یومِ رضا

اہلِ سنت وجماعت کے نام ایک درد بھرا پیغام

۔

پاک وہند والے وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن کےلئے کہا گیا “اُنْزِلَ القرآنُ فی العرب وقُرِءَ فی المصر وعُمِلَ فی الھند “

اہلِ سنت وجماعت پر اللہ کا خصوصی کرم رہا ہے کہ کئ ایک نابغہ روزگار ہستیاں اس جماعت میں جنم لیتی رہیں ۔اہم شخصیات میں بہت بڑا نام سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت علیہ الرحمۃ کا ہے ۔

اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت کے بارے میں تلمیذِ مَلِکُ المدرسین لکھتے ہیں !اعلٰی حضرت کی تصنیفات جہاں اُن کی بےمثل تَبَحّرِ علمی کی غمازی کرتی ہیں وہاں اس بات کی بھی واضح نشاندہی کررہی ہیں کہ وہ اپنی تحریری دستاویزات کی روشنی میں ایک طرف توحیدِ خالص کے علمبردار تھے تو دوسری طرف عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیکرِ مجسّم نظر آرہے ہیں ۔

ہم لوگوں میں سے کئیوں نے یہ بات سُن رکھی ہے کہ کنزالایمان محبتِ رسول وعشقِ الٰہی میں ڈوبا ہوا ترجمہ قرآن کریم ہے ۔

کنزالایمان شریف کی حقیقی خصوصیات وعلمی دنیا میں کنزالایمان کا تقابلی جائزہ لینے کے پڑھئے تفسیرُ مدارج العربان فی التقابل بین تراجم القرآن ۔۔۔۔ تین جلدوں پر مشتمل اس کتاب کو پڑھتے پڑھتے آپ عشق رضا ومحبتِ رضا میں باربار جھوم کر کہہ اٹھیں گے یا سیدی امام احمد رضا تیرا شکریہ کہ تُونے کنزالایمان شریف لکھ دیا ۔۔۔۔۔

.

(نوٹ ۔۔۔۔۔۔اگر آپ نے منطق، علم الکلام وفنّ بلاغت کو سرسری نظر سے وقت گزاری کرتے ہوئے پڑھا ہے تو مدارج العرفان فی التقابل بین تراجم القرآن کو ہاتھ بھی مت لگائیے)

آمدم برسرِ مطلب ۔

اِس وقت پاکستان میں کئ ایک سُنی ادارے درسیات کے حوالے سے اپنے اپنے طور پر مدارس چلا رہے ہیں ۔اِن اداروں سے ہر سال کئ فاضلیں فارغ التحصیل ہوکر سندِ فراغت حاصل کرتے ہیں ۔

ایک سوال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیا اداروں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلباء میں فتاوٰی رضویہ شریف ودیگر کتبِ امام اہلِسنۃ سمجھنے کی صلاحیت ہے؟؟؟ اگر صلاحیت ہے تو فبھا اور اگر نہیں تو کیوں؟؟؟..

ممکن ہے اداروں کے منتظمین حضرات کہہ دیں کہ آجکل کے طلباء نالائق ہیں اُن کی ذہنی صلاحیت کمزور ہے اِس وجہ اکثریتی کورے کے کورے ہی سند حاصل کررہے ہیں ۔

۔

منتظمین کا یہ جواب جی چرانے، حقیقت سے منہ چھپانے کے مترادف ہے ۔

عقل ونقل دونوں اِس بات کو قبول کرنے سے مانع ہیں کہ آجکل کے طلباء نالائق وکند زہن ہیں ۔

حقیقت اور گہری نگاہ سے دیکھا جائے تو آج کے طلباء بھی انتہائی ذہین ہیں ۔

پھر سوال پیدا ہوتا ہے آخر اِن میں وہ صلاحیت کیوں نہیں ہے جو پہلے کے علماء میں دِکھتی تھی ۔

اس سوال کا جواب ہمیں حدیثِ پاک سے مل رہا ہے وہ حدیث جس کا مورد خاص وحکم عام ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں “کُلُّ مولودٍ یُولَدُ علَی الفطْرَۃِ فابواہ یھودانہ وینصرانہ ویمجسانہ ۔۔۔۔۔۔۔۔

اس حدیث پاک سے یہ سبق حاصل ہورہا ہے کہ انسان کو تبدیل کرنے میں اُس کا ماحول افیکٹو ہے، اثر انداز ہے ۔

تو صاحب! اس حدیثِ پاک کے درس کو ملحوظ رکھ کر جب آپ آج کے طلباء کو بہترین علمی ماحول، لائق ومحنتی صاحبِ مطالعہ اساتذہ فراہم کریں گے تو آج کے طلباء بھی انتہائی باصلاحیت بن کر فارغ التحصیل ہوں گے ۔

نئے نئے نابالغ مدرسین اور اُن کے طریقہ تدریس وذوقِ مطالعہ سے اندازہ ہورہا ہے کہ اب فتاوٰی رضویہ شریف کو سمجھنے والے پہلے سے بھی زیادہ عنقاء ہوجائیں گے ۔

دوستو! ایسی درسِ نظامی جو فتاوٰی رضویہ شریف سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا نہ کرسکے تو وہ طریقہ تعلیم کلامِ الٰہی وکلامِ رسول سمجھنے کی صلاحیت کیسے پیدا کرے گی؟؟؟ پھر ایسی درسِ نظامی کا کیا فائدہ جو علم وفکر میں درستگی پیدا کرنے کی بجائے جاھل سے جاھلِ مرکّب بنادے ۔۔۔۔۔۔۔۔

یاد رہے جاھل ہونا اچھی بات نہیں ہے لیکن جاھل مرکّب بننا یہ تو اور زیادہ بری بات ہے ۔

۔

بہرحال منتظمین مدارس دستِ بستہ عرض ہے کہ مَلِک المدرسین کے باقی ماندہ دنیا میں رہ جانے والے تلامذہ کی زندگی کو غنیمت سمجھ کر منطق وفلسفہ کی کتابوں کے دروس ریکارڈ کرانے کے ساتھ ساتھ تفسیر بیضاوی واصول فقہ کی کتابوں کے دروس بھی ریکارڈ کروالیں اِن دروس سے طلباء واستاذہ استفادہ کرکے اپنی علمی کمزوریاں دور کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔۔

دروس ریکارڈ کرانے کے کئ سارے فوائد میں سے دو فوائد ۔۔۔۔۔نمبر ایک اہلِ سنت کی علمی اعتبار سے خدمت ۔۔۔۔۔۔۔نمبر 2 درسیات میں فیضانِ بندیال محفوظ ہوجائے گی۔

ان شاء الله ۔

فقیہِ سندھ ،تلمیذِ ملکُ المدرسین علامہ عطاء محمد بندیالوی نوّراللہُ مرقدہ حضرت علامہ مفتی محمد ابراہیم صاحب قادری دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں کہ ملکِ پاکستان میں درسِیات کے اندر اُستاذ العلماء، امام المناطقہ والحکماء حضرت علامہ عطاء محمد چشتی بندیالوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے ۔۔۔۔۔

مَلِکُ المدرسین کے شاگردوں میں سے ایک شاگر علامہ فضل سبحان قادری دامت برکاتہم العالیہ پچھلے 40 سال سے جامعہ قادریہ مردان خیبر پختونخواہ میں تدریس فرما رہے ہیں ۔اہلسنت کے جیّد وانہتائ معتبر ومدبّر عالم دین ہیں بڑی بات یہ ہے کہ مسلکِ اعلیٰ حضرت کے پاسبان ہیں ۔

حضرت کی علمی دورس بصورت تفسیر احکام القرآن اِن دنوں سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہورہے ۔علمی، تحقیقی وحکمت بھرے یہ دروس صرف علماء کےلئے ہیں آپ تمام علمی خدام سے گزارش ہے کہ اِن دروس ضرور استفادہ فرمائیں ۔

ہم حضرت علامہ مفتی فضل سبحان قادری صاحب سے درخواست کرتے ہیں کہ حضرت آپ یادِگار اسلاف ہیں، کہنہ مشق مدرس ہیں، چار عشروں سے تدریس فرمارہے ہیں،طلباء کی نفسیات وکمزوریوں سے آپ واقف ہیں، آپ حضرت امام الحکماء والمناطقہ سے بنفسِ نفیس استفادہ فرمایا ہے اگر آپ درسیات کی کتابوں میں سے توضیح تلویح، مسلم الثبوت مع شرح فواتح الرحموت، تفسیر بیضاوی، حاشۃ الخیالی ،شرح العقائد النسفیہ، ھدایۃ الحکمۃ، شرح التھذیب، قطبی، ملال جلال مطول، حاشیہ عبدالغفور وغیرہ وغیرہ بڑی کتابوں کے دروس ریکارڈ کروا لیں تو یہ آپ کا اہلِ سنت پر احسان عظیم ریے گا، درسیات میں فیوضِ بندیال شریف کو محفوظ رکھنے کا بھی ایک بہترین طریقہ ہوجائے گا ۔۔۔۔

اللہ پاک آپ کو اور دیگر تمام علماء اہلِ سنت کو دارین کی برکات سے نوازے ۔۔۔آمین

۔

عرض گزار خویدم العلم والعلماء محمدعظیم عطاری

12/10/2020….