اہل اللہ کا بھوکا رہنا

از: افتخار الحسن رضوی

ہمارے یہاں دروس و مجالس میں وظائف و اذکار اور تزکیہ و تصوف سے متعلق گفتگو میں “تقلیل طعام” یعنی کم کھانے پر کلام ہوتا ہے۔ اس سے بعض ایسے دوست جو ابھی باطنی روحانی لذات سے محروم ہوتے ہیں وہ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کم کھانے سے انسان کمزور و ضعیف ہو جاتا ہے، ایسے میں وہ امور دنیوی و کارہائے حیات کیسے انجام دے سکتا ہے۔

قارئین کرام و برادران و دختران اسلام!

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جس انسان نے اللہ تعالٰی کی رضا کے لیے دنیا ترک کر دی، اس کے تمام معاملات اللہ کے ذمہ کرم پر ہوتے ہیں، وہ بظاہر کمزور بدن در حقیقت متعدد طاقتوروں کی دہشت و جلالت کا سبب ہوا کرتا ہے۔ رب تعالٰی کی رضا کی خاطر بھوک برداشت کرنے والے کو اس کی ذات مبارکہ صبر و طاقت سے نواز دیتی ہے۔ امام محمد غزالی علیہ الرحمہ نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ ایک صوفی بزرگ کا گزرایک راہب کے پاس سے ہوا،تو اس نے اس کی حالت کے بارے میں گفتگوکی اوراسے اسلام کی طرف مائل کیا، راہب نے کہا: ”حضرت سیِّدُنا عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام چالیس دن تک کچھ نہ کھاتے تھے اور یہ معجزہ ہے ،جوصر ف سچے نبی ہی کو حاصل ہوتاہے ۔” صوفی بزرگ نے اس سے کہا:” اگر میں پچاس دن تک کچھ نہ کھاؤ ں، تو تم اپنے دین کو چھوڑ کردینِ اسلام میں داخل ہوجاؤگے ؟” اس نے کہا:” ہاں۔” چنانچہ وہ صوفی بزرگ اس کے سامنے بیٹھ گئے ،حتیّٰ کہ پچاس دن تک کچھ نہ کھایا، پھر راہب سے کہنے لگے:” میں ساٹھ دن تک اضافہ کرتاہوں۔” اورساٹھ دن تک کچھ نہ کھایا۔ اس پر راہب کو تعجب ہوا اور کہنے لگا:” میں نہیں سمجھتا تھا کہ کوئی شخص حضرت سیِّدُنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃو السلام سے بھی زیادہ دن بھوکارہ سکتاہے۔”پس یہی واقعہ اس کے اسلام لانے کا سبب بنا ۔

(احیاء العلوم)

اہل اللہ کی باتیں عام انسان کے اوپر سے گزر جاتی ہیں، لیکن یہ بڑی حقیقت ہے کہ اس دور میں بھی فقر و فاقہ والی شخصیات موجود ہیں جن کا ذکر و فکر کرنا ہی خوراک بن جاتا ہے۔ بھرے ہوئے پیٹ اور بڑی ہوئی توند کو فکر ، توکل ، قناعت اور خشیت و خوف الٰہی کم ہی نصیب ہوتا ہے۔ اولیاء کرام کی بھوک دوسروں کے لیے ہدایت و رہنمائی کا ذریعہ ہے، اور بظاہر ان کے کمزور بدن میں اللہ کریم کی طرف سے روحانی قوت و طاقت شامل ہوتی ہے۔

کتبہ: افتخار الحسن رضوی

٢٦ اگست ۲۰۱۹