اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے دو شعروں کا مختصر مفہوم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اشعار کی تشریح فرمادیں!

(۱)

کُھلے کیا رازِ محبوب و محب مستانِ غفلت پر

شراب قَدْ رَأَی الْحَق زیبِ جامِ مَنْ رَاٰنِی ہے

(۲)

کہاں اس کو شکِ جانِ جناں میں زَر کی نقاشی

اِرم کے طائرِ رنگِ پَریدہ کی نشانی ہے

محمد آصف رضا

لیاقت آباد،کراچی

جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ

اشعار کی مفصل تشریح تو دولتِ فرصت اور علمی وفرت کی مقتضی ،تاہم مفہوم، بہ رنگِ اختصار، سپردِ قلم کیا جاتا ہے۔

(۱) پہلے شعر میں تلمیح حدیث ہے۔جیسا کہ خود اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے حاشیہ میں ارقام فرمایا:’’رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من رآنی فقد رأی الحق۔جسے میرا دیدار ہوا،اسے دیدارِ حق ہوا‘‘۔شعر کا مفہوم یہ ہے کہ جو مستانِ غفلت ہیں یعنی جنھوں نے شرابِ غفلت نوش کر رکھی ہے ان پر محبوب اور محب کے تعلقِ خاص کا راز نہیں کھل سکتا۔اس لئے کہ وہ اپنی غفلت کے سبب ،عرفان ِخدا [جل شانہٗ]اور معرفتِ مصطفےٰ [صلی اللہ علیہ وسلم] سےمحروم ہیں۔ انھیں نہ تو مقام ذاتِ باری کا علم ہے اور نہ ہی مصطفےٰ کریم کی شانِ رفیع کا ادراک۔ وہ دونوں کریم ہستیوں کو الگ الگ زاویۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ان کا یہ اندازِ فکر،ہرگز ہرگز درست نہیں۔انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ ایک ہی صورت میں عرفانِ خدا کی دولت سے مالا مال ہوسکتے ہیں اور وہ صورت یہ ہے کہ پہلے مقام مصطفےٰ کی معرفت حاصل کریں۔اس لئے کہ ذات مصطفےٰ ’’محبوب‘‘ اور ذاتِ باری تعالیٰ’’ محب ‘‘ہے۔ لہذا’’ رفیع القدر محب‘‘ کو جاننے سے پہلے’’ سنی المرتبت محبوب‘‘ کی پہچان ضروری ہے۔

دوسرے مصرعے میں حدیث عالی کو بطورِ دلیل پیش کیا کہ دیکھو! اگر تم شرابِ قد رأی الحق پینا چاہتے ہو تو اس کے لئے پہلے من رآنی کا جام مہیا کرنا ہوگا۔ اس لئے کہ شرابِ قد رأی الحق سوائے جامِ من رآنی کے، کسی اور جام میں سجتی ہی نہیں۔ یہ شراب اگر کسی جام کی زیب و زینت بنتی ہے تو وہ صرف اور صرف جام من رآنی ہے۔ چنانچہ دیدارِ حق سے وہی مشرف ہوسکتا ہے جسے دیدارِ مصطفےٰ کی دولت عطا ہوئی ہو۔اور یہ اعزاز ، مستانِ غفلت کو نصیب نہیں ہوتا ،بلکہ ان خوش بختوں کو عطا ہوتا ہے جو غفلت کے بجائے ہمہ وقت یادِ محبوبِ خدا میں گم رہتے ہیں۔ ان کے لبوں پر توصیفِ مصطفےٰ کے زمزمے قند ریز رہتے ہیں اور وہ کسی بھی لمحے نعت و مدحت سے غافل نہیں رہتے۔ان کی حیاتِ مستعار کا ایک ایک لمحہ سیرت و سنت کے جمال سے مزین رہتا ہے۔ وہ دنیا کے جس کام میں مصروف اوردین کی جس عبادت میں مشغول ہوں ، ان کا دل،گل طیبہ کی ثنا میں چہکتا رہتا ہے۔یہی وہ ہمایوں بخت عشاق ہیں جن پر محبوب و محب کے راز کھلتے ہیں۔ان کے مقابلے میں مستانِ غفلت ہمیشہ محروم رہتے ہیں۔

(۲) دوسرے شعر میں ندرت اپنے جلوے دکھا رہی ہے بہت ہی خوبصورت مضمونِ شعری اور طرزِ ادا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک ، خصوصاًمواجھہ شریف کے نقش و نگار کی توصیف کی ہے۔پہلے قبر مبارک کو کوشک یعنی محل کا نام دیا۔پھر اس کوشک کو ’’جانِ جناں‘‘ قرار دیا، یعنی جنت کی جان۔پھر اس کے نقش و نگار خصوصاً سنہری رنگت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیںکہ زائرین کو جو سنہری جالیاں دکھائی دے رہی ہیں اور یہ جو سونے کے نقش و نگار ہیں ، یہ در اصل ’’زر کی نقاشی‘‘ نہیں بلکہ یہ پیلا رنگ، ’’ارم‘‘ [جنت]کے رنگِ پریدہ کی نشانی ہے۔ کہ جنت نے جب یہ زر کی نقاشی اور یہ حسین نقش و نگار دیکھے تو مارے شرم کے اس کا رنگ ہی اڑ گیا۔ساری رنگت ہی پیلی پڑ گئی ۔کہ میرے بھی نقش و نگار تھے مگر مواجھۂ مبارکہ کی بات ہی اور ہے۔کہاں میں اور کہاں قبر انور کا حسن وجمال۔میری ساری خوبصورتی،اس کوشکِ جانِ جناں پر نثار۔

باکمال شاعر ،جیسے نادر مضمونِ شعری لاتا ہے ویسے ہی طرزِ ادا کو بھی منفرد اور ممتاز رکھتا ہے۔اس شعر میں حضرت امام نے پہلے مصرعے میں ’’زر کی نقاشی‘‘ کی معنویت کو نکھارنے کے لئے قبر انور کوبطورِ استعارہ’’ کوشک‘‘ فرمایا، پھر اسے’’ جانِ جناں‘‘ قرار دیا۔یوں مصرع زمینِ فن سے اٹھ کر ندرتِ فلک پر براجمان ہوگیا۔اسی طرح دوسرے مصرعے میں ’’رنگِ پریدہ‘‘ کی معنویت آشکارا کرنے کے لئے ’’ارم‘‘ کو ’’طائر‘‘ [پرندہ ]کہا کہ پریدن(اڑنا) طائر کے لوازمات میں سے ہے،یوں دوسرا مصرع بھی چرخِ فن کا ماہ بن کراُبھرا۔طرزِ ادا یعنی انتخابِ الفاظ اور رنگِ پیشکش نے شعر کو جدت و ندرت سے ہم کنار کردیا ہے۔

امید ہے درج بالا سطورکا بغور مطالعہ کرنے کے بعد ،آپ پر اشعار کا مفہوم واضح ہوجائے گا۔

والسلام

خاکسار ابوالحسن واحد رضوی کان اللہ لہٗ

23اگست2020ع