یہ کہنا کہ یزید نے امام حسین کے قتل کا حکم نہیں دیا مردود اور باطل ہے

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

حضرت شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک طبقہ کی رائے ہے کہ یزید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا نہ ہی وہ آپ کی شہادت پر رضامند تھا ۔ ہمارے نزدیک یہ رائے مردود اور باطل ہے ۔

مزید لکھتے ہیں : ایک طبقہ کی رائے یہ ہے کہ قتلِ حسین رضی اللہ عنہ گناہِ کبیرہ ہے ۔ کیونکہ ناحق قتلِ مومن کفر نہیں گناہِ کبیرہ ہے اور لعنت تو کافروں کے لئے مخصوص ہے ۔ ایسی رائے رکھنے والوں پر افسوس ہے ۔ وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے کلام سے بھی بے خبر ہیں ۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا اور ان کی اولاد سے بغض و عداوت اور ان کی تکلیف و توہین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عداوت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ایذا کا سبب بھی ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ حضرات یزید کے متعلق کیا فیصلہ کریں گے ؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی توہین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عداوت کفر و لعنت کا سبب نہیں ؟ کیا یہ بات جہنمی ہونے کے لئے کافی نہیں ؟ ۔ (تکمیل الایمان فارسی شیخ محقق مطبوعہ الرحیم اکیڈمی کراچی صفحہ نمبر 172 ، 173،چشتی)

حضرت شیخ محقق شاہ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ایک طبقہ کی رائے ہے کہ یزید نے امام حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا نہ ہی وہ آپ کی شہادت پر رضامند تھا ۔ ہمارے نزدیک یہ رائے مردود اور باطل ہے ۔

مزید لکھتے ہیں : ایک طبقہ کی رائے یہ ہے کہ قتلِ حسین رضی اللہ عنہ گناہِ کبیرہ ہے ۔ کیونکہ ناحق قتلِ مومن کفر نہیں گناہِ کبیرہ ہے اور لعنت تو کافروں کے لئے مخصوص ہے ۔ ایسی رائے رکھنے والوں پر افسوس ہے ۔ وہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے کلام سے بھی بے خبر ہیں ۔ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا اور ان کی اولاد سے بغض و عداوت اور ان کی تکلیف و توہین نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عداوت ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی ایذا کا سبب بھی ہے ۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ حضرات یزید کے متعلق کیا فیصلہ کریں گے ؟ کیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کی توہین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے عداوت کفر و لعنت کا سبب نہیں ؟ کیا یہ بات جہنمی ہونے کے لئے کافی نہیں ؟ ۔ (تکمیل الایمان مترجم اردو صفحہ نمبر 178 مطبوعہ مکتبہ نبویہ لاہور)۔(طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)