تصوف

رجاء(اُمید) کے بارے اقوال:

کہا گیا ہے کہ محبت کرنے والے کریم اللّٰهﷻ سے سخاوت کا یقین “رجاء” ہے۔

یہ بھی کہا گیا ہے کہ اللّٰهﷻ کے جلال کو جمال کی آنکھوں سے دیکھنا “رجاء” ہے۔

کسی نے کہا، دل کے اللّٰهﷻ کی مہربانی کے قریب ہونے کو “رجاء” کہتے ہیں۔

کسی نے کہا، اللّٰهﷻ کی وسعتِ رحمت کی طرف نظر کرنا “رجاء” ہے۔

حضرت ابوعلی روذباری علیہ الرحمہ فرماتے تھے:

“خوف اور رجاء ایک پرندے کے پروں کی طرح ہیں۔ جب دونوں برابر ہوتے ہیں تو پرندہ بھی سیدھا رہتا ہے اور اس کی اڑان مکمل ہوتی ہے۔ اور جب ان میں سے کسی ایک میں کمی آ جائے تو اس کے اڑنے میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اور جب دونوں چلے جائیں تو پرندہ مردوں کی طرح ہوجاتا ہے۔”

حضرت احمد بن عاصم انطاکی علیہ الرحمہ سے پوچھا گیا کہ بندے میں “رجاء” کی علامت کیا ہے۔

انہوں نے فرمایا: “جب بندے کو اللّٰهﷻ کے احسانات نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہو تو اللّٰهﷻ اس کے دل میں شُکر کا خیال ڈال دے جس کی وجہ سے وہ دنیا میں نعمت کی تکمیل اور آخرت میں عفو ودرگزر کے پورا ہونے کی امید رکھے۔”

حضرت ابوعبداللّٰه بن خفیف علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

“اللّٰهﷻ کی نعمت پر خوشی کا نام “رجاء” ہے۔

اور فرمایا: “اللّٰهﷻ سے جس محبوب کرم کی امید رکھی جاتی ہے، اسے دیکھ کر دلوں کا خوش ہونا “رجاء” ہے۔

حضرت ابوعثمان مغربی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

“جس شخص نے اپنے نفس کو صرف “رجاء” (امید) پر رکھا اس نے عمل کو ترک کردیا اور جس نے اپنے نفس کو صرف “خوف” پر رکھا وہ مایوس ہوگیا اسے کچھ نفس پر “رجاء” اور کچھ پر “خوف” رکھنا چاہیے۔

رسالہ قشیریہ از امام عبدالکریم القشیری علیہ الرحمہ

اردو ترجمہ شیخ الحدیث مفتی محمد صدیق ہزاروی