أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يَجۡمَعُ بَيۡنَـنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفۡتَحُ بَيۡنَـنَا بِالۡحَـقِّ ؕ وَهُوَ الۡـفَتَّاحُ الۡعَلِيۡمُ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے ہمارا رب ہم سب کو جمع فرمائے گا پھر ہمارے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا وہ سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

فتاح اور علیم کا معنی 

فتاح اس حاکم کو کہتے ہیں جو مغلق، مشکل اور بہ ظاہر سمجھ میں نہ آنے والے مقدمات کا فیصلہ کرے اور علیم سے مراد وہ ہے جو ہر چیز کو جاننے والا ہو اور اس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو۔ 

علامہ الزروقی نے کہا دنیاوی اور اخروی معاملات کی تنگی اور سختی میں جو شخص اپنے فضل سے وسعت، کشادگی اور خیر عطا فرمائے وہ الفتاح ہے۔ 

امام غزالی نے کہا الفتاح وہ ہے جس کی عنایت سے ہر بند معاملہ کھل جائے اور جس کی ہدایت سے ہر مشکل آسان ہوجائے، وہ کبھی انبیاء (علیہم السلام) کے لئے دشمن کے قبضہ سے ملکوں کو نکال کر ان کو عطا کرتا ہے اور فرماتا ہے : 

(الفتح : ٢ أ١)

ہم نے آپ کو کھلی ہوئی روشن فتح عطا فرمائی، تاکہ اللہ آپ کے تمام اگلے اور پچھلے بہ ظاہر خلاف اولیٰ کاموں کو معاف کردے۔ 

اور کبھی اپنے اولیاء کے دلوں سے حجاب اٹھا دیتا ہے اور ان کے لئے اپنی کبریائی کے جمال اور اپنی صفات کی معرفت کے ابواب کو کھول دیتا ہے، اور فرماتا ہے : 

(فاطر : ٢) 

اللہ جس رحمت کو لوگوں کے لئے کھول دے اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہے، اور جس کو وہ روک لے تو اس کو کوئی چھوڑنے والا نہیں ہے اور وہی غلبہ والا، حکمت والا ہے۔ 

اس لئے بندہ کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتا رہے اور اس کا ذکر کرتا رہے حتیٰ کہ اس کی تمام دینی اور دنیاوی مشکلات حل ہوجائیں۔ 

اور علیم، عالم کا مبالغہ ہے، عالم اس شخص کو کہتے ہیں جس کے ساتھ علم قائم ہو اور عرف میں عالم اس شخص کو کہتے ہیں، جو قرآن اور سنت کی معرفت رکھتا ہو، اور بہ راہ راست آیات اور احادیث کا ترجمہ کرسکے اور بہ قدر ضرورت احکام شرعیہ کو جانتا ہو اور اس سے دین اور دنیا سے متعلق جس مسئلہ کا شرعی حال معلوم کیا جائے وہ بتاسکے، اور وہ علم کے تقاضوں پر عمل کرتا ہو اور وہ شخص لوگوں سے مستغنی رہے اور ہر معاملہ میں اللہ تعالیٰ پر اعتماد کرے۔ 

القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 26