سیدنا معاویہ و سفیان اور قصہ لعنت…………؟؟

دس محرم کو ایک شیعہ ذاکر نے سرعام بھرے مجمعے میں سیدنا معاویہ اور سیدنا سفیان علیھم الرضوان پر لعنت کی….وتس اپ گروپ میں شیعوں نے اسکی تحسین کی اور مجھ سے کہا کہ ہم ان پر لعنت کیوں نہ کریں جس پر رسول نے لعنت کی، تمھاری کتاب تاریخ طبری میں ہے کہ رسول نے معاویہ ابوسفیان پر لعنت کی دیکھو تاریخ طبری 10/85

.

جواب و تحقیق:

امام طبری نے سیدنا معاویہ و سفیان علیھم الرضوان کی مذمت کرتے ہوئے مزکورہ بات نہیں لکھی

بلکہ

یہ لکھا ہے کہ

المعتضد بالله على لعن معاويه بن ابى سفيان على المنابر، وامر بإنشاء كتاب بذلك يقرا على الناس

[تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري ,10/54]

یعنی

معتضد باللہ نے جمعہ کے خطبوں میں سیدنا معاویہ و سفیان پر لعنت کا حکم دیا اور ایک تحریر لکھ دی جو ہر خطبہ جمعہ میں پڑھی جاتی تھی اس تحریر میں یہ بھی تھا کہ

ومنه قول الرسول ع وقد رآه مقبلا على حمار ومعاويه يقود به ويزيد ابنه يسوق به: لعن الله القائد والراكب والسائق]

ترجمہ

معتضد باللہ کی تحریر میں یہ بھی تھا کہ رسول اللہ نے دیکھا کہ ابو سفیان گدھے پے سوار ہے معاویہ آگے سے کھینچ رہا ہے اور اسکا بیٹا یزید گدھے کو پیچھے سے ہانک رہا ہے تو رسول نے فرمایا اللہ کی لعنت ہو سوار پر کھینچنے والے پر ہانکنے والے پر(تاريخ الطبري = تاريخ الرسل والملوك، وصلة تاريخ الطبري ,10/58]

.

اس روایت کے جھوٹے من گھرت ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس میں یزید بن معاویہ کا ذکر ہے کیونکہ یزید بن معاویہ زمانہ رسالت میں پیدا ہی نہیں ہوا تھا…

لیکن

شیعہ نے چالاکی کی اور ابنہ اسکا بیٹا ترجمہ کرنے کے بجائے اخوہ کر دیا یعنی یزید معاویہ کا بھائی ترجمہ کردیا

.

اگر اخوہ مان لیا جاءے تب بھی یہ روایت من گھڑت جھوٹی ہی کہلائے گی

کیونکہ

اول تو یہ کہ تاریخ طبری میں اسکو حق سچ کہہ کر نہین لکھا بلکہ ایک بادشاہ کے کرتوت کے طور پر لکھا

.

دوسری بات یہ کہ اسکی کوئی سند نہیں اور بلاسند لعنت جیسا عمل پے مشتمل روایت ناقابل عمل ناقابل حجت ہے مردود ہے جھوٹ ہے

وَمِنَ الْمَقْطُوعِ بِكَذِبِهِ مَا نُقِّبَ عَنْهُ مِنَ الْأَخْبَارِ، وَلَمْ يُوجَدْ عِنْدَ أَهْلِهِ مِنْ صُدُورِ الرُّوَاةِ، وَبُطُونِ الْكُتُبِ، وَكَذَا قَالَ صَاحِبُ الْمُعْتَمَدِ. قَالَ الْعِزُّ ابْنُ جَمَاعَةَ: وَهَذَا قَدْ يُنَازَعُ فِي إِمْضَائِهِ إِلَى الْقَطْعِ، وَإِنَّمَا غَايَتُهُ غَلَبَةُ الظَّنِّ.

اور جس حدیث و خبر کے بارے میں تحقیق و تدقیق کی گئی اور اہل فن کے پاس ان کی سند نہ مل سکی اور نہ ہی وہ حدیث و خبر معتبر مصنفات میں نہ مل سکیں تو اس حدیث و خبر کا موضوع من گھڑت جھوٹا ہونا قطعی ہے۔ایسا ہی صاحب المعتمد نے بھی کہا ہے امام عزبن جماعہ نے فرمایا ایسی صورت میں یہ کہنا کہ قطعی طور پر موضوع ہے قابل قبول نہیں ہاں ظن غالب ضرور ہے کہ وہ حدیث و خبر موضوع من گھڑت جھوٹی ہے۔

(تدريب الراوي في شرح تقريب النواوي1/326)

.

تیسری بات یہ ہے کہ روایت میں یہ نہین لکھا کہ اسلام لانے کے بعد رسول کریم نے لعنت کی…کیونکہ عین ممکن ہے کہ یہ لعنت معاویہ و ابوسفیان کے اسلام لانے سے پہلے کی بات ہو اور اسلام لانے کے بعد تمام لعنتیں بددعائیں براءییاں گناہ مذمتیں سب کچھ معاف ہوجاتا ہے اسلام لانے کے بعد عظمت و فضیلت والا رحمتی بن جاتا ہے

الحدیث:

أَنَّ الْإِسْلَامَ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهُ

ترجمہ:

اسلام لانے سےپہلے جو گناہ و مظالم کرتوت وغیرہ اس نے کیے اسلام لانے کے بعد اسلام ان گناہ و مظالم مذمتوں لعنتوں وغیرہ سب کچھ کو اسلام مٹا دیتا ہے

(اہلسنت کتاب مسلم حدیث192)

(شیعہ کتاب میزان الحکمۃ2/134)

.

الحدیث:

لَا تَذْكُرُوا مُعَاوِيَةَ إِلَّا بِخَيْرٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ اهْدِ بِهِ

حضرت معاویہ کا تذکرہ خیر کےساتھ ہی کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی وعلیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اے اللہ! اسے(ہدایت یافتہ بنا کر اسے)ذریعہ ہدایت بنا۔(سنن ترمذی حدیث 3843)

اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا رد نہیں ہوتی لہذا سیدنا معاویہ ہدایت یافتہ باعث ہدایت ہیں رسول کریم کی ان کے لیے اچھی دعا ہے لیھذا لعنت والی بلاسند روایت جھوٹ ہے

.

الحدیث:

قَدْ فَعَلْتُ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ كُلَّ عَدَاوَةٍ عَادَانِيهَا

میں ابوسفیان سےراضی ہوگیا،اللہ اسکی تمام دشمنیوں کو معاف فرمائے(مستدرک حدیث5108)

نبی پاک راضی،اللہ پاک راضی

جل بھن جائےرافضی،نیم رافضی

.

✍تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

facebook,whatsApp,telegram nmbr

03468392475