أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَعِظُكُمۡ بِوَاحِدَةٍ ۚ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلّٰهِ مَثۡنٰى وَفُرَادٰى ثُمَّ تَتَفَكَّرُوۡا مَا بِصَاحِبِكُمۡ مِّنۡ جِنَّةٍ ؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا نَذِيۡرٌ لَّـكُمۡ بَيۡنَ يَدَىۡ عَذَابٍ شَدِيۡدٍ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ میں تم کو صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ کے لئے تم دو ، دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر غور کرو، تمہارے اس پیغمبر کو جنون نہیں ہے، وہ تو صرف تم کو سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میں تم کو صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کے لئے تم دو ، دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر غور کرو، تمہارے اس پیغمبر کو جنون نہیں ہے، وہ تو صرف تم کو سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں۔ آپ کہیے میں نے تم سے (اگر) کوئی معاوضہ طلب کیا ہے تو وہ تم ہی رکھو، میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آپ کہیے میرا رب حق بات نازل فرماتا ہے وہ تمام غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ (سبا : ٤٨۔ ٤٦ )

جماعت کو غور و فکر کی دعوت کیوں نہیں دی 

سبا : ٤٦ میں نصیحت کرنے کے لئے اعظ کا لفظ ہے یہ وعظ سے ماخوز ہے، وعظ کا معنی ہے کسی کو ڈرا دھمکا کر منع کرنا، خلیل نے کہا کسی کو خیر کی چیز اس طرح یاد دلانا کہ اس کا دل نرم ہوجائے، اور اس آیت میں جو کھڑے ہونے کا ذکر ہے اس کے دو معنی ہیں ایک یہ کہ کھڑے ہونے سے وہ معنی مراد ہیں جو بیٹھنے کی ضد ہے۔ یعنی تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس سے کھڑے ہو کر اپنی اپنی مجلسوں میں چلے جائو، اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ تم اب اس کام کے لئے اٹھ کھڑے ہو اور اس کام کا انتظام، انصرام اور اہتمام کرو۔

تنہا تنہا غور کرو یا دو دو مل کر بحث کرو اور اس بات پر غور و فکر کرو کہ تمہارے پیغمبر کو جنون نہیں ہے، کیونکہ تم کو معلوم ہے کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمام جہان والوں سے زیادہ فہم و فراست کے مالک ہیں اور آپ سب سے زیادہ صادق القول ہیں، سب سے زیادہ پاک دامن اور پاکیزہ ہیں، سب سے زیادہ عالم ہیں، سب سے زیادہ نیک عمل کرنے والے ہیں، سب سے زیادہ بشریٰ کمالات سے متصف ہیں، پھر آپ نے یہ دعویٰ کیا کہ عبادت کا مستحق صرف ایک ہے، اور آپ میں جس قدر علمی اور عملی کمالات ہیں سب اس کے دئیے ہوئے ہیں، آپ کی کوئی چیز ذاتی نہیں ہے، ان تمام خوبیوں کے باوجود آپ اپنی تعظیم اور اپنی کبریائی کے طالب نہیں ہیں، آپ کا یہی کہنا ہے اس ایک اللہ کی عبادت کرو میں بھی اس کی عبادت کرتا ہوں تم بھی اس کی عبادت کرو، پھر اس دعویٰ کی تائید میں آپ نے بہت دلائل اور معجزات بھی پیش کئے تو ایسا شخص مجنون کب ہوسکتا ہے، مجنون کی کوئی بات عقل کے مطابق نہیں ہوتی اور آپ کی کوئی بات خلاف عقل نہیں ہے۔

اس آیت میں اس بات پر تنہا تنہا غور کرنے کے لئے فرمایا یا پھر دو دو آدمی مل کر تبادلہ خیال کریں، یہ نہیں فرمایا کہ ایک جماعت اور مجلس میں اس پر غور و فکر کیا جائے یا بحث کی جائے، کیونکہ جب ایک مجلس میں کسی بات پر بحث ہوتی ہے تو انصاف پر پہنچنے کی توقع کم ہوتی ہے اس میں اختلاف زیادہ ہوتا ہے جتنے منہ ہوتے ہیں اتنی باتیں ہوتی ہیں لوگ جوش و غضب میں آجاتے ہیں اور ٹھنڈے دل سے کسی بات پر غور نہیں کرتے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر خاص و عام کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا 

اور اس آیت میں فرمایا : وہ تو صرف تم کو سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں، حدیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں جب یہ آیت ناز کی گئی وانذر عشیرتک الاقربین (الشعرائ : ٢١٤) ” اور آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے “ تو آپنے قریب کے ہر عام اور خاص کو بلایا، پس آنے فرمایا اے بنو کعب بن لوی ! اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے چھڑا لو، اے بنی مرہ بن کعب ! اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے چھڑا لو، بنی عبد شمس ! اپنے نفسوں کو دوزخ کی آگ سے چھڑالو، اے بنی ہاشم ! اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے چھڑالو، اے بنو عبدالمطلب ! اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے چھڑوالو، اے فاطمہ ! اپنے آپ کو دوزخ کی آگ سے چھڑالو، کیونکہ میں تمہیں نفع پہنچانے کے لئے اللہ کی کسی چیز کا (از خود) مالک نہیں ہوِں، ہان تمہارے رحم کا رشتہ ہے اور میں عنقریب اس کی تری سے تر کروں گا (یعی اپنے رشہ کا فیض تم کو پہنچائوں گا)(صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٠٤، سن الترمذی رقم الحدیث : ١٣٨٥، سنن النسائی رقم الحدیث : ٣٦٤٤، السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١١٣٧٧)

اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : آپ کہیے کہ میں تم کو صرف ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں، اللہ کے لئے تم دو ، دو مل کر یا تنہا تنہا کھڑے ہو کر غور کرو، تمہارے اس پیغمبر کو جنون نہیں ہے، وہ تو صرف تم کو سخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں۔ آپ کہیے میں نے تم سے (اگر) کوئی معاوضہ طلب کیا ہے تو وہ تم ہی رکھو، میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ آپ کہیے میرا رب حق بات نازل فرماتا ہے وہ تمام غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ (سبا : ٤٨۔ ٤٦ )

توحید رسالت اور آخرت کی نصیحت کا باہمی ربط

اس آیت میں تین اصولوں اور عقیدوں کا ذکر فر مایار ہے ایک اللہ تعالی کی توحید کا ذکر ہے اس کا بیان ان الفاظ میں ہے میں تم کو صرف ایک چیز کی نصیحت کرتا ہوں دوسرا اصول اور عقیدہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت ہے اس کا بیان ان الفاظ سے ہے تمہارے اس پیغمبر کو جنون نہیں ہے اور تیسرا اصول اور عقیدہ قیامت ہے اور اس کا بیان ان الفاظ سے ہے وہ تو تم کو سخت عذاب کے آنے پہلے ڈرانے والے ہیں۔

اس جگہ پر اعتراض ہے کہ اس آیت میں فرمایا میں تم کو صرف ایک چیز یعنی صرف توحید کی نصیحت کرتا ہوں اور ایمان صرف توحید سے ملکمل نہیں ہوتا اس کے ساتھ رسالت اور آخرت پر ایمان لانا ضروری ہے اس کا جواب یہ ہے کہ ان تینوں چیزوں میں اہم مقصود الله تعالی کی توحید ہے جو شخص توحید کو اس طرح مان لے جس طرح اس کو ماننے کا حق ہے اللہ تعالی دنیا میں اس کا سینہ کھول دیتا ہے اور آخرت میں اس کا مرتبہ بلند کر دیتا ہے ، سو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس جیز کا حکم دیا جوان کے لیے عبادت کے دروازے کھول دے اور اخروی سعادت کے اسباب مہیا کر دے۔

اور فرمایا تم دو دو اور ایک ایک اللہ کے لیے کھڑے ہوجائو اس سے مقصود یہ ہے کہ تم ہر حال میں اللہ کا ذکر کرتےرہو کیونکہ انسان دو حالوں سے خالی نہیں وہ تنہا ہو گا یا کسی کے ساتھ ہوگا سو تم ہر صورت میں اللہ تعالی کا ذکر کرتے رہو تنہائی میں اس کی صفات اور اس کے احکام پر غور کرو اور جب کسی کے ساتھ ہو تو اس کا ذکر کرو۔

اورفرمایا تمہارا یہ پیغمبر جن کے زیراثر نہیں ہے یعنی وہ الله کا رسول ہے اس پر یہ اعتراض ہوگا کہ ہر وہ شخص جوکسی جن کے زیراثر نہ ہو وہ الله کا رسول تو نہیں ہوتا اس کا جواب یہ ہے کہ نبی صلی الله علیہ وسلم غیرمعمولی کام کرتے تھے اور جوشخص غیرمعمولی کام کرتا ہے توجن اس کے مددگار ہوتے ہیں یا فرشتے اور جب یہ فرما دیا کہ جن ان کے مددگار نہیں ہیں تو لامحالہ فرشتے ان کے مددگار ہیں اور فرشتے اللہ کے رسول کی مدد کرتے ہیں پس ثابت ہو گیا وہ اللہ کے رسول ہیں۔

نیز فرمایا وہ تو تم کوسخت عذاب کے آنے سے پہلے ڈرانے والے ہیں اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگر تم ایمان نہ لائے تو سخت عذاب آئے گا جس سے کودنیامیں بھی ہلاکت کا سامنا ہوا اور آخرت میں بھی۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 46