میٹرک پاس بچوں اور والدین کے لیے چند تجاویز

از: افتخار الحسن رضوی

میٹرک کے نتائج آ گئے ہیں، اس حوالے سے طلباء و طالبات اور والدین کے لیے کچھ تجاویز پیشِ خدمت ہیں؛اپنے بچوں کو ٹیکنیکل ایجوکیشن کی طرف لائیں۔

کمپیوٹر سائنس:

کمپیوٹر سائنسز میں گرافکس، ویب ڈویلپمنٹ، سوفٹ وئیر ڈویلپمنٹ، ہارڈوئیرز اور نیٹورکنگ۔ کمپیوٹر سے متعلقہ ان کورسز پر زیادہ اخراجات بھی نہیں ہیں اور دو سال کے ڈپلومے سے بچہ بہت کچھ سیکھ جاتا ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ کسی مناسب جگہ پر تھوڑی سے تنخواہ بلکہ مفت میں پریکٹیکل کام مل جائے تو سیکھنے میں حرج نہیں ہے۔ پاکستان میں ایک انفرادی سطح پر کام کرنے والا بنیادی گرافکس ڈیزائنر اور ویب ڈویلپر بآسانی ایک لاکھ روپے ماہوار کما سکتا ہے۔

پیر ا میڈیکل کورسز:

ایکسرے، الٹراساؤنڈ، سی سی یو ٹیکنیشن، ڈائلسز ٹیکنشن، اپریشن تھیٹر ٹیکنیشن، نرسنگ، بائیو میڈیکل انجنئرنگ، ای سی جی ٹیکنیشن، ایم آر آئی، فزیو تھیراپی وغیرہ ایسے کورسز ہیں جو ایک سال سے لے کر پانچ سالہ ڈگری پروگرام تک دستیاب ہیں، اندرون و بیرون ملک اس کی اچھی مانگ ہے۔

مکینکل کورسز:

مشین آپریٹرز، سی این سی، ہیوی ایکوئپمنٹس، ڈرلنگ، ڈیزل و پٹرول انجنز، مینٹیننس وغیرہ کے کورسز کروائیں۔ اندرون و بیرون ملک کار مینوفیکچرنگ اینڈ سروسز انڈسٹریز میں اس کی اچھی مانگ ہے۔

سول انجینئرنگ:

سول میں آٹو کیڈ، ڈرافٹس مین سمیت بہت کچھ آ جاتا ہے، بلکہ بعض ادارے تو آرکیٹکچرل انجنرنگ کے شعبے میں بھی سول کے بندے رکھ لیتے ہیں۔ اس میں سروئیر سے لے کر سائٹ پر execution تک کے سارے کام آ سکتے ہیں۔

سرِ دست یہی مختصر تجاویز ہیں، ورنہ اس پر کئی صفحات لکھے جا سکتے ہیں اور وقت کی قلت ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کریں، ان کا اعتماد کا لیول بلند کریں۔ ان سے مشاورت کریں اور انہیں مشاورت کرنا سکھائیں۔ ان پر اپنے احکام مسلط نہ کریں ، بچے کے ذہن میں موجود خیالات و افکار جاننے کی کوشش کریں۔ باپ کو چاہیے کہ بیٹے کا دوست بن کر بات کرے تاکہ وہ کھل کر اظہار خیال کر سکے۔

بچوں کو پیسے کمانے کا لالچ نہ دیں بلکہ بتائیں اور سمجھائیں کہ مستقبل میں وہ اپنی انڈسٹری میں ایک معزز رکن اور کامیاب پروفیشنل کیسے بن سکتے ہیں۔

افتخار الحسن رضوی

20 ستمبر 2020

IHRizvi