مریدِ رن ،مرید شیخ سے افضل ہے!

بدلتی دنیا میں فقہی مسائل سے لے کر دعوتِ اصلاح تک،

تعلیم و تعلم سے خطابت کے راگ تک،

مسجع مقفی کلام تیار کرنے سے گفتگو کے الفاظ تک، بسترِ آرام کی کیفیت سے بیگم کی پکار تک وغیرہ ہر چیز میں تبدیلی واقع ہوئی.

بلکہ اسی کے ساتھ ساتھ بعض چیزوں نے بعض کی جگہ اختیار کر لی، ماضی میں کارہائے نمائیہ سرانجام دینے والی جماعتوں کی جماعتیں بدل گئیں حتی کہ جن سے توقع دودھ کی تھی وہ دہی دے رہے ہیں اور جن سے امید اصلاحِ نفس کی تھی وہ اصلاحِ بطن میں مشغول ہے

اسی پر تو مولا عزوجل نے فرمایا

وَتِلكَ الأَيّامُ نُداوِلُها بَينَ النّاسِ

یہ دنوں کی گنتیاں ہیں جو ہم لوگوں میں پھیرتے رہتے ہیں.

ماضی میں شیخِ کامل کی بیعت کا مقصد راہ راست پر رہنا، تزکیہ نفس کرنا، اپنی “میں” کو مارنا، تکبر ختم کرنا، دل کو صاف کرنا، عاجزی اختیار کرنا، لوگوں سے اچھا سلوک کرنا اور ظلم نہ کرنا وغیرہ وغیرہ معاملات تھے اسی لیے شیوخ اور پیرانِ عظام اپنے مریدین کو ایسے کاموں پر معمور کرتے، جن سے ان کی “انا” تباہ ہو جاتی، وہ عجز و انکساری کے پیکر بن جاتے ان تقوی، پرہیزگاری ان کے چہرے سے چھلکتا تھا ان کو دیکھ کر بڑے بڑے گناہ گار بھی توبہ کرلیتے….کسی کو لنگر خانے کی ڈیوٹی دی جاتی کسی کو طلبہ کے جوتے دیکھنے کی، کوئی آستانے پر جھاڑو دیتا اور کوئی سقایا بنا ہوتا….

اب مریدینِ شیوخ میں یہ باتیں دور دور تک نظر نہیں آتی، مرید ہو کر کبر و تکبر میں مبتلا ہیں تزکیہ نفس رہا اور نہ میں مری کیونکہ ایسے مریدوں کے شیوخ بھی مال کمانے، تجوریاں بھرنے رفض پھیلانے میں مشغول ہیں.

آج جب ہم معاشرے میں نظر دہراتے ہیں تَو؛ ایک کامل شیخ کے مریدِ کامل کی صفات ہمیں مریدِ رن میں بدرجہ اولی بلکہ اتم نظر آتی .

کہ مریدِ رن کی “میں” مر چکی ہوتی ، عجز و انکساری اس کے چہرے سے چھلکتی ہے. صبح، شام، گرمی سردی، خزاں، بہار سڑکوں پر مجذوبوں کی طرح گھومنا، لمبی لائنوں میں لگنا، برتن دھونا، جھڑکیاں کھانا، وغیرہ اس کی زندگی کا دستور بن جاتا ہے، اگر اس کے دل کا حال دکھیے تو غم و حزن سے بھرپور آنکھیں کالی ، جو دیکھے ترس کھائے، خواہشات اور لذات نام کی چیز نہیں، اسی حال میں مر جائے تو مرتبہِ شہید کی امید؛ بچ جائے تو قیدی، تزکیہ نفس اتنا کہ نہ کسی شی کی تمنا، نہ کچھ کرنے کی لگن ہر وقت خوف و حزن کی کیفیت طاری کہ دنیا سے دل اچاٹ درجے کو دیکھو تو فنافی الشیخ سے بات آگے جا چکی،…… الی لانہایہ!!

الامور بمقاصدھا

آج پیری مریدی کا مقصد رن مریدی میں کافی حد تک پورا ہوتا نظر آرہا اسی بنا پر ہم کہتے ہیں مریدِ رن مرید شیخ سے افضل ہے!

فتدبر

فرحان رفیق قادری عفی عنہ

( نوٹ: اس تحریر میں جعلی پیری مریدی سے تقابل کیا گیا ہے)

19/9/2020