تاریخی کتابوں میں کتنا سچ اور کتنا جھوٹ؟

صحابہ کرام کی ناموس پر حملے سے لے کر منکر قرآن وحدیث تک ،تمام دشمنانِ اسلام کے ملت اسلامیہ پر حملوں کا طریقہ کار تقریباً یکساں رہتا ہے ۔ان میں سے اہم ترین حملہ تاریخی کتب کی روایات کے ذریعے صحاح کی روایات کو رد کرنا اور صحابہ کرام پر کیچڑ اچھالانا ہے ۔احادیث کی تدوین کا کام خلافت بنو امیہ کے دور میں ہوا ۔اس کو دلیل بنا کررافضی اور ان کے ہم نوا کتب صحاح پر طعن کرتے ہیں ،حتی کہ معاصر محقق ظہور احمد فیضی شیعی صاحب نےشبلی نعمانی کا حوالہ دیا بنو امیہ کے دور میں فضائل امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے احادیث گھڑی گئی جبکہ موصوف کی نقل کردہ عبارت کے ساتھ ہی شبلی نعمانی نے لکھا :

عباسیوں کے زمانہ میں ایک ایک خلیفہ کے نام بنام پیشن گوئیان حدیثوں میں داخل ہوئیں لیکن نتیجہ کیا ہوا،عین اسی زمانہ میں محدثین نے علانیہ منادی کر دی کہ یہ سب جھوٹی روایتیں ہیں آج حدیث کا فن اس خس وخاشاک سے پاک ہے ۔

سیرت النبی جلد 1 صفحہ 67

الاحادیث الموضوعہ صفحہ 26

احادیث اسلام کاایک اہم مصدر ہونے کی بنا پر ہمیشہ علماء کی توجہ کا مرکز رہیں ہیں اسی لیے رافضیوں ناصبیوں کی روایت کردہ موضوع احادیث کی چھان پھٹک شروع سے ہی ہو گئی ۔تاہم کتب تاریخ جن کی تدوین بعد میں ہوئی ان کی طرف خاص توجہ نہ دی جاسکی ۔اور اس پر طرہ یہ کہ ان کی تدوین بھی زمانہ عباسیہ میں ہوئی جن کے بادشاہ بنوامیہ کے سخت خلاف تھے حتی کہ بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے صحابہ کرام پر بھی تنقید کرتے نہیں تھکتے تھے ۔

شبلی نعمانی لکھتا ہے :

ان المورخین باسرھم کانواباسرھم فی عصربنی العباس و من المعلوم انہ لم یکن یستطیع احد ان یذکر محاسن بنی امیہ فی دولۃ العباسیین فاذا صدر من احد شی من ذلک کان یقاسی قائلھا انواعا من الھتک والایذء وخامۃ العاقبۃکم لنا من امثال ھذہ فی اسفار التاریخ ،

الانتقاد علی کتاب التمدن اسلامی صفحہ 24

اسلامی تاریخ کے مورخین عموما ً بنو عباس کے عہد میں پیدا ہوئےاور یہ بات بھی معلوم ہے کہ عباسیوں کے عہد میں بنو امیہ کی خوبی کی کوئی چیز اتفاقا صادر ہو جاتی تو اس کے قائل کو کئی قسم کی ایذاوں کا سامنا کرنا پڑتا اوربے عزتی کے ساتھ ساتھ ناموافق انجام سے بھی دوچار ہونا پڑتا تھا ادوار تاریخ میں اس قسم کی کئی مثالیں موجود ہیں ۔

صرف اتنا ہی نہیں بلکہ کتب تاریخ میں نقل کردہ روایات میں سے اکثر کذاب و دجال ہوں تو ایسی صورت حال میں ان پر اعتماد کر کے صحابہ پر طعن کرنا اور احادیث پر اعتراض کرنا سوائے حماقت کے کچھ نہیں ۔

شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر ہیں برساتے

دیوار اہنی پے حماقت تو دیکھیے

تاریخی کتب کے غیر معتمدروایات سے بھرپور ہونے اور مورخین کی بے راروی کی بنا پراکابر ناقدین نے بھی ان کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا ہے ۔بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ جیسے حذاق عالم نے قطعی طور پر کتب تواریخ سے منہ موڑ لیا ۔

امام اہلسنت امام احمد رضا خان بریلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

تضجرا الذھبی عن خلاعۃ اکثر السیر و التواریخ فعافھا عن اخرھا واطمان الی دلائل البیہقی قائلا انہ النور کلہ

ذہبی سیرت اور تاریخ کی اکثر کتا بوں کی بے شرمی سے پریشان ہوئے تو انہوں نے اول سے آخر تک سب کو چھوڑا اور دلائل بیہقی پر مطمئن ہوئے اور فرمایا وہ سراسر نورہے ۔

فتاوی رضویہ جلد 28 صفحہ 544رسالہ الزلال الانقی من بحر سبقۃ الاتقی

کتب تورایخ میں اہم ترین نام حافظ ابن جریرطبری کی کتاب “تاريخ الرسل والملوك” ہے ۔جو کہ خاص وعام کے ہاں تاریخ طبری کے نام سے مشہور ہے ۔

حافظ ابن جریر کا مکمل نام محمد بن جرير بن يزيد بن كثير بن غالب الآملي، أبو جعفر الطبري ہے۔

اگرچہ ان کی کتاب سے قبل بھی تاریخ فتوح الشام ، مغازی للواقدی،یعقوبی اور بلاذری وغیرہ کی کتب موجود تھیں لیکن اس کتاب کو جو پیزرائی حاصل ہوئی وہ اُن کو نہ ہو سکی ۔یہی وجہ ہے بعد میں آنے والے ہر مورِخ نے تاریخِ طبری سے سیر حاصل استفادہ کیا اور ان کی روایات کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے خواہ وہ الکامل ابن اثیر ،المحن ،ابن خلدون اور البدائیہ والنہائیہ ہی کیوں نہ ہو ۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ پر طعن کرنے والےشیعہ خواہ معاصر ہو جیسا کہ قاری ظہور فیضی یا ماضی قریب میں گزر چکے ہوں ۔ان کا مقصد کتب تورایخ کی روایات کے بغیر پورا نہیں ہوسکتا۔جب ان روایات پر تحقیق کی جاتی ہے اکثرکا اصل مخرج تاریخ طبری ہی نکلتا ہے ۔تاریخ طبری کی بلامبالغہ اسی فیصد سے زائد روایات ضعیف اور کذاب راویوں کی روایت کردہ ہیں۔معاصر محقق دکتورخالد کبیر علال طبری کی روایات کاخاکہ پیش کیاہے لکھتے ہیں :

کذاب راویوں میں سے

پہلا راوی:محمد بن سائب کلبی ہےمیں نے غور کیا کہ اس کی12روایات کتاب میں ہیں ۔

دوسرا راوی:ہشام محمد بن کلبی55 روایات کتاب میں موجود ہیں۔

تیسرا راوی:محمد بن عمر واقدی اس کی 440 سے زائد روایات مجھے ملی ۔کثیر مقام پر صرف اس کانام کی محمد بن عمر ہی مذکورہے۔(یاد رہے یہ تحقیق ڈاکٹرخالد کبیر علال کی ہے جبکہ سیدی امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ نے واقدی کوثقہ شمارکیا ہے ۔)

چوتھا راوی:سیف بن عمر تمیمی اس کی 700 سے زائد روایات مجھے ملیں۔

پانچواں راوی: ابومخنف لوط بن یحیی اس کی 612 سے زائد روایات مجھے ملیں۔

چھٹا راوی : ہیثم بن عدی اس کی 16 روایات مجھے ملیں ۔

آخری راوی : محمد بن اسحاق بن یسار جوکہ متہم بالکذب ہے ۔اس کی 164 سے زائد روایات مجھے ملیں ۔

ان کذاب راویوں کی روایات کا مجموعہ 1999 بنتا ہے جو کہ تاریخ طبری میں موجود ہے یہ بڑے اخباری کذاب راویوں کی طرف سے بہت بڑی تعداد ہے۔

پانچ بڑے ثقہ اخباری راویوں کی روایات کتاب میں درج ذیل ہیں :

زبیر بن بکار: اس کی8 روایات ہیں ۔محمد بن سعد اس کی 164 روایات ہیں ۔

موسی بن عقبہ: اس کی 7 روایات ہیں ۔

خلیفہ خیاط اس کی صرف ایک روایت مجھے ملی ۔

وہب بن منبہ: 46 روایات ہیں

ان سب کا مجموعہ 209 روایات ہیں ۔

مدرسۃ الکذابین فی روایۃ التاریخ صفحہ ۔50۔51

ابن جریر طبری اکثر علماء کے نزدیک سنی تھے حافظ ذہبی نے تشیع یسیر لکھا ہے ۔جبکہ شیخ الحدیث علامہ محمد علی نقشبندی رحمہ اللہ نےبعض وجوہات کی بناپر تشیع کا قول کیا ہے ۔اگر وہ صحیح ثابت ہو تو ان کے تشیع میں شک نہ رہے ۔خیر ۔۔

حافظ طبری رحمہ اللہ نے مقدمے میں اقرار کیا ہے کہ مجھے جو کچھ ملا ہے میں نے ڈال دیا ۔میں نے ایسی باتیں بھی ڈال دی ہیں جو پڑھنے والے کو قطعاً پسند نہ آئے گی ۔ لکھتے ہیں :

فما يكن في كتابي هذا من خبر ذكرناه عن بعض الماضين مما يستنكره قارئه، أو يستشنعه سامعه، من أجل أنه لم يعرف له وجها في الصحة، ولا معنى في الحقيقة، فليعلم انه لم يؤت في ذلك من قبلنا، وإنما أتى من قبل بعض ناقليه إلينا، وإنا إنما أدينا ذلك على نحو ما أدي إلينا.

تاریخ طبری جلد 1 صفحہ 8

میری اس کتاب میں میری طرف سے ذکر کردہ پچھلے زمانے کی وہ باتیں جن کو پڑھنے والا اچھا نہ سمجھے ،سننے والے کو گراں گزریں بوجہ یہ کہ نہ ان کاصحیح ہونا معلوم ہوا اورحقیقی طور پر بھی وہ کوئی معنی نہیں رکھتی ۔جان لیا جائے کہ ایسی باتیں میری طرف سے نہیں ہیں ،بلکہ وہ بعض ناقلوں نے ہم تک پہنچائی اور ہم نے اسی طرح نقل کر دیں جس طرح ہم تک پہنچی ۔

اس عبارت سے حافظ طبری خود تو بری الذمہ ہو گئے ۔لیکن جمع روایات کی بنا پر طاعنین کو موقع مل گیا بلا تنقیح جو بھی روایت اپنے مطلب کی ملے گی اس کو عوام میں پھیلا کر نظریات خراب کیے جائیں گے ۔اس سے بھی کہیں زیادہ ظلم کتب تواریخ بالخصوص طبری کا اردو ترجمہ کرنے والوں نے کیا ہے کہ عوام میں فقہاہت و کلام کی بجائے تاریخ پڑھنے کا ذوق زیادہ ہوتا ہے جب اردو داں قاری جمل و صفین ،تحکیم و قتلِ حجر،سب و شتم یا واقعہ کربلا کے متعلق گھسی پٹی روایات پڑھنے سےصحابہ پر طعن کرے گا تو اس کا سہرہ مترجمین کے سر ہی جائے گا۔اور ایسا ہی ہو رہا ہے. منبروں پر گالیاں دینا؛ ستر سال لعن طعن کرنا وغیرہ ساری جھوٹی روایات انہی کتبِ تواریخ کی عطا کردہ ہے ۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ۔۔۔

*اکابر محققین کتب تورایخ کی ازسر نو جانچ پڑتال کریں ۔من گھڑت روایات کی نشاندہی کریں ۔

*ترجمہ کرنے والے حضرات ہر روایت کے تحت اس کی سندی حیثیت بھی بیان کریں تاکہ عوام پھسلنے سے محفوظ رہیں ۔

*عوام کتب تواریخ کی کوئی بھی بات جو کسی مسلمہ شخصیت یا عقیدے پر طعن کا سبب بنتی ہواس کو قطعاًقبول نہ کریں کہ عقائد اسلامیہ ،عظمت صحابہ و اہلبیت قرآن و احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے۔اس کو چھوڑ کر تاریخ پر یقین کرناعروہ وثقی کو چھوڑ کر کچے دھاگے کو پکڑنے کے مترادف ہے جس کا ادنی سا انجام بھی گمراہیت ہے ۔

فتدبر

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

11/9/2020

جمعۃ المبارک