تحفظِ شریعت اور پیغامِ کربلا کی عصری معنویت

(مشرکین ہند کی سازشوں کے تناظر میں)

غلام مصطفیٰ رضوی

[نوری مشن مالیگاؤں]

واقعۂ کربلا! اسلام کے نظام اور قانون کی حفاظت کے لیے جاں نثاری کا سُنہرا باب ہے۔ جس کی یاد ہر سال منائی جاتی ہے۔ امام حسین رضی اللہ عنہ اور اُن کے رفقا کی شہادت کی یاد تازہ کی جاتی ہے۔ ذکرِ شہدائے کربلا کی محافل سجائی جاتی ہیں۔ واقعاتِ کربلا کا بیان کوئی ایسی رسم و روایت نہیں کہ جسے سُن کر بھلا دیا جائے؛ اس کے دامن میں اسلامی شوکت وتاریخ کا ایک عظیم درس پنہاں ہے، جس کی ہر عہد اور ہر زمانے کو ضرورت ہے۔ بزدلی و احساس کمتری کی فضا ختم کرنے میں واقعۂ کربلا خوش گوار ماحول فراہم کرتا ہے۔

تحفظ شریعت کا درس:

خدائی قوانین اور شریعتِ نبوی ﷺ سے انحراف کا پہلا سانحہ یزیدی دور میں پیش آیا۔ رسول اللہ ﷺ کے عظیم نظام اور خلفائے اربعہ کے نظامِ خلافت کو نظر انداز کر کے یزید نے شاہانِ قیصر و کسریٰ کے طرزِ حکومت و آمریت کو رواج دیا۔ جن باتوں کو اسلام نے ممنوع قرار دیا تھا؛ رسول اللہ ﷺ نے جن برائیوں کا خاتمہ فرما کر اسلام کا پاکیزہ نظام دُنیا کو عطا کیا تھا؛ انھیں یزید اقتدار کے نشے میں رائج کر رہا تھا۔ آمریت کا ظالمانہ نظام اسلام کے منصفانہ نظام سے متصادم تھا۔

امام حسین رضی اللہ عنہ نے نظامِ شریعت کے تحفظ کے لیے یزیدی نظام کی کھلی تردید فرمائی۔ جس کے نتیجے میں یزیدی قوت نے جور و ستم کا مظاہرہ کیا۔ اور نواسۂ رسول حضرت امام حسین و ان کے رفقا کو جامِ شہادت نوش کرنا پڑا۔ بہر کیف! اس شہادت کی بزم سے اسلامی نظام کی صداقت روشن ہوئی۔ نظامِ آمریت کی فرسودگی ظاہر ہوئی۔یہ درس ملا کہ شریعت اسلامی کے مقابل کسی بھی باطل نظام کو قبول نہ کیا جائے۔ بلکہ اسے مسترد کر دیا جائے۔ جو ظالم! نظامِ شریعت میں تبدیلی کی کوشش کرے؛ اس کے ظالمانہ پنجوں کو مروڑ دیا جائے۔ مصالحت کے بجائے منصفانہ تقاضوں کو مکمل کیا جائے۔ شریعت کی حفاظت کے لیے جاں نثاری کی فضا قائم کی جائے۔

شریعت پر مشرکوں کا شب خون:

ملک میں جب سے بھگوا توا اقتدارقابض ہوا؛ شریعتِ اسلامی پر مسلسل یورش جاری ہے، تین طلاق کے عنوان پر زبردستی خلافِ شرع قانون تھوپنے کی کوشش کی گئی۔ ذبیحہ سے متعلق دستوری قدغن لگانے کی کوشش کی گئی۔ مسلمانوں کے شعائر پر ہر دن نئے نئے طریقے سے یورش کی جا رہی ہے۔ ماب لنچنگ کے شکار بھی مسلمان، فسادات میں نشانے پر بھی مسلمان اور جیلوں کی کوٹھریاں مسلمانوں سے پُر۔ جمہوری ملک میں مسلمانوں کے دستوری حقوق جس تیزی کے ساتھ سلب کیے جا رہے ہیں، یہ المیہ ہے،

مسلمانوں میں ملحدانہ سوچ و فکر کے حامل افراد نے مشرکین کی سازشوں کو تقویت پہنچائی، ان کی زبان بولنے لگے۔ جتنے واقعات رونما ہوئے ان میں شریعت سے بغاوت کے لیے مشرکین کو جو ایجنٹ ملے وہ ہماری ہی صفوں سے ملے۔ اب حلالہ، یکساں سول کوڈ، دارالافتاء کے فیصلوں پر یورش یہ سب نمایاں عناوین ہیں جن پر مشرکین کی سازشیں عروج پر ہیں۔

دوسری طرف ہمارا یہ حال ہے کہ طوفان آتا ہے؛ بے خبر رہتے ہیں، یورش ہوتی ہے، سوئے اور کھوئے رہتے ہیں۔ عصمتیں تاراج کی جاتی ہیں، ہمیں ستایا، مارا پیٹا جاتا ہے، املاک تباہ کی جاتی ہیں لیکن جاگتے نہیں ہیں۔ بابری مسجد کا معاملہ سامنے ہے؛ منصفانہ پہلو کس طرح نظر انداز کر کے مسجد کو مندر سے بدلنے کا فیصلہ کیا گیا؛ اس معاملے میں قائدین کی مصالحت، دو رُخی پالیسی، قومی حمیت کا سودا سب ظاہر ہے۔ مستقبل کے خطرات سے چشم پوشی کی گئی، جب کہ ہمیں اس پہلو کو یاد رکھنا تھا کہ آج ایک مسجد سے دستبرداری کل سیکڑوں مساجد کے تحفظ پر سوالیہ نشان کھڑا کرنے کا موجب بنے گی! اور یہی ہو رہا ہے کہ بابری مسجد کے معاملے میں قومی بے حسی کی قیمت چکانی پڑ رہی ہے اور متھرا و کاشی کی مساجد زَد پر ہیں۔کئی اسلامی مقامات نگاہِ بد کا شکار ہیں۔

امام حسین رضی اللہ عنہ نے مصالحت پر اصول کو ترجیح دی۔ ہمیں بھی اصولوں کی بالادستی قائم کرنی ہو گی۔ اور مساجد کو سجدوں سے آباد کرتے ہوئے ان کے تحفظ و بقا کی راہ ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری کتنی مساجد وہ ہیں جو غیر آباد ہیں۔ انھیں پانچ وقت نمازوں اذانوں سے آباد کرنا ہوگا۔ نمازوں کی پابندی کا جو درس کربلا سے ملا ہے اس پرمساجد کے تحفظ اور ہماری قومی ترقی و روحانی عروج کا بھی انحصار ہے۔

استقامت فی الدین:

دین پر بے پناہ استقامت کا درس شہدائے کربلا رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی بارگاہ سے ملتا ہے۔ ان شہدا نے جان نچھاور کر دی۔ مصالحت نہیں کی۔ باطل سے موافقت گوارا نہ کی۔ دین کے کسی بھی مسئلے میں مفاہمت نہیں کی۔ آج مصالحت، موافقت، مداہنت، سمجھوتہ نے ہمارے کامل نظام پر مشرکین کو شب خون مارنے کا آسان راستہ مہیا کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے ملت اسلامیہ کا حصہ ہونے کے باوجود ہم ملک کی ایک ریاست کے مسلمانوں کو ایک سال سے لاک ڈاؤن کا شکار بنائے جانے پر مکمل خاموش ہیں۔ اسی ملک کا حصہ، اسی ملک کے شہری اور اسی ملک کے باشندے صرف اس لیے ظلم و ستم کا شکار ہیں، قربانی دے رہے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ افسوس انھیں اسلام کے نام پر اسیر بنا کر رکھ دیا گیا لیکن مسلمان جمہوری آواز بھی بلند کرنے سے رہے، جمہوری حقوق کی آزادی کے لیے مطالبات سے بھی رہے، یہی بے حسی ہمیں دھیرے دھیرے اس مقام پر لے جا رہی ہے کہ ہمارے وجود ہی کو مٹانے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ سی اے اے اور این آر سی جیسے عناوین اسی رخ کی خبر دیتے ہیں۔ واقعۂ کربلا درسِ عزیمت دیتا ہے۔ قربانی کا درس دیتا ہے۔ جاں نثاری کی تعلیم دیتا ہے۔ خود داری کا پیغام دیتا ہے۔ مصالحت کی ڈگر چھوڑ کر اپنے حقوق کی بقا و تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کا عزم کربلا کے ریگزار سے ملتا ہے۔ شجاعت کا تازہ حوصلہ فراہم ہوتا ہے۔ ضرورت عمل کی ہے۔ ؎

شہنشاہِ شہیداں ہو انوکھی شان والے ہو

حسین ابن علی تم پر شہادت ناز کرتی ہے

(حضور تاج الشریعہ)

٭ ٭ ٭

٣٠ اگست ٢٠٢٠ء