ایک شاگرد نے دورہ حدیث شریف مکمل کیا ہے ، وہ نصیحت کا طالب تھا ، سو اُس کے حسبِ حال یہ نصیحت کی :

🥀 آپ مسلمان ہیں ، اور سُنی ہیں ؛ ہمیشہ کے لیے یہی آپ کا تشخص ہونا چاہیے ۔

کبھی بھی نانک شاہی ( صلح کلی ) نہیں بننا ، نہ نانک شاہیوں سے بلاوجہ تعلقات بنانے ہیں ۔

🥀 جہاں بھی جاؤ ، جس کے سامنے بھی جاؤ ……….. آپ کی پہچان سُنی کے طور پر ہونی چاہیے ۔

جب کسی بدمذہب کے سامنے آپ اپنا تشخص چھپا رہے ہوتے ہیں تو وہ آپ کو بے وقوف نہ بھی سمجھے ، احساس کمتری کا شکار اور ایک بے یقینا انسان ضرور سمجھے گا ۔

🥀 بعض لوگ جب تھوڑے بہت مشہور ہوتے ہیں اور چار بندے ان کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں تو وہ آلو کی طرح ہو جاتے ہیں ۔ جیسے:

آلو ہر ہانڈی کا حصہ بن جاتا ہے ( چاہے اسے گوبھی میں ڈال لو ، گوشت میں ڈال لو ، دال میں ڈال لو ) ، اسی طرح وہ بھی سارے فرقوں میں گُھل مل جاتے ہیں ۔

آپ نے کبھی بھی ایسا نہیں بننا ، ایسا ہونا کم ظرفی ، کوتاہ فہمی اور بے عقلی کی علامت ہے ۔

🥀 اہل سنت ، صراط مستقیم پر گامزن عظیم ” جماعت ” ہے ، اور بقیہ سب فرقے ہیں ۔

جماعت پرسایۂ رحمت ہوتاہے ، جماعت سے کبھی بھی الگ نہیں ہونا چاہیے ۔

🥀 اہلِ سنت کی سب سے پیاری علامت ، رسول اللہ ﷺ سے بے پناہ اور بے حد محبت ہے ۔

آپ کی شخصیت سے اس علامت کا ہمہ‌وقت اظہار ہونا چاہیے ۔

جو آپ کے پاس بیٹھے ، وہ حبیب پاک ﷺ کا ذکر سنے بغیر نہ اٹھے ۔

✍️لقمان شاہد

24-9-2020 ء