مفلسی کفر تک لے جاتی ہے

از: افتخار الحسن رضوی

نظیر اکبر آبادی نے کہا تھا؛

؎خالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیر

اشراف کو بناتی ہے اک آن میں فقیر

دنیا میں کوئی بھی انسان مفلسی کا شکار ہو سکتا ہے، لیکن اہل علم میں سے خصوصا علماء کرام یا مذہبی پہچان رکھنے والے مفلسی کا شکار ہو جائیں تو یہ ایک بڑی تباہی کا سبب بن سکتا ہے۔ ہمارے سامنے کئی مثالیں موجود ہیں، ائمہ خطباء اور مدرسین نے اپنی غربت اور حالات سے مجبور ہو کر مذہب تبدیل کر لیے۔ نظیر اکبر آبادی کی اس نظم کا خلاصہ ہے کہ “مفلسی بندے کو کافر کرد یتی ہے”۔ میں کئی ایسے لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے صرف گھر کا چولہا جلانے کے لیے قادیانی اور شیعہ مذہب اختیار کیے۔ مجھے وہ دور یاد ہے جب میرے پاس زندگی کا پہیہ چلانے کے لیے پیسہ نہ تھا تو ناروے کے شیعہ لوگوں نے سب کچھ آفر کر دیا تھا لیکن یہ تو اللہ کی خاص مدد اور خوف خداواندی کے ساتھ ساتھ اپنے مشائخ کی توجہ تھی جس نے حفاظت کی۔ لیکن میری نظروں کے سامنے کئی ایسے چہرے ہیں جنہوں نے یورپ جانے کے لیے قادیانی مذہب بتایا یا شیعہ جماعتوں کی سپانسرشپ قبول کی، بلکہ آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ پاکستان کے ایک انتہائی ہیوی (آج کل سمارٹ) پیر صاحب نے برطانیہ میں اہل تشیع کی مدد سے نیشنلٹی حاصل کی۔

اب دو صورتیں ہو سکتی ہیں، ایک تو لالچ اور دنیا پرستی ہے، دوسری صورت میں واقعی انسان اس قدر مفلس ہوتا ہے کہ عزت بچانا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ہر روز ایسی خبریں آتی ہیں کہ سادات گھرانوں کو اپنے علاج معالجے کے لیے بھی لوگوں کی مدد درکار ہوتی ہے، سیدوں کی بیٹیاں گھروں میں بوڑھی ہو جاتی ہیں، ائمہ و مؤذنین کے بچے پیسے نہ ہونے کے وجہ سے نیا لباس نہیں خرید سکتے، اپنوں کی خوشی غمی میں شریک نہیں ہو سکتے۔ جب کہ اس امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے والوں کےلباس، جوتے اور موبائل فون لاکھوں مالیت کے ہوتے ہیں۔ جب کے پورا محلہ مل کر امام مسجد کو پندرہ ہزار روپے تنخواہ دے کر اسے اپنی غلامی پر مجبور رکھتا ہے۔ امام آج بھی ایک سستی ٹوٹی پھوٹی موٹر بائیک پر تپتے سورج اور کڑکٹی دھوپ میں سفر کرتا ہے جب کہ اس کے نمازی گاڑیوں میں اے سے لگا کر گھومتے ہیں۔ بچہ پیدا ہونے سے لے کر انسان کے مرنے بلکہ بعد از تدفین تک کے مذہبی معاملات و رسوم اسی امام کی مدد سے ممکن ہوتی ہیں لیکن اس امام یا استاذ کی حیثیت ایک ٹشوپیپر سے زیادہ نہیں رہی۔

یہی حال سادات گھرانوں کا ہے۔ حال ہی میں راولپنڈی میں جس سید نے شیعہ مذہب اختیار کیا ہے اور شیعوں کے جلوس میں جا کر سینہ کوبی شروع کر دی ہے وہ کئی سالوں سے “مفلسی” میں مبتلا رہا ہے۔ دیگر سادات علماء نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی ہے۔ شیعہ جماعتیں اسے مدد فراہم کرتی رہی ہیں، ہمارے حضرات اسے فقط گالیاں دینے میں مصروف رہے، نتیجتاً اسے جہاں سے زیادہ مال ملا، اس نے وہ مذہب قبول کر لیا۔ ماضی میں وہ مختلف ہتھکنڈوں سے پیسے ہتھیاتا رہا ہے۔ اس کا یہ جرم اپنی جگہ لیکن مجھے ایسا یقین ہو رہا ہے کہ اسے واقعی پیسوں کی ضرورت ہو گی، لیکن کسی مناسب ذریعے سے اس کی مدد نہیں ہو سکی تو اس نے یہ مکروہ راستہ اختیار کیا۔

اہل اسلام!

نظر رکھیے، کہیں ایسا نہ ہو آپ کی کنجوسی، بخل، خوفِ خدا سے محرومی، ہمسایوں کے حقوق سے عدم واقفیت کسی کو “کفر” تک نہ پہنچا دیے۔ اپنے مذہبی اساتذہ، علماء، ائمہ اور خصوصاً سادات کی مالی مدد کا ضرور اہتمام کریں ، کہیں ایسا نہ ہو یومِ حشر بہت سوں کے کفر و گمراہی کے جرم میں ہمیں “شریکِ جرم” ٹھہرا دیا جائے۔

کتبہ: افتــــخــــــــار الحـســـن رضــوی

12 اکتوبر 2020

IHRizvi