سیاسیا:

شاید کم لوگوں کو علم ہو کہ چنگیز خان نے ایک قانونی کتاب مرتب کروائی تھی، اس کا نام “سیاسیا “تھا ۔اب یہ کتاب نہیں ملتی لیکن اس کے کچھ اقتباسات جوینی کی کتاب میں مل جاتے ہیں ۔ ابو زھرہ المصری نے اپنی کتاب “امام ابن تیمیہ ” میں (ص 255 ) علاؤالدین عطا ملک جوینی سے ایک اقتباس نقل کیا ہے ۔👇

“سیاسیا کے زیادہ تر اصول و قوانین کتب سماوی سے متصادم ہیں ۔سیاسیا میں انتہائی سخت اصول بنائے گئے ہیں ۔انہوں نے قتل کے جرم کے علاوہ بھی بہت سے ایسے جرائم متعین کئے ہیں جن کی سزا موت مقرر کی گئی ہے ۔مثلا زنا کے مرتکب کو قتل کیا جائے گا خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ۔

لواطت کا مرتکب قتل کیا جائے گا ۔

عمدا جھوٹ بولنے والا۔۔۔اور جادو کرنے والا قتل کیا جائے گا ۔

جوشخص دو جھگڑا کرنے والوں کے درمیان دخل دے کر کسی ایک کی مدد کرے، وہ واجب القتل ہو گا ۔

جو ٹہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرے وہ قتل کر دیا جائے گا

جو اس پانی میں غوطہ لگائے(غالبا مراد نہانے سے ہے ) وہ بھی قتل کیا جائے گا ۔

جو کسی قیدی کو کھانا کھلائے یا پانی پلائے، اسے قتل کیا جائے گا ۔

فرار ہونے والا قتل کیا جائے گا ۔

جس نے کسی حیوان کو ذبح کیا وہ بھی اسی طرح ذبح کیا جائے گا بلکہ اس کا سینہ کاٹ کر دل نکال لیا جائے گا “

یہ اقتباس ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ جلد 13 میں بھی دیا ہے ۔

ایسے قوانیں پر چلنے والی قوم کس قدر خونخوار اور وحشی ہو گی، اس کی مثالوں سے تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں ۔ بارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی تاتاریوں کی وحشت انگیزیوں اور بربریت کی شاہد ہے ۔

بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا تب بھی علماء نے ان سے جنگ کو “جہاد ” کا درجہ دیا ۔تاتاریوں کی وحشت انگیزیوں کو مصر کے مملوک سلاطین نے روکا اور “عین جالوت” کے معرکہ میں انہیں عبرت ناک شکست دی ۔یہ معرکہ اگست 1260 میں پیش آیا ۔ اس واقعے کے دو سال بعد امام ابن تیمیہ کی پیدائیش ہوئی ۔بعد میں بھی شام اور مصر کی فوجوں کو تاتاری لشکروں سے بھڑا دینے میں امام ابن تیمیہ کا بڑا حصہ تھا، وہ خود بھی ان جنگوں میں شریک ہوئے اور اسے “جہاد” کہا در آں حالیکہ تاتاری مسلمان ہو گئے تھے ۔ شام اور مصر کے دیگر علماء نے بھی تاتاریوں سے جنگ کو “جہاد” سے تعبیر کیا ۔

اس پر الگ سے تحقیقی کام ہونا چاہیے کہ یہ وحشی قوم جب مسلمان ہوئ اور تمدنی زندگی کی طرف آئ تو کس نہج کا معاشرہ اور تمدن فروغ پایا ۔

(نگار سجاد ظہیر )