أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ اِنَّ رَبِّىۡ يَقۡذِفُ بِالۡحَـقِّ‌ۚ عَلَّامُ الۡغُيُوۡبِ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے میرا رب حق بات نازل فرماتا ہے وہ تمام غیوب کا بہت جاننے والا ہے

نبوت عطا کرنے میں یہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تخصیص کی توجیہہ

آپ کہیے میرا رب حق بات نازل فرماتا ہے ، تمام غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ (48-46)

اس آیت میں بقذف کا لفظ ہے جو قذف سے بنا ہے قذف کا معنی ہے کسی چیز کو دور سے پھینکنا ہے جیسے پتھر اور تیر کو دور سے پھینکا جائے اور اس کا مجازی معنى القاء کرنا اور ڈالنا ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ الله تعالی اپنے جن بندوں کو نبوت کے لیے منتخب فرمالیتا ہے ان کے دلوں پر وحی نازل فرماتا ہے اور آسمانوں اور زمینوں میں جو چیز بھی غائب ہو الله اس کو سب سے جاننے والا ہے اور اس کی مخلوق میں جو تغیرات ہوتے رہتے ہیں وہ ان تمام تغیرات کو بھی جانے والا ہے۔

مشرکین اس بات کو بہت بعید سمجھتے تھے کہ ان میں سے کسی شخص کو رسول بنالیا جائے وہ کہتے تھے۔

کیا ہم سب میں صرف اسی شخص پر اللہ کا کلام نازل کیا گیا ہے ؟ ص 8

اللہ تعالی ان کے استبعاد کو دور کرنے کے لیے فرماتا ہے یعنی تمام چیزیں اللہ تعالی کے اختیار میں ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے عطا کرتا ہے سو اس نے جس کو چاہا نبوت سے سرفراز کیا اور اس کے دل پر وحی نازل فرمائی ۔

اس پر یہ اعتراض ہوسکتا تھا کہ اللہ تعالی جس کو جو چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نبی بنا دیتا ہے خواہ اس میں نبوت کی استعداد اور صلاحیت ہو یا نہ ہو ۔ اس کے جواب کی طرف اشارہ فرمایا وہ علام الغیوب ہے اس کے علم میں ہے کس میں نبوت کی استعداد اور صلاحیت ہے اور جس میں نبوت کی استعداد و صلاحیت ہوباسی کو منصب نبوت پر فائز فرماتا ہے بلکہ اس نے جس کو نبی بنانا ہوتا ہے اس کو نبوت کی صلاحیت کے ساتھ پیدا کرتا ہےباور اس کے اندر کمالات نبوت رکھ دیتا ہے لہذا یہ مشرکین کا لغو اعتراض ہے کہ ہم میں سے اس شخص کے اندر کیا خصوصیات تھی جو اس کو نبوت دی گئی ہے اور کسی اور کو نبوت کیوں نہیں دی گئی ہے ۔

القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 48