أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ مَا سَاَ لۡـتُكُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ فَهُوَ لَـكُمۡ ؕ اِنۡ اَجۡرِىَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ ۚ وَهُوَ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ شَهِيۡدٌ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے میں نے تم سے (اگر) کوئی معاوضہ طلب کیا ہے، تو وہ تم ہی رکھو، میرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ (کرم) پر ہے اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے

تبلیغ رسالت کا اجر نہ طلب کرنے سے آپ کے رسول ہونے پر استدلال

سبا 46 میں فرمایاتھا مايصاحبكم من جنة‘اس کا ایک معنی ہم نے یہ بیان کیا کہ وہ کیا جن کے زیر اثر نہیں ہے یہ آپ کے رسول ہونے کو مستلزم ہے اور اس کا دوسرا معنی یہ ہے کہ ان کو جنون نہیں ہے اور یہی آپ کے رسول ہونے کو مستلزم ہے کیونکہ مجنون شخص ایسے کام کرتا ہے جن کا دنیا میں کوئی فائدہ ہوتا ہے نہ آخرت میں اور نبی صلی الله علیہ وسلم نے جب نبوت کا دعوی کیا تو اس سے آپ کو دنیا میں کوئی فائدہ نہیں ہوا اور نہ ہی آپ نے کسی دنیاوی فائدہ کو طلب کیا تو اگر اس دعوی سے آخرت میں بھی آپ کوکوئی فائدہ نہ ہوتا تو آپ العیاذ باللہ مجنون ہوتے لیکن جب آپ کے اقوال اور افعال سے یہ ثابت ہے کہ آپ مجنون نہیں ہیں تو آپ ضرور الله کے رسول ہیں لہذاسبا: 47 میں جو فرمایا آپ کہے کہ میں نے تم سے اگر کوئی معاوضہ طلب کیا ہے تو وہ تم ہی رکھومیرا معاوضہ تو صرف اللہ کے ذمہ کرم پر ہے۔ اس آیت سے بھی آپ کی رسالت کو ثابت کا گیا کہ آپ اللہ کے پیغام کو پہنچانے کا دنیا میں کسی سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرر ہے بلکہ معاوضہ لینے سے آپ منع فرمارہے اگر آخرت میں بھی آپ کو اس پیغام پہنچانے کا کوئی فائدہ اور کوئی اجر وثواب نہ ہوتا تو آپ العياذ باللہ مجنون ہوتے اور آپ کے اقوال اور افعال سے واضح ہے کہ آپ مجنون نہیں ہیں تو پھر آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں۔

نیز فرمایا وہ ہر چیز کا نگہبان ہے، یعنی ہر چیز کا وہ عالم ہے غیب اور شہادت اور ظاہر اور باطن ہر چیز پر مطلع ہے

میرے صدق و خلوص نیت کو جانتا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ جو شخص مخلوق کو اللہ کی طرف دعوت دے اس کی یہ دعوت خاص اللہ کے لیے ہونی چاہیے اور اس میں دنیا کی کسی چیز کی طمع نہیں ہونی چاہیے۔

القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 47