أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ مَنۡ يَّرۡزُقُكُمۡ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ قُلِ اللّٰهُ ۙ وَ اِنَّاۤ اَوۡ اِيَّاكُمۡ لَعَلٰى هُدًى اَوۡ فِىۡ ضَلٰلٍ مُّبِيۡنٍ‏ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ تمہیں آسمانوں اور زمینوں سے کون رزق دیتا ہے ؟ آپ کہیے کہ اللہ ! (اے مشرکو ! ) بیشک ہم اور تم ہدایت پر ہیں یا کھلی ہوئی گم راہی میں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ تمہیں آسمانوں اور زمینوں سے کون رزق دیتا ہے ؟ آپ کہیے کہ اللہ ! (اے مشرکو ! ) بیشک ہم اور تم ہدایت پر ہیں یا کھلی ہوئی گم راہی میں !۔ آپ کہیے اگر (بالفرض) ہم نے کوئی جرم کیا ہے (تو) اس کے متعلق تم سے سوال نہیں کیا جائے گا اور نہ تمہارے کرتوتوں کے متعلق ہم سے کوئی سوال کیا جائے گا۔ آپ کہیے ہمارا رب ہم سب کو جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا، وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ آپ کہیے تم مجھے وہ لوگ دکھائو تو سہی جن کو تم نے شریک بناکر اللہ کے ساتھ ملا رکھا ہے ہرگز نہیں بلکہ صرف اللہ ہی ہے بہت غلبہ بہت حکمت والا۔ (سبا : ٧٢۔ ٤٢ )

موحد اور مشرک میں کون بہتر ہے 

اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ مشرکین کو ساکت کرنے کے لئے اور ان سے اللہ تعالیٰ کی رازقیت کا اقرار کرانے کے لئے کہیے کہ بتائو تمہیں آسمانوں اور زمینوں سے کون رزق دیتا ہے، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے رازق ہونے کا انکار نہیں کرتے تھے، تاکہ اس سے یہ اقرار بھی کرالیا جائے کہ ان کے خود ساختہ معبود آسمانوں اور زمینوں میں ذرہ برابر بھی کسی چیز کے مالک نہیں ہیں، اور چونکہ آپ کے اس سوال کا صرف یہی جواب ہوسکتا تھا کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمینوں سے رزق دیتا ہے، اس لئے فرمایا آپ کہیے کہ اللہ۔

اس کے بعد فرمایا : (آپ کہیے کہ اے مشرکو ! ) بیشک ہم اور تم ہدایت پر ہیں یا کھلی ہوئی گم راہی میں !۔ یعنی ہم موحدین کی جماعت ہیں اور اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرنے والے ہیں اور تم مشرکین کا فرقہ ہو جو پتھر کے بےجان بتوں کو اپنا معبود اور حاجت روا مانتے ہیں اور دونوں کے متضاد عقائد ہیں لہٰذا دونوں تو سچے نہیں ہوسکتے، ضرور ایک حق پر ہے اور دوسرا باطل پر ہے، ایک ہدایت پر ہوگا اور دوسرا گمراہ ہوگا، اور یہ ظاہر ہے کہ وہی گمراہ ہے جو بےجان بتوں کو اپنا معبود اور حاجت رواکہتا ہے، جن کا آسمان اور زمین سے روزی پہنچانے میں کوئی حصہ نہیں ہے، وہ بارش برسا سکتے ہیں نہ کسی چیز کو اگا سکتے ہیں اس لئے موحد ہی حق پر ہیں نہ کہ مشرک۔ 

سبا : ۲۴ کے حکم کا منسوخ ہونا 

اس کے بعد فرمایا : آپ کہیے اگر بالفرض ہم نے کوئی جرم کیا ہے (تو) اس کے متعلق تم سے سوال نہیں کیا جائے گا، اور نہ تمہارے کرتوتوں کے متعلق ہم سے کوئی سوال کیا جائے گا۔ (سبا : ۲۴ )

یہ جدل اور مناظرہ سے بہت بعید اور انتہائی منصفانہ کلام ہے کیونکہ اس میں موحدین کی جماعت کی طرف جرائم کو منسوب کیا ہے، خواہ وہ ایسے امور ہوں جن میں خلاف اولیٰ کا ارتکاب ہو، یا صغائر کا ہو یا ان زلات کا ارتکاب ہو جن سے کوئی مومن خالی نہیں ہوتا اور مخالفین اور مشرکین کی طرف مطلق اعمال کو منسوب کیا ہے خواہ وہ کفر ہو یا گناہ کبیرہ ہو۔ 

یہ آیت اس کی مثل ہے : 

(الکفرون : ٦) 

تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔ 

اور ان دونوں آیتوں کا حکم جہاد کی آیات سے منسوخ ہوچکا ہے۔ 

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 24