أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَّقَدۡ كَفَرُوۡا بِهٖ مِنۡ قَبۡلُۚ وَيَقۡذِفُوۡنَ بِالۡغَيۡبِ مِنۡ مَّكَانٍۢ بَعِيۡدٍ‌ ۞

ترجمہ:

وہ اس سے پہلے اس کا کفر کرچکے تھے اور بہت دور سے اٹکل پچو سے باتیں کرتے تھے

روز حشر کفار کے ایمان کو قبول نہ کرنے کی وجوہ 

اس کے بعد فرمایا : وہ اس سے پہلے اس کا کفر کرچکے تھے اور بہت دور سے اٹکل پچو کی باتیں کرتے تھے۔ (سبا : ٥٣ )

یعنی وہ اس سے پہلے دنیا میں اللہ تعالیٰ کا کفر کرچکے تھے یا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کفر کرچکے تھے یا اس قرآن کا کفر کرچکے تھے، جس وقت ان کو ایمان لانے کا مکلف کیا گیا تھا اس وقت وہ ایمان نہیں لائے اور اب جب ایمان لانے اور اس کو قبول کرنے کے دروازے بند کئے جا چکے ہیں تو اب وہ ایمان لائے ہیں اب جب تمام اسباب منقطع ہوچکے ہیں تو ان کو سوائے خسارے، ندامت اور درد ناک عذاب کے اور کیا حاصل ہوگا۔

اور وہ بہت دور سے اٹکل پچو کی باتیں کرتے تھے، ان کی باتوں کی مثال اس شخص سے دی گئی ہے جو بہت ور سے کسی چیز پر نشانہ لگا رہا ہو اور دور ہونے کی وجہ سے اس کا نشانہ نہ لگ رہا ہو، سو وہ بھی اپنے گمان کے مطابق یہ کہتے تھے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھنا ہوگا نہ قیامت آئے گی، نہ میدان حشر قائم ہوگا، نہ حساب کتاب اور جنت اور دوزخ ہوگی۔

قتادہ نے کہا وہ قرآن مجید کے متعلق یہ اتہام لگاتے تھے کہ یہ جادو ہے اور شعر ہے، یہ اگلے اور پچھلے لوگوں کے قصے اور کہانیاں ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ وہ اٹکل پچو سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر مختلف تہمتیں لگاتے تھے، کبھی کہتے وہ ساحر ہیں کبھی شاعر کہتے اور کبھی مجنون کہتے۔

ایک قول یہ ہے کہ ان کے کفر اور ان کی سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کرنے کو ان کے دل سے بہت دور کردیا تھا۔

القرآن – سورۃ نمبر 34 سبا آیت نمبر 53