دوسرے ممالک میں مقدسات کی توہین کی وارداتیں اور ہمارا طرز عمل

قرآن مقدس کی توہین کرنے والے کسی بھی ملک سے ہو سکتے ہیں لیکن انفرادی جرم کا الزام فرد پر ہی عائد ہو گا ریاست پر نہیں ۔ ایسے ملعونین کے خلاف ان ممالک میں مذہبی منافرت پھیلانے پر قانونی کارروائی ہونی چاہیے اور سفارتی سطح پر ہر اسلامی ملک کو فرانس سے مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ ان بدبختوں کے خلاف کارروائی کو یقینی بنائے ۔

حکومت اگر احتجاجی مظاہروں سے خائف ہے یا ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے اس پر دباوُ ہے تو وہ علماء کی گرفتاریاں کرنے کی بجائے ان سے مذاکرات کرے اور افہام و تفہیم سے یہ مسئلہ حل کرے جسکی ایک صورت یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وہ خود اہل اسلام کے جذبات سفارتی ذرائع سے فرانس کی حکومت تک پہنچائے اور توہین کرنے والوں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرے ۔ وزیر خارجہ یا وزیر اعظم خود بھی فرانس کے حکمرانوں سے رابطہ کر سکتے ہیں ۔

ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ پاکستان جہاں مقدسات کی توہین کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف موُثر قوانین موجود ہیں وہاں سب سے بڑھ کر توہین کی وارداتیں ہوتی ہیں ۔ آئے دن مقدمات درج ہوتے ہیں لیکن آج تک کسی کو بھی سزا نہیں مل سکی بلکہ حد تو یہ ہے کہ انہی مغربی ممالک کے دباوُ پر ہم توہین رسالت کے ملزموں کو چھوڑ دیتے ہیں اور انہیں بحفاظت انکے پسندیدہ ممالک میں منتقل کر دیتے ہیں اور ہم انکا کچھ نہیں بگاڑ پاتے ۔

اندریں حالات ہمیں متوازن اور حقتقت پسندانہ رد عمل دینے کو ترجیح دینی چاہیے ۔ ہاں امت انکی محکمومی سے نکل آئے اور برابری کی سطح پر بات کرنے کے قابل ہو جائے تو یقین کریں کوئی بدبخت ایسی جسارت نہیں کرے گا اور اگر کرتا بھی ہے تو اس سے نمٹ لیا جائے گا کیونکہ ہمارے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں اور پاوُں میں زنجیریں نہیں ہونگی ۔

محمد خلیل الرحمن