👈سُنت حُسینی اور سُنت یزیدی کیا ہے؟

مشہور شیعہ عالم “غلام حسین نجفی” نے اپنی کتاب “ماتم اور صحابہ” میں ایک عنوان قائم کیا کہ

“عزاداری نہ کرنا اور قرآن پڑھوانا سُنت یزید ہے “

پھر اپنے ہی مذہب کی کتاب سے اسے ثابت کرنا چاہا کہ یزید پلید نے یوم عاشوراء پر قرآن خوانی کروائی تاکہ لوگ ذکر حسین رضی اللہ عنہ سے باز رہیں

پھر آگے لکھا کہ

قارئین ۔ اب جو لوگ مسجدوں میں یومِ عاشوراء تلاوت اور ختم شریف پر زور دیتے ہیں اور مجلس حُسین سے منع کرتے ہیں ، عزاداری کی ڈٹ کر مخالفت کرتے ہیں ایسے لوگ فیصلہ کریں کہ کس کی سُنت پر عمل کررہے ہیں؟

(ماتم اور صحابہ،ص 17، جامع المنتظر لاہور)

اس بندے نے اپنا اُلّو سیدھا کرنے اور عزاداری ثابت کرنے کیلئے کتنی بڑی خیانت بازی کی دس محرم کو قرآن خوانی کرکے ختم شریف دلانے والے کو یزید کی سنت پر عمل کرنے والا ٹھہرا دیا ، حالانکہ معاملہ بالکل اس کے خلاف ہے شب عاشوراء اور یوم عاشوراء تلاوت قرآن پاک کرنا ، ذکر و اذکار کرنا ، استغفار ، اور صبر کرنا کروانا یہ سب سُنت حُسینی ہے ، جبکہ کالے کپڑے پہن کر ماتم کرنا رونا پیٹنا سُنت یزیدی ہے ، اور آج تک شیعہ حضرات اسی سُنت یزیدی پر عمل پیرا ہیں ، اور اہل سنت وجماعت قرآن خوانی ذکر و اذکار صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے حُسینی سُنت پر عمل کرتے ہیں مساجد میں ہم ماتم کی مخالفت کرتے ہیں ، ذکر حُسین کی نہیں ، ہم تو خود ذکر حسین رضی اللہ عنہ کی محافل کا انعقاد بھی کرتے ہیں اور تلاوت قرآن اور ختم شریف پڑھ کر شہدائے کربلا کی ارواح کو ایصال ثواب اور ساتھ لنگر حُسینی کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔

شیعہ کا عمل سُنت یزیدی اور ہمارا سُنت حُسینی ہے اسکا ثبوت خود شیعہ کی کتب سے پیش کررہا ہوں ملاحظہ فرمائیں ۔

1-شیعہ کے نزدیک واقعہ کربلا پر اولین اور مُستند کتاب “مقتل ابی مخنف”میں ہے کہ

جب اس کے پاس امام حسین رضی اللہ عنی کا سرِ مبارک لایا گیا تو اس نے دیکھ کر اپنے منہ پر طمانچے مارنے شروع کردئیے اور کہا کہ مجھے حسین کو قتل کرکے کیا مِلا؟

پھر اس نے باقاعدہ خواتین کو امام حسین کیلئے نوحہ و ماتم کرنے کیلئے ماحول فراہم کیا اور دمشق میں کوئی عورت ایسی نظر نہ آتی جس نے سیاہ لباس نہ پہنا ہو ، سات روز تک حسین علیہ السلام کی مجالس میں رونا اور نوحہ خوانی ہوتی رہی۔

(ملخصاً، مقتل ابی مخنف ، ص172 المعراج کمپنی لاہور)

2-شیعہ کی معتبر کتاب “جلاالعیون “میں ہے کہ

“ابو مخنف وغیرہ نے روایت کی ہے کہ حکم یزید لعین سے سر مبارک سید الشہداء اس کے دروازے پر آویزاں کیا گیا ۔اور اہل بیت آنحضرت کو اپنے محل بھجوایا ۔جب محذرات اہل بیت عصمت و طہارت اس کے محل میں داخل ہوئے ۔عورات ابوسفیان نے اپنے زیور اُتار دئیے ۔اور لباس ماتم پہن کے آواز نوحہ و گریہ زاری بلند کی ۔اور تین روز ماتم رہا ۔

(جلاءالعیون اردو جلد دوم ص 295 مطبوعہ شیعہ جنرل بک ایجنسی انصاف پریس لاہور جدید)

اس طرح “منتہی الآمال جلد اول مقصد چہارم فصل ہشتم مصنف شیخ عباس قمی ص 55 پر

“نوحہ کردن زنان آل ابو سفیان بر اہل بیت” لکھا ہے ۔

طوالت کے خوف سے انہی حوالوں پر اکتفا کرتا ہوں وگرنہ مزید بھی دستیاب ہیں ،

اب آئیے دوسری طرف اوپر آپ نے جان لیا کہ ماتم کرنا سُنت یزیدی ہے ، اب سُنت حُسینی کیا ہے کتب شیعہ سے ہی ملاحظہ فرمائیں ۔

1- مشہور و معتبر شیعہ عالم شیخ مفید متوفی 413ھ نے اپنی مشہور کتاب “تذکرة الاطہار”میں لکھا ہے کہ

(شب عاشوراء) امام حسین نے حضرت عباس کو یزیدی لشکر کی طرف جانے کو کہا اور فرمایا

“ان کے پاس واپس جاؤ اور اگر کر سکو تو انہیں کل تک تاخیر کرنے پر آمادہ کرو ، اور رات بھر کیلئے انہیں ہم سے دور کردو ، تاکہ ہم اپنے پروردگار کیلئے نماز پڑھ سکیں اور اس سے دعا و استغفار کرسکیں ، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ میں اس کیلئے نماز پڑھنے ، اس کی کتاب کی تلاوت کرنے ، زیادہ دعا مانگنے ، اور استغفار کرنے کو دوست رکھتا ہوں ۔

پھر آگے لکھا ہے کہ امام عالی مقام نے سیدہ طیبہ زینب سلام اللہ علیہا کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا ،

“اے بہن ! میں تمہیں قسم دیتا ہوں اور میری قسم کو پورا کرنا ، جب میں فوت(شہید) ہوجاؤں ، تو مجھ پر اپنا گریبان چاک کرنا نہ چہرہ خراشنا ، اور نہ ویل و شبور(ہلاکت و تباہی) پکارنا ۔

مزید آگے لکھا ہے کہ

“پھر آپ اپنی جگہ واپس آگئے اور ساری رات نماز ، استغفار ، دعا اور تضرع و زاری میں بسر کردی اور آپ کے اصحاب بھی اسی طرح اُٹھ کھڑے ہوئے نماز پڑھتے ، دعا مانگتے اور استغفار کرتے تھے ۔

(تذکرة الاطہار ، مترجم ، ص 295۔296 ، امامیہ پبلی کیشنز لاہور)

2- واقعہ کربلا پر مُستند شیعی کتاب “ذبح عظیم “میں ہے کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نے وصیت کرتے ہوئے فرمایا

“اور جبکہ میں قتل (شہید) ہوجاؤں تو تم اپنی چادر اور گریبان کو مت پھاڑنا ، اور نالہ و فریاد کرکے نہ رونا ۔ بلکہ اے سکینہ ! حکم الہی پر صبر کرنا کیونکہ ہم لوگ صاحبان صبر اور اہل احسان ہیں۔

(ذبح عظیم ص 443 مکتبہ رضویہ شاہ عالم مارکیٹ لاہور)

3- مشہور و معتبر شیعہ کتاب “تحفتہ العوام “میں شب عاشوراء کے اعمال کے تحت لکھا ہے کہ

“شبِ دہم وہ شب ہے کہ جس میں جناب سید الشہداء مع اعزہ و اصحاب و احباب کے عبادت الہی میں مشغول رہے ۔

(تحفتہ العوام ص 456 ،افتخار بک ڈپو اسلام پورہ لاہور)

4–مشہور و معتبر شیعی کتاب “چودہ ستارے”میں شبِ عاشور کے تحت لکھا ہے کہ

“پانی کی جدوجہد کی ناکامی کے بعد امام حسین نے حکم دیا کہ سب اپنے اپنے خیموں میں جاکر عبادت میں مشغول ہوجائیں ۔

(چودہ ستارے ، ص 243، امامیہ کتب خانہ لاہور)

قارئین محترم ان تمام تر حوالہ جات اور وضاحتوں کے بعد یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ سیاہ کپڑے پہن کر ماتم کرنا ، نوحہ و واویلا کرنا یہ سب یزید کی سُنت ہے اور نماز پڑھنا ، تلاوت قرآن مجید ، دعا و استغفار وغیرہ ، یہ سب سُنت حُسینی ہے اب شیعہ عالم غلام حُسین نجفی کے پیروکار بتائیں کہ وہ کس کی سُنت پر عمل کررہے ہیں؟

اور جو اہل سنت نوافل پڑھ کے تلاوت قرآن پاک کرکے ایصال ثواب کی محافل کا انعقاد کرتے ہیں وہ کس کی سُنت پر عمل پیرا ہیں؟ شب عاشوراء کو سڑکوں گلی محلوں میں ماتم کرنا ہرگز سُنت حُسینی نہیں ، امام نے مع رفقاء ساری رات عبادت میں گزاری،

لہذا غور فرمائیں کہ امام پاک نے عزاداری کا حکم دیا یا دعا و عبادت کا؟ امام پاک نے صبر کا حکم دیا یا رونے پیٹنے اور ماتم کرنے کا ؟

ویسے بھی ہم اہل سنت کے نزدیک شہید زندہ ہے اور ماتم تو فوت شدگان پر بھی حرام ہے پھر زندہ کا کیسا ماتم؟ کسی نے خوب کہا ہے

کافر ہے جو منکر ہو حیاتِ شہداء کا

ہم زندہ و جاوید کا ماتم نہیں کرتے

دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے سینوں کو صحیح معنوں میں محبت اہل بیت سے بھر دے ہمیں آل و اصحاب رسولﷺ کا باادب بنائے اور انکی سیرت و تعلیمات پر چلنے کی توفیق دے اور انہی کی غلامی میں موت عطا فرمائے آمین

✍ارسلان احمد اصمعی قادری

29/8/2020ء