کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر نزول کے بعد وحی نازل ہو گی ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

احادیث صحیحہ میں یہ بات ذکر ہے کہ جب حضرت مسیح علیہ السلام دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے تودجال کو قتل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ آپ پر وحی نازل فرمائیں گے ۔حضرت امام بخاری اور امام مسلم رحمہما اللہ روایت فرماتے ہیں :

فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى إِنِّي قَدْ أَخْرَجْتُ عِبَادًا لِي لَا يَدَانِ لِأَحَدٍ بِقِتَالِهِمْ فَحَرِّزْ عِبَادِي إِلَى الطُّورِ

’’ عیسیٰ علیہ السلام اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی فرمائے گا کہ میں نے اپنے کچھ بندوں کو نکالا ہے جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں ہے ۔آپ میرے بندوں کو طور کے پاس جمع کریں ۔‘‘

یہ حدیث متفق علیہ ہے اور اس میں واضح طو ر پر لکھا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر اللہ رب کریم وحی فرمائیں گے ۔مگر یاد رہے کہ آپ پر یہ وحی اللہ کا نبی ہونے کے سبب نازل کی جائے گی اور یہ مقام صرف آپ کے ساتھ ہی خاص ہے ۔آپ کی بعثت نبی کریم ﷺ سے قبل ہو چکی ہے آپ کی آمد ثانی نبوت مطلقہ کے ولی کی حیثیت سے ہو گی ۔شیخ اکبر علیہ الرحمۃ کی نبوت لا تشریع کی توضیح کے تناظر میں جب اس طرح کی صحیح احادیث کو پڑھا جا تا ہے تو تمام اشکالات دور ہو جاتے ہیں ۔

عمیر محمود صدیقی