أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ يُّكَذِّبُوۡكَ فَقَدۡ كُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِكَؕ وَاِلَى اللّٰهِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ۞

ترجمہ:

اور اگر یہ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں تو آپ سے پہلے کتنے ہی رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے اور تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں

اس کے بعد فرمایا، اگر یہ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں تو آپ سے پہلے کتنے ہی رسولوں کی تکذیب کی گئی ہے اور تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں۔ (فاطر : ٤)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینا 

اس آیت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ فکار کا عطن وتشنیع کرنا اور دل آزار باتیں کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے، آپ اس پر رنج اور افسوس نہ کریں اور جس طرح پہلے انبیاء نے کفار کی باتوں پر صبر کیا تھا آپ بھی صبر کریں۔

عقائد اسلامیہ کے تین اصول ہیں، توحید، رسالت اور آخرت، اس سے پہلی آیت میں توحید کا ذکر تھا اور اس آیت کے پہلے حصے میں رسالت کا ذکر ہے اور اس کے آخری حصہ میں آخرت کا ذکر ہے، کیونکہ فرمایا اور تمام کام اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

القرآن – سورۃ نمبر 35 فاطر آیت نمبر 4