شہادت امام حسین از ابن کثیر!

 

 

من گھڑت، موضوع روایات اور حکایات اتنی عام ہو چکی ہیں کہ کوئی اس کا انکار کر دے تو اپنے پرائے سب صف ماتم بچھا لیتے ہیں.

سیدی امیر اہلسنت کے کلپ کو بہت وائرل کیا جا رہا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ امام حسین کی شہادت کے وقت سجدہ نماز والا نہیں تھا یا عموما سجدہ تھا یا نماز کی شبیہ (مفہوما)

ایک اہل علم دوست ابھی فرما رہے تھے 40 کے لگ بھگ سنی شیعہ کتب دیکھی کسی میں بھی نہیں لکھا کہ حالت نماز میں آپ کی شہادت ہوئی میں ابھی تاریخ ابن کثیر کو دیکھ رہا تھا جس میں حافظ ابن کثیر نے نقل کیا کہ امام حسین رضی اللہ عنہ نماز ظہر پہلے ہی ادا کر چکے تھے.

ثم صلی الحسین باصحابہ الظھر صلاۃ الخوف ثم اقتتلوا بعدھا قتالا شدیدا

پھر امام حسین نے اپنے رفقا کے ساتھ نماز ظہر صلاۃ خوف کے طریقے پر ادا کی نماز کے بعد شدید قتال فرمایا

البدائیہ و النہایہ صفحہ 8 صفحہ 260

پھر حافظ ابن کثیر نے صفحہ 265 تک امام عالی مقام کے رفقاء کی شہادتیں ذکر فرمائی آخر میں امام صاحب کی شہادت کو یوں بیان کیا:

جب لوگ ڈر رہے تھے امام پاک پر حملہ کرنے سے تو شمر نے پکارا کس چیز کا انتظار کر رہے ہو تو پھر زرعہ بن شریک التمیمی آگے بڑھا آپ کے کندھے پر وار کیا پھر سنان بن انس نے نیزے سے حملہ کیا (جس کے بعد آپ نے غالبا سجدہ کی حالت اپنا لی حافظ ابن کثیر نے یہ نہیں لکھا) پھر (شمر) سواری سے نیچے اترا اور آپ کی گردن مبارک کو تن سے جدا کر دیا.

صفحہ 265

غیروں سے شکوہ نہیں؛ اپنوں سے عرض ہے جلالی صاحب پر جعلی فتووں اور زبان درازیوں سے تسکین نہیں پہنچی جو اب یہ کام شروع کر دیا.

بندے دے پتر بنو!

فتدبر

فرحان رفیق قادری عفی عنہ