رقصا ہوا بسکٹ
از: افتخار الحسن رضوی
جن دنوں میں Dow Corning Sealants کی خلیجی ممالک میں بزنس ڈویلپمنٹ ٹیم کا حصہ تھا تو مجھے کچھ نئی مصنوعات کے لیے مارکیٹنگ پلانز بنانے تھے۔ ہمارے بحرین اور دبئی میں واقع سنٹرز میں ہندوستانی ٹیم بھی شامل تھی۔ Two Component Structural Glazing Sealant اہم پروڈکٹ تھی اور اسے فوری طور پر متعارف کروایا جانا اہم ہدف تھا۔ میں نے پوری مارکیٹنگ اور بزنس ڈویلپمنٹ ٹیم سے ای میل کے ذریعے سفارشات اور آراء طلب کیں، جس کی مدد سے ہم پلاننگ اور مارکیٹنگ کیمپین شروع کرنے والے تھے۔ اس ٹیم میں ہندوستان کے علاوہ عرب، افریقہ اور یورپ سے کچھ لوگ شامل تھے اور میں اکیلا پاکستانی۔ کچھ دنوں کے بعد review meeting ہوئی، دو ہندوستانیوں نے اپنی سفارشات میں لکھا ہوا تھا کہ “ہندوستان کی فلاں فلاں ماڈلز/اداکاراؤں کو برانڈ ایمبیسڈر بنا لیا جائے، پروڈکٹ فورا معروف ہو جائے گی”۔
میں یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ ایک کیمیکل جو گلاس، ایلومینیم، میٹل اور کنسٹرکشن انجنئرنگ میں استعمال ہوتا ہے، اس کی برانڈنگ، مارکیٹنگ اور پروموشن میں ایک ماڈل عورت کی نمائش کس گندی اور ناکارہ ذہنیت کی عکاس ہے۔ اس معاملے پر کئی برسوں سے سوچتا آیا ہوں، لیکن اب میں اس پر مزید نہیں سوچوں گا، کیونکہ حال ہی میں میری نظروں سے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بننے والا ایک ایسا اشتہار آیا ہے جہاں ایک عدد بسکٹ پروڈکٹ کے لیے ایک چیف رقاصہ کو مع درجنوں رقاصاؤں کے ایسے نچایا گیا ہے کہ لوگ بسکٹ تو شاید نہ خرید پائیں، البتہ یوٹیوب پر اس کا کمرشل دیکھ دیکھ کر کمپنی کو اچھا revenue ضرور دلوا سکیں گے۔ ویسے بھی جو ٹھمکے اور ٹھرکے اس میں دکھائے گئے ہیں اس سے ریاستِ مدینہ کی جدت پسندی، فلاحی اور روشن خیالی والی کیمپین کو بہت تقویت ملی ہے۔
کمرشل ایڈز میں عورت کے وجود ہی کی وجہ سے dark webs کا بزنس چلتا ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے ٹاپ ممالک میں ہے جہاں نوجوان لڑکیاں اور لڑکے سب سے زیادہ porn سرچنگ کرتے ہیں۔ یہی وجوہات ہیں کہ پاکستان کے تمام شہروں میں وال چاکنگ کی جاتی ہے “مردانہ کمزوری کا مکمل علاج، نسوانی حسن بحال کریں”۔ یہ ایڈز بلا وجہ نہیں آتیں ، اس ملک میں سرکاری سطح پر فحاشی کی پروموشن اخلاقی موت کا سبب ہے۔ ایسی صورت حال میں آپ کی نیو کلئیر ٹکنالوجی، میزائل اور ڈیفنس سسٹم کبھی کام نہیں کرے گا، کیونکہ ہمارے اخلاقی ڈیفنس کا جنازہ ٹھمکوں کی مدد سے نکالا جا رہا ہے۔
اب مجھے وہ ہندوستانی کی فکر اچھی لگ رہے کیونکہ sealants business کی پروموشن میں فقط عورت کی تصویر دکھائی جاتی، لیکن یہاں تو بسکٹ بیچنے کی خاطر اسے نچایا گیا ہے۔
افتخار الحسن رضوی
8 اکتوبر 2020

IHRizvi