بات ہے گویا کہ کسی کے کفر کو بیان کرنے کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں ۔یاد رہے کہ قرآن مجید نے القوم الکافرین اور فئۃ کافرۃ کے کلمات کے بیان کے ساتھ دو قومی نظریہ کو بھی واضح فرمایا دیا ہے ۔اہل ایمان کی دعا کے کلمات یوں بیان ہوئے : فانصرنا علی القوم الکافرین (البقرۃ ۲: ۲۸۶) ۔’غیر الاسلام ‘ما سوا اسلام کسی بھی مذہب کے لیے اور ‘غیر المشرکین’ اہل اسلام کے لیے قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے جبکہ غیر مسلم کی اصطلاح کافر کے متبادل کے طور پرکہ کسی کافر کو کافر نہیں بلکہ غیر مسلم کہا جائے کہیں بھی مستعمل نہیں ہے ۔ علماء قرآن و سنت کے اصولوں کے پیش نظر کسی کا کافر ہونا بیان کرتے ہیں نہ کہ کافر بناتے ہیں ۔ داعی کسی کو کفر و شرک کا مرتکب قرار دے یا کافر کہے برابر ہے ۔قرآن مجید میں سورۃ الکھف میں دو آدمیوں کی مثال دی گئی ہے جن میں سے ایک کو اللہ تعالیٰ نے انگور کے دو باغات عطا فرمائے ۔اس نے اپنے دوست سے کہا کہ میں تجھ سے مال میں زیادہ کثرت رکھتا ہوں اور افرادی قوت میں غالب ہوں ۔اس نے اپنے باغ میں تکبر سے داخل ہوتے ہوئے اپنی جان پر ظلم کیااور کہا کہ میں یہ گمان ہی نہیں کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو گا۔میرا گمان ہے کہ نہ ہی قیامت قائم ہو گی اور اگر بالفرض مجھے اپنے ر ب کی بارگاہ میں پیش کر بھی دیا گیا تو میں ضروراس دنیا سے زیادہ وہاں خیر حاصل کروں گا ۔اس کے دوست نے اس سے تبادلہ خیال کرتے ہوئے جواب میں کہا :

قال له صاحبه و ھو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفة ثم سواک رجلا لکنا ھو الله ربی و لا اشرک بربی احدا (الکھف۱۸:۳۷۔۳۸)

اس مقام پر کسی اتمام حجت کا ذکر نہیں ہے ۔نہ ہی یہ کسی نبی کا بیان ہے بلکہ ایک شخص کے کفریہ عقائد کی وجہ سے ایک صاحب ایمان نے حوار ومکالمہ کے دوران اس کی تکفیر ‘اکفرت’کہتے ہوئے کی ۔اس آیت سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ اسے قیامت کے قائم نہ ہونے کے بارے میں گمان تھا نہ کہ شرح صدر ،لہذا اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ کسی کے کفریہ عقائد کی وجہ سے اس کی تکفیر کرنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی نبی کے دور کا ہی کافر ہو اور اس پر اتمام حجت ہو چکا ہو۔

جہاں تک غامدی صاحب کی اس بات کا تعلق ہے کہ “مسلمانوں کا نظم اجتماعی بھی سورۃ توبہ ۹ کی آیت ۵ اور ۱۱ کے تحت زیادہ سے زیادہ کسی شخص یا گروہ کو غیر مسلم قرار دے سکتا ہے ۔”تو ایسا کچھ بھی سورۃ توبہ کی آیت ۵ اور ۱۱ میں موجود نہیں ہے کہ کسی فرد یا گروہ کو مسلمانوں کا نظم اجتماعی کافر تو نہیں البتہ غیرمسلم قرار دے سکتا ہے ۔یاد رہے کہ قرآن مجید میں کافر کو کہیں بھی غیر مسلم نہیں کہا گیا ۔سورۃ توبہ کی آیت نمبر ۵ اور ۱۱ درج ذیل ہیں :

آیت ۵ : فاذا انسلخ الاشھرالحرم فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم و خذوھم و احصروھم واقعدوا لھم کل مرصد فان تابوا و اقاموا الصلاۃ و آتوا الزکاۃ فخلوا سبیلھم ان اللہ غفور رحیم(التوبۃ۹:۵)

“پھر جب حرمت والے مہینے گزر جائیں تو تم (حسبِ اعلان) مشرکوں کو قتل کر دو جہاں کہیں بھی تم ان کو پاؤ اور انہیں گرفتار کر لو اور انہیں قید کر دو اور انہیں (پکڑنے اور گھیرنے کے لئے) ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھو، پس اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔”

آیت ۱۱:فان تابوا و اقاموا الصلاۃ واتوا الزکاۃ فاخوانکم فی الدین و نفصل الایات لقوم یعلمون (التوبۃ۹:۱۱)

“پھر (بھی) اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو (وہ) دین میں تمہارے بھائی ہیں، اور ہم (اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لئے تفصیل سے بیان کرتے ہیں جو علم و دانش رکھتے ہیں۔”

ان دونوں آیات میں نہ تو غیر مسلم کا لفظ ہے نہ ہی داعی کو کفر و شرک کے مرتکب کو کافر کہنے کی ممانعت ہے۔ البتہ اگراس سے اگلی آیت مقدسہ کو پڑھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ رب کریم نے عہد شکنی کرنے والوں اور دین میں طعنہ زنی کرنے والوں کو ائمۃ الکفر قرار دیا اور ان سے قتال کا مسلمانوں کو حکم دیا ۔ارشاد فرمایا : و ان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمةالکفر انھم لا ایمان لھم لعلھم ینتھون (التوبۃ۹:۱۲)

“اور اگر وہ اپنے عہد کے بعد اپنی قسمیں توڑ دیں اور تمہارے دین میں طعنہ زنی کریں تو تم (ان) کفر کے سرغنوں سے جنگ کرو بیشک ان کی قَسموں کا کوئی اعتبار نہیں تاکہ وہ (اپنی فتنہ پروری سے) باز آجائیں۔”

نبی کریم ﷺ کے براہ راست مخاطبین میں یبنی اسرائیل،یا ایھا الذین امنوا،یمعشر الجن و الانس،یا ایھا الذین کفروا،قل یا ایھا الکافرون،یا ایھا الناس ،یا ایھا الذین اوتوا لکتاب سب شامل ہیں ۔دین اسلام مکمل ہو چکا ہے ۔نبی کریم ﷺ کی نبوت و رسالت جامع ،کامل،آفاقی،ابدی اور خاتم ہے ۔آپ ﷺ کی نبوت و رسالت کو کسی خاص زمانے تک یامحض کسی خاص گروہ کوہی براہ راست مخاطب قرار دے کرقرآن کے احکامات کو زمان و مکان و گروہوں کیساتھ مختص کر دیا جائے تو یقینا اسلام کی تعلیمات کاایک بہت بڑا حصہ ختم ہو جائے گا ۔آج بھی اگر کسی تک محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات پہنچ جائیں اور وہ ان پر ایمان نہیں لائے چاہے اپنے کفر و شرک کا اقرار کرے یا نہ کرے وہ کافر ہی قرار پائے گا۔غامدی صاحب لکھتے ہیں : “رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ حق اب قیامت تک کسی فرد یا جماعت کو بھی حاصل نہیں رہاکہ وہ کسی شخص کو کافر قرار دے “۔ جبکہ قرآن مجید میں اہل ایمان کو طاغوت کی تکفیر کا حکم اس انداز سے دیا گیا : فمن یکفر بالطاغوت و یؤمن بالله فقد استمسک بالعروة الوثقیٰ لا انفصام لھا و الله سمیع علیم (البقرۃ۲: ۲۵۶)

“دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے واضح طور پر ممتاز ہو چکی ہے، سو جو کوئی معبودانِ باطلہ کا انکار کر دے اور اﷲ پر ایمان لے آئے تو اس نے ایک ایسا مضبوط حلقہ تھام لیا جس کے لئے ٹوٹنا (ممکن) نہیں، اور اﷲ خوب سننے والا جاننے والا ہے۔”

اس کے علاوہ حدیث شریف میں قرب قیامت کے بارے صراحت کے ساتھ یہ ذکر ہے کہ دابۃ الارض کے خروج کے بعد مسلمان کافروں کو ” یاکا فر “کہیں گے ۔ حضرت امام ترمذی روایت فرماتے ہیں :

عن ابی ھریرۃ رضی الله تعالیٰ عنه ان رسول الله صلی الله علیه واله وسلم قال:تخرج الدابة معھا خاتم سلیمان و عصا موسی فتجلو وجه المؤمن و تختم انف الکافر بالخاتم حتیٰ ان اھل الخوان لیجتمعون فیقول ھذا یا مؤمن و یقول ھذا یا کافر

۔ترمذی، ابو عیسی محمد بن عیسی، جامع ترمذی،مکتبہ رحمانیۃ، لاھور ،پاکستان ،سن ندارد،ج:۲/ص:۶۲۳۔۶۲۴

“حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا :دابہ نکلے گا تو اس کے ساتھ حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی اور حضرت موسی علیہ السلام کا عصا ہو گا۔وہ مومن کے چہرے کو روشن کر دے گا اور کافر کی ناک پر انگوٹھی سے مہر لگا دے گا یہاں تک کہ جب دستر خوان پر لوگ جمع ہوں گے تو وہ کہیں گے اے مومن !اور یہ کہیں گے اے کافر!”

امام ترمذی رحمہ اللہ کے علاوہ اس حدیث کو امام احمد بن حنبل علیہ الرحمۃ نے اپنی مسند میں بھی روایت کیا ہے ۔اس کے علاوہ بخاری شریف و دیگر کتب حدیث میں جہاں کہیں بھی اہل ایمان کو کافر کہنے کی مذمت کی گئی ہے ان کے کلمات سے بھی تکفیر کافر کا جواز معلوم ہوتا ہے ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس بارے میں ارشاد فرمایا :

اذا اکفر الرجل اخاہ فقد باء بھااحدھما(صحیح مسلم )

جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کافر کہتا ہے تو ان میں سے کسی ایک کی طرف کفرضرور لوٹتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا:

ایما امری قال لاخیہ یا کافر فقد باء بھا احدھما ان کان کما قال و الا رجعت علیہ(صحیح مسلم )

“جس شخص نے اپنے بھائی سے اے کافر کہا تو کفر دونوں میں سے کسی ایک کی طرف ضرر لوٹے گا۔اگر وہ شخص واقعی کافر ہو گیا تھا تو فبہا ورنہ کہنے والے کی طرف کفر لوٹ آئے گا۔”

اس حدیث کو امام بخاری علیہ الرحمۃ نے بھی روایت فرمایا ہے۔(صحیح بخاری)

اس پوری بحث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ غامدی صاحب ظنیات کے دائرے میں ہیں اور ان کا یہ موقف قرآن و رسول اللہ ﷺ کے فرامین کے خلاف ہے ۔

خلاصہ:

مسلم کی تکفیرکی حرمت کا لحاظ رکھتے ہوئے تکفیر کافر کا التزام ضروری ہے ۔اسلامی ریاست میں ریاستی سطح پر بھی کسی فرد یا گروہ کی تکفیر کرنا جائز ہے جبکہ تکفیر کے اس عمل کی بنیاد معتمد علماء کی اجماعی آراء پر مبنی ہو ۔مسلم کو کافر کہہ دینا اور کافر کی تکفیر کو ناجائز قرار دینا دونوں ہی غیر معتدل رویے ہیں ان منفی رویوں سے اجتناب کرنا چاہئے ۔وہ ممالک جہاں اسلامی ریاست موجود نہیں وہاں کی مسلم آبادیاں اپنے معتمد علیہ علماء کی آراء پر ہی عمل کریں ۔یہ بھی ممکن ہے کہ ان خطوں میں جید علماء کا ایک ایسا بورڈ تشکیل دے دیا جائے جو مسلمانوں کے اسلام و کفر کے معاملات میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ۔کسی بھی صورت میں تکفیر کا حق نا اہل افراد کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہئے کیونکہ ان کی بات کا اعتبار نہیں اور ان غیر معتدل رویوں کی وجہ سے آج مسلمان تباہی و بربادی سے دوچار ہیں ۔پاکستان میں ہم اسی طرح کے دو منفی رویوں کا شکار ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء اور حکومتوں کے درمیان بد اعتمادی کی فضاء ختم ہو اور شرعی مسائل میں حسب سابق ریاست پاکستان تکفیر کے مسائل میں بھی جید علماء اسلام کی طرف رجوع کرتے ہوئے عدالتی سطح پر اسلام و قوانین پاکستان کا نفاذ کرے ۔اللہ پاکستان کا حامی و ناصر ہو اور ہمیں قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین